کوانٹم کمپیوٹنگ: سہولت، طاقت اور خدشات کا نیا دور

انسانی تاریخ میں ہر بڑی ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بھی بنایا اور خطرناک بھی۔ بھاپ کے انجن سے لے کر ایٹمی توانائی تک، ہر ایجاد نے ترقی کے ساتھ تباہی کے امکانات بھی پیدا کیے۔ آج کوانٹم کمپیوٹنگ اسی سلسلے کی ایک نئی اور کہیں زیادہ طاقتور کڑی کے طور پر ابھر رہی ہے۔ بظاہر یہ ٹیکنالوجی بیماریوں کے علاج، موسم کی پیش گوئی اور معاشی منصوبہ بندی میں انقلاب لا سکتی ہے، مگر اس کے سائے میں کچھ ایسے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں جو مستقبل کے نظامِ زندگی، بالخصوص مالیاتی نظام اور انسانی پرائیویسی کے لیے سنجیدہ خطرات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹر کی اصل طاقت اس کی غیر معمولی حسابی رفتار ہے۔ جو کام آج کے سپر کمپیوٹرز کو ہزاروں سال میں ممکن ہیں، وہ کوانٹم مشینیں چند منٹوں یا گھنٹوں میں انجام دے سکتی ہیں۔ یہی طاقت مالیاتی نظام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ دنیا کا موجودہ بینکاری اور ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام خفیہ کاری (Encryption) پر قائم ہے۔ یہ خفیہ کاری اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ بعض ریاضیاتی مسائل کو حل کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ لیکن کوانٹم الگورتھمز، خصوصاً بڑے نمبرز کو توڑنے کی صلاحیت، اس مفروضے کو متزلزل کر رہے ہیں۔ اگر کوانٹم کمپیوٹرز عام ہو گئے تو بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز اور حتیٰ کہ ریاستی مالیاتی خزانے بھی غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو انسانی پرائیویسی کا ہے۔ آج ہماری نجی زندگی کا بڑا حصہ ڈیجیٹل شکل میں محفوظ ہے: شناختی ڈیٹا، طبی ریکارڈ، ذاتی گفتگو اور آن لائن سرگرمیاں۔ یہ سب ڈیٹا اسی خفیہ کاری کے سہارے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ کوانٹم کمپیوٹنگ اس دیوار میں دراڑ ڈال سکتی ہے۔ اگر ماضی کا محفوظ شدہ ڈیٹا کوانٹم طاقت سے کھولا جا سکے، تو یہ صرف مستقبل نہیں بلکہ ماضی کی نجی زندگیاں بھی ننگی کر دے گا۔ گویا پرائیویسی کا تصور ہی ایک عارضی وہم ثابت ہو سکتا ہے۔

یہاں ایک اور خطرہ بھی خاموشی سے سر اٹھا رہا ہے: تخریب کار عناصر اور سائبر مجرم۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی سب سے پہلے طاقتور ریاستوں کے ہاتھ میں آتی ہے، مگر جلد ہی اس کے سستے اور محدود ورژن غیر ریاستی عناصر تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ اگر کوانٹم کمپیوٹنگ کی طاقت غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو مالیاتی نظام پر سائبر حملے، عالمی منڈیوں میں مصنوعی اتار چڑھاؤ اور حتیٰ کہ ریاستوں کے درمیان معاشی جنگیں ایک نیا معمول بن سکتی ہیں۔ دہشت گرد تنظیمیں یا منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس اس ٹیکنالوجی کو مالی وسائل حاصل کرنے یا نظام کو مفلوج کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

یہ خدشات محض قیاس آرائیاں نہیں۔ ٹیکنالوجی کی رفتار قانون اور اخلاقیات سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ کوانٹم کمپیوٹنگ کے لیے ابھی عالمی سطح پر کوئی مضبوط اخلاقی یا قانونی فریم ورک موجود نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کوانٹم کمپیوٹر کب طاقتور ہوں گے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس طاقت کو ذمہ داری سے سنبھالنے کے لیے تیار بھی ہیں یا نہیں۔

اس صورتِ حال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں، ماہرینِ سائنس اور مالیاتی ادارے صرف فوائد کے خواب نہ دیکھیں بلکہ خطرات کا ادراک بھی کریں۔ کوانٹم محفوظ خفیہ کاری (Quantum-safe encryption)، بین الاقوامی ضابطے، اور ٹیکنالوجی تک رسائی پر شفاف کنٹرول ناگزیر ہو چکے ہیں۔ بصورتِ دیگر، وہ ٹیکنالوجی جو انسان کے مسائل حل کرنے کے لیے بنائی گئی ہے، خود انسان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کوانٹم کمپیوٹنگ ہمیں ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کر رہی ہے جہاں طاقت اور اخلاقیات کا توازن پہلے سے کہیں زیادہ نازک ہو چکا ہے۔ اگر ہم نے بروقت دانش مندی کا مظاہرہ نہ کیا تو مستقبل کا نظامِ زندگی سہولت سے زیادہ خوف پر قائم ہو سکتا ہے، اور ترقی کا خواب عدمِ تحفظ کے اندیشوں میں بدل سکتا ہے۔