سورۃ البقرہ کی آیت 177 قرآن مجید کی اُن جامع ترین آیات میں سے ہے جو دین کو محض عبادات، ظاہری علامات اور سمتوں تک محدود کرنے کے بجائے ایک مکمل فکری، اخلاقی، سماجی اور معاشی نظام کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ آیت اُس پس منظر میں نازل ہوئی جب قبلہ کی تبدیلی کو بنیاد بنا کر دین کی اصل روح کو پس منظر میں دھکیلا جا رہا تھا۔ قرآن نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ نیکی مشرق و مغرب کی طرف رخ کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ، آخرت، وحی اور نبوت پر ایمان، اس ایمان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سماجی احساس، مالی ایثار، اخلاقی دیانت اور مشکل حالات میں ثابت قدمی کا نام ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے آج کی مسلم دنیا کا بحران سمجھ میں آتا ہے۔
آج کی مسلم ریاستیں کاغذوں میں اسلامی ہیں، آئین میں اسلام درج ہے، جمعے کی تعطیل ہے، مساجد آباد ہیں، مگر ریاستی سطح پر عدل ناپید، امانت مفقود اور جواب دہی کا تصور کمزور ہے۔ اقتدار کو غنیمت، وسائل کو ذاتی ملکیت اور عوام کو محض رعایا سمجھا جاتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان محض عقیدہ نہیں بلکہ وہ اخلاقی قوت ہے جو حکمران کو ظالم بننے سے روکتی ہے، اداروں کو دیانت سکھاتی ہے اور ریاست کو عوام کی خدمت پر مجبور کرتی ہے۔ جہاں عدل نہ ہو وہاں قبلہ درست ہونے کے باوجود نیکی کا دعویٰ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
اسی آیت میں نیکی کا دوسرا بڑا معیار مال کا درست مصرف ہے۔ قرآن رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور محروم طبقات کا ذکر کر کے دراصل ایک معاشی فلسفہ پیش کرتا ہے، جس کی بنیاد دولت کی گردش اور سماجی توازن پر ہے۔ مگر آج مسلم معاشروں میں دولت چند خاندانوں اور طبقوں میں سمٹ چکی ہے، جبکہ اکثریت مہنگائی، بے روزگاری اور قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ زکوٰۃ موجود ہے مگر نظام نہیں، صدقات ہیں مگر ریاستی سطح پر سماجی انصاف کا کوئی مضبوط ڈھانچہ نظر نہیں آتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ عبادت گاہوں کے سائے میں بھوک، افلاس اور محرومی پل رہی ہے، جو قرآن کے تصورِ نیکی سے صریح انحراف ہے۔
اخلاقی سطح پر بھی صورت حال مختلف نہیں۔ نمازیں ہیں مگر معاملات میں جھوٹ ہے، وعدے ہیں مگر وفا نہیں، دینی زبان ہے مگر صبر، تحمل اور برداشت کمزور پڑ چکے ہیں۔ آیت 177 میں صبر کو خاص طور پر تنگی، بیماری اور جنگ کے مواقع پر ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جہاں قوموں کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ آج مسلم دنیا آزمائشوں میں گھری ہوئی ہے مگر داخلی انتشار، فرقہ واریت اور ذاتی مفادات نے اجتماعی صبر اور حکمت کو کمزور کر دیا ہے۔
یہی اخلاقی بحران ہمیں بیت المقدس کے مسئلے میں بھی صاف نظر آتا ہے۔ بیت المقدس محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ ایک اخلاقی امتحان ہے۔ یہود کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب دین کو اخلاق کے بجائے قومیت، برتری اور طاقت کا ہتھیار بنا لیا جائے تو انجام ظلم، استکبار اور فساد کی صورت میں نکلتا ہے۔ آج اسرائیلی ریاست اسی ذہنیت کی عملی شکل ہے جہاں مذہب کے نام پر قتل، قبضے اور نسل کشی کو جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ مسلمانوں کا احتساب بھی ناگزیر ہے۔ کیا ہم نے بیت المقدس کو واقعی قرآن کے معیارِ نیکی کی روشنی میں اپنایا؟ کیا ہم نے مظلوم فلسطینیوں کے لیے مؤثر معاشی، سیاسی اور اخلاقی کردار ادا کیا یا صرف نعروں، مذمتی بیانات اور وقتی جذبات پر اکتفا کیا؟
قرآن جس نیکی کی بات کرتا ہے وہ صرف قبلے کے دفاع کا نام نہیں بلکہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے، عہد نبھانے، قربانی دینے اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔ اگر مسلم دنیا خود عدل، دیانت اور سماجی انصاف کا نمونہ بن جاتی تو بیت المقدس کا مسئلہ صرف ایک علاقائی تنازع نہ رہتا بلکہ پوری انسانیت کا اخلاقی سوال بن جاتا۔ آیت 177 کے آخر میں قرآن واضح فیصلہ سناتا ہے کہ سچے اور متقی لوگ وہی ہیں جو اس جامع معیار پر پورا اترتے ہیں۔ یہ فیصلہ کسی قوم، ریاست یا گروہ کے حق میں نہیں بلکہ کردار کے حق میں ہے۔ مسلم دنیا اگر واقعی اپنے زوال سے نکلنا اور بیت المقدس کی امانت کا حق ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے قبلوں، نعروں اور علامتوں سے آگے بڑھ کر قرآن کے اخلاقی اور سماجی منشور کو اپنانا ہوگا، کیونکہ تاریخ یہ گواہی دیتی ہے کہ قبلہ بدلنے سے نقشے تو بدل سکتے ہیں، مگر کردار بدلے بغیر تقدیریں نہیں بدلتیں۔
سورۃ البقرہ – آیت 177
لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ
اردو ترجمہ:
نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ نیکی تو اس کی ہے جو اللہ پر، یومِ آخرت پر، فرشتوں پر، کتاب پر اور نبیوں پر ایمان لائے، اور اللہ کی محبت میں مال دے قرابت داروں کو، یتیموں کو، مسکینوں کو، مسافروں کو، مانگنے والوں کو، اور غلاموں کی گردنیں چھڑانے میں، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے، اور جب عہد کریں تو اپنے عہد کو پورا کرنے والے ہوں، اور تنگی، بیماری اور جنگ کے وقت صبر کرنے والے ہوں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی متقی ہیں۔