وہ دروازہ جسے کھولا نہیں گیا— بس دکھا دیا گیا۔ فضا رک سی گئی۔ آگ نظر نہ آتی تھی، مگر اس کی موجودگی روح پر وزن بن کر اتر رہی تھی۔
یہاں کوئی اعلان نہ تھا، کوئی شور نہیں— صرف انجام اپنی پوری سچائی کے ساتھ موجود تھا۔
پہلے وہ لوگ دکھائی دیے جن کی زبانیں ان کے وجود سے الگ ہو کر لٹک رہی تھیں۔
وہ بول نہیں رہے تھے، کیونکہ ان کے لفظ اب ان کے خلاف گواہی بن چکے تھے۔
ان کے چہرے مانوس تھے— جیسے وہ زمین پر ہر روز ملتے ہوں۔
پھر ایک اور گروہ نظر آیا— پیٹوں میں بوجھ بھرے، ہاتھوں میں وہی کچھ اٹھائے جو وہ دنیا میں جمع کرتے رہے تھے۔
وہ کھا رہے تھے، اور وہی اندر آگ بن جاتا تھا۔
کوئی ان پر ظلم نہ کر رہا تھا—وہ خود اپنے عمل میں قید تھے۔
ذرا آگےایک اور منظر تھا— جہاں آگ نہیں، شرمندگی جل رہی تھی۔
نگاہیں جھکی ہوئی، جسم بے ترتیب، قربت بھی عذاب بن چکی تھی۔
یہ وہ تھے جنہوں نے حد کو بوجھ سمجھا، اور خواہش کو قانون۔
پھر چند اور چہرے اجمال میں دکھائے گئے—کسی کے سرپتھروں سے کچلے جا رہے تھے
کیونکہ سجدہ ان پر بھاری تھا۔
کسی کے ہونٹوں میں انگارے ڈالے جا رہے تھے کیونکہ وہ کمزور کا حق نگل گئے تھے۔
کسی کے سامنے پاک گوشت رکھا تھا، مگر وہ سڑا ہوا چن رہے تھے— کیونکہ عادت ذوق بن چکی تھی۔
یہ سب ناموں کے بغیر تھا، کیونکہ یہاں نام نہیں کردار بولتے تھے۔
اور اس سب کے سامنے نبی ﷺ کھڑے تھے— نہ فیصلے سناتے ہوئے، نہ سوال اٹھاتے ہوئے—صرف گواہ۔
یہ سب اندر جانے کے لیے نہیں تھا، بلکہ زمین پر رک جانے کے لیے تھا۔
دروازہ بند رہا، مگر پیغام کھل چکا تھا— کہ جہنم اچانک نہیں آتی، وہ انسان کے ساتھ آہستہ آہستہ تیار ہوتی ہے۔
اور جو وقت پر رک جائے— اس کے لیے یہ سب صرف ایک منظر رہتا ہے۔