( اصلاحات، سرمایہ کاری کے مواقع اور مضبوط معیشت کی جانب سفر)
کسی بھی ملک کی معیشت کی نبض اس کے کاروباری سیکٹرز اور کمپنیوں کی کارکردگی میں دھڑکتی ہے۔ کمپنیاں محض منافع کمانے والے ادارے نہیں ہوتیں؛ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں، ٹیکس ادا کرتی ہیں، اور قومی پیداوار (GDP) میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کی تشکیل، آپریشنل حکمت عملی، اور سرمایہ حاصل کرنے کے طریقے (جیسے شیئرز جاری کرنا اور شیئر ہولڈرز سے سرمایہ حاصل کرنا) معاشی ترقی کے پہیے کو متحرک رکھتے ہیں۔
تاہم، انفرادی کمپنیوں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ، ایک مضبوط معیشت کے لیے حکومت کی جانب سے مؤثر مالیاتی نظم و نسق ضروری ہے۔
مالیاتی پالیسیوں کا کردار
حکومتیں اپنی معیشت کو مالیاتی پالیسی (Fiscal Policy) اور زرِ مالیاتی پالیسی (Monetary Policy) کے ذریعے منظم کرتی ہیں۔ مالیاتی پالیسی حکومت کے محصولات (ٹیکس) اور اخراجات کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ زرِ مالیاتی پالیسی (جس کا انتظام مرکزی بینک کرتا ہے) شرح سود اور پیسوں کی رسد کو سنبھالتی ہے۔ یہ پالیسیاں معیشت میں استحکام لانے، مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
پاکستانی معیشت کا 2025 کا جائزہ: استحکام کا مرحلہ
2025 میں پاکستانی معیشت ایک نازک موڑ سے گزری۔ ماہرین کے مطابق، معیشت اس وقت سست روی کا شکار نہیں تھی بلکہ اصلاحات اور استحکام کے ایک مشکل مرحلے سے گزر رہی تھی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور عالمی بینک کے پروگرامز کے تحت کی گئی سخت اصلاحات کے نتیجے میں کچھ مثبت اشارے سامنے آئے:
- زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی۔
- شرح سود میں استحکام آیا۔
- حکومت میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
تاہم، ان مثبت پہلوؤں کے باوجود، بلند مہنگائی، قرضوں کا بڑھتا بوجھ، اور پائیدار ترقی کی کم شرح جیسے چیلنجز برقرار رہے۔
2026 کے امکانات اور ترقی کی راہیں
2026 کے مالی سال کے بارے میں امکانات نسبتاً روشن ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت کئی اداروں نے جی ڈی پی (GDP) نمو میں اضافے کا تخمینہ لگایا ہے۔ سیاسی استحکام (جو کہ معاشی ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے) کی صورت میں، غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھنے اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آنے کی امید ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق، عوام کا ایک بڑا حصہ بھی 2026 میں بہتر معاشی حالات کی امید رکھتا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر کی ترقی بھی معیشت کے لیے ایک بڑا سہارا بن سکتی ہے۔
پاکستان معیشت کو کیسے مستحکم کرسکتا ہے؟
پائیدار معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ عارضی اقدامات سے ہٹ کر گہری اور جرات مندانہ اصلاحات کی جائیں:
- ٹیکس بیس کو وسیع کرنا: نئے ٹیکس لگانا حل نہیں، بلکہ ٹیکس نیٹ میں ان لوگوں کو لانا ضروری ہے جو اب تک ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔
- برآمدات پر توجہ: درآمدات پر انحصار کم کرکے اور برآمدات کو بڑھا کر تجارتی خسارے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
- توانائی کے شعبے میں اصلاحات: گردشی قرضے (Circular Debt) کے مسئلے کو حل کرنا اور توانائی کی لاگت کو کم کرنا صنعتی ترقی کے لیے کلیدی ہے۔
- سیاسی استحکام: معاشی پالیسیوں میں تسلسل اور سیاسی استحکام غیر یقینی کی صورتحال کو کم کرتا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ، پاکستان کی معیشت میں استحکام کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے لیے حکومتی سطح پر مضبوط ارادے، مستقل مزاجی، اور جامع اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ 2026 اور اس کے بعد ملک پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
