ورلڈ اکنامک فورم (WEF) 2026: مکالمے کی روح یا عالمی تضادات کی نمائش؟

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں 19 سے 23 جنوری 2026 تک منعقد ہونے والا ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کا 56 واں سالانہ اجلاس بظاہر ایک نہایت خوش آئند نعرے—“مکالمے کی روح” (A Spirit of Dialogue)—کے ساتھ عالمی رہنماؤں، کارپوریٹ ایگزیکٹوز اور پالیسی سازوں کو ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ عالمی حالات میں یہ روح واقعی سانس لے سکتی ہے، یا یہ محض ایک خوش نما تصور بن کر رہ گئی ہے؟

دنیا اس وقت جس شدت کے سیاسی، عسکری اور معاشی خلفشار سے گزر رہی ہے، اس کے تناظر میں ڈیووس کے بلند بانگ مقاصد حقیقت سے زیادہ خواہشات کا عکس دکھائی دیتے ہیں۔

فورم کے پروگرام کو پانچ بڑے عالمی چیلنجوں کے گرد ترتیب دیا گیا، جن میں بلاشبہ انسانی مستقبل سے جڑے بنیادی سوالات شامل تھے۔

جغرافیائی کشیدگی کے باوجود تعاون، معاشی ترقی کے نئے ذرائع، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز کا ذمہ دارانہ استعمال، اور ماحولیاتی حدود کے اندر خوشحالی—یہ سب ایسے موضوعات ہیں جن پر عالمی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔

تاہم اصل مسئلہ موضوعات کی اہمیت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا یہ مباحث طاقت کے عدم توازن، سیاسی مفادات اور عالمی ناانصافیوں کے بوجھ تلے دب کر محض گفت و شنید تک محدود تو نہیں رہ جاتے؟

ڈیووس 2026 کا اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب دنیا یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگوں، ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور عالمی طاقتوں کے درمیان سرد و گرم کشمکش کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ ان حالات میں فورم کا “غیر جانبدار مکالمہ” خود اپنے دعوؤں کے بوجھ تلے آتا نظر آیا۔

ایک نمایاں مثال ایران سے متعلق پیش آنے والا واقعہ ہے، جہاں ایک نمائندے کی موجودگی کو “نامناسب” قرار دے کر ایک سیشن میں شرکت سے روکا گیا۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ڈیووس جیسے فورمز میں بھی مکالمہ حدود کا پابند ہے—اور یہ حدود طاقت ور بیانیے طے کرتے ہیں، اصول نہیں۔

امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی، تکنیکی اور اسٹریٹجک کشمکش نے عالمی تعاون کے تصور کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں ڈیووس میں ہونے والی بات چیت اکثر عملی نتائج دینے کے بجائے سفارتی بیانات اور کارپوریٹ وعدوں تک محدود رہتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ گلوبل ساؤتھ—یعنی ترقی پذیر دنیا—میں ورلڈ اکنامک فورم کو اب بھی ایک “اشرافیہ کا کلب” سمجھا جاتا ہے، جہاں عالمی ایجنڈا ان ممالک کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے جو پہلے ہی طاقت، سرمایہ اور اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ قرضوں کے بحران، موسمیاتی مالی اعانت، اور غربت جیسے مسائل جن کا سامنا ترقی پذیر ممالک کو ہے، فورم کے مباحث میں اکثر ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔

عالمی معیشت اس وقت افراطِ زر، کساد بازاری کے خدشات اور سپلائی چین کی رکاوٹوں جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ اگرچہ فورم میں “ترقی کے نئے ذرائع” کی بات کی گئی، مگر یہ واضح نہ ہو سکا کہ آیا یہ تجاویز عملی سطح پر کمزور معیشتوں، مقروض ریاستوں اور موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کے لیے کوئی قابلِ عمل راستہ فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ورلڈ اکنامک فورم 2026 نے اہم عالمی چیلنجوں کو اجاگر کیا اور مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ محض مکالمہ، جب تک اس کے ساتھ سیاسی عزم، طاقت کی منصفانہ تقسیم اور عملی اقدامات نہ ہوں، عالمی بحرانوں کا حل نہیں بن سکتا۔

جب تک بڑی طاقتیں اپنے مفادات کو عالمی بھلائی پر ترجیح دیتی رہیں گی، اور فورمز جیسے ڈیووس حقیقی شمولیت کے بجائے علامتی نمائندگی تک محدود رہیں گے، تب تک “مکالمے کی روح” ایک خوبصورت نعرہ تو ہو سکتی ہے—حقیقت نہیں۔

عالمی بحرانوں کے اس دور میں، دنیا کو کانفرنس ہالز میں ہونے والی گفتگو سے کہیں بڑھ کر جرأت مندانہ فیصلوں، منصفانہ تعاون اور اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر، ڈیووس ہر سال کی طرح اس بار بھی سوالات تو اٹھائے گا—مگر جوابات وقت کی دھول میں گم ہو جائیں گے۔