فلسفہ رواقیت (Stoicism) قدیم یونانی و رومی تاریخ کا ایک اہم ترین فلسفہ ہے جس نے صدیوں تک انسانی اخلاقیات اور طرزِ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔رواقیت کا آغاز تیسری صدی قبل مسیح (تقریباً 300 ق م) میں ایتھنز سے ہوا۔ اس کے بانی زینو (Zeno of Citium) تھے۔ زینو ایک جہاز راں تھے جن کا سامان ایک بحری حادثے میں تباہ ہو گیا تھا۔ اس نقصان نے انہیں فلسفے کی طرف مائل کیا۔ زینو ایتھنز میں ایک عوامی مقام پر درس دیا کرتے تھے جسے "Stoa Poikile" (رنگین برآمدہ) کہا جاتا تھا۔ اسی "Stoa" کی نسبت سے اس مکتبہ فکر کا نام "Stoicism" یا "رواقیت" پڑا۔ یہ فلسفہ یونان سے ہوتا ہوا سلطنتِ روما تک پہنچا، جہاں اسے بے پناہ مقبولیت ملی۔ اس کے مشہور ترین پیروکاروں میں سینیکا (Seneca)، اپیکٹیٹس (Epictetus) اور عظیم رومی بادشاہ مارکس اوریلیئس (Marcus Aurelius) شامل ہیں۔
رواقیت صرف نظریاتی فلسفہ نہیں بلکہ " انسان کے لے جینے کا ایک فن" ہے۔ اس کے بنیادی مباحث درج ذیل ہیں:
1. ضبطِ نفس اور منطق (Logic over Emotion) رواقیوں کا ماننا ہے کہ دکھ اور پریشانی کی اصل وجہ بیرونی حالات نہیں، بلکہ ان حالات کے بارے میں ہمارا اپنا ردِعمل ہے۔ اگر ہم اپنے جذبات پر قابو پا لیں اور منطق یعنی علم و حکمت سے کام لیں، تو ہم ذہنی سکون حاصل کر سکتے ہیں۔
2. دائرہ اختیار (Dichotomy of Control)
یہ اس فلسفے کا سب سے اہم اصول ہے۔ ان کے مطابق چیزیں دو طرح کی ہوتی ہیں: ایک وہ جو ہمارے قبضے میں ہیں: ہمارے خیالات، ہمارے ارادے اور ہمارے افعال۔ دوسری وہ جو ہمارے قبضے میں نہیں ہیں: دوسروں کی رائے، موسم، معیشت، اور موت۔ رواقی کہتے ہیں کہ انسان کو صرف ان چیزوں پر توجہ دینی چاہیے جنہیں وہ بدل سکتا ہے۔
3. فطرت کے مطابق زندگی (Living in Accordance with Nature) فطرت سے مراد کائنات کا عقلی نظام ہے۔ ایک رواقی شخص تقدیر پر شکوہ کرنے کے بجائے اسے تسلیم کرتا ہے اور کائنات کے قوانین کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر زندگی گزارتا ہے۔
4. چار بنیادی خوبیاں (Four Cardinal Virtues)
رواقی زندگی گزارنے کے لیے چار صفات کو لازمی قرار دیتے ہیں:
حکمت (Wisdom): پیچیدہ حالات میں صحیح فیصلے کی طاقت۔
عدل (Justice): دوسروں کے ساتھ انصاف اور مہربانی۔
شجاعت (Courage): مشکلات کا ہمت سے سامنا کرنا۔
اعتدال (Temperance): اپنی خواہشات پر قابو پانا۔
اس فلسفے کا مقصد "Udaimonia" (خوشی یا حقیقی فلاح) اور "Ataraxia" (ذہنی سکون یا بے فکری) حاصل کرنا ہے۔ ایک رواقی شخص طوفان کے درمیان بھی پرسکون رہتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کا اندرونی سکون بیرونی حالات کا محتاج نہیں ہے۔
فلسفہ رواقیت اگرچہ ایک انسانی کاوش ہے، لیکن اس کے بہت سے اخلاقی اور عملی پہلو آفاقی سچائیوں پر مبنی ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآنی تعلیمات اور رواقی اصولوں کے درمیان کئی مقامات پر حیرت انگیز مماثلت نظر آتی ہے۔
ذیل میں رواقیت کی بنیادی تعلیمات کا قرآنی تناظر میں موازنہ پیش کیا گیا ہے:
1. تقدیر کی رضا اور تسلیم و رضا
رواقی فلسفے کا بنیادی ستون یہ ہے کہ کائنات ایک عقلی نظام کے تحت چل رہی ہے اور انسان کو "فطرت کے مطابق" (یعنی تقدیر پر راضی) رہنا چاہیے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"کوئی مصیبت زمین میں یا تمہاری جانوں میں نہیں آتی مگر اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے تاکہ تم اس پر غم نہ کھاؤ جو تم سے فوت ہو جائے اور اس پر نہ اتراؤ جو وہ تمہیں عطا کرے" (سورۃ الحدید: 22-23)۔
یہ آیت بالکل وہی مفہوم ادا کرتی ہے جو رواقیت کا "دائرہ اختیار" ہے، یعنی جو گزر گیا اس پر افسوس نہ کرنا کیونکہ وہ اللہ کے حکم سے تھا۔
2. صبر اور استقامت (Fortitude)
رواقیوں کے نزدیک مصائب انسان کے کردار کو نکھارتے ہیں۔ مارکس اوریلیئس کہتا تھا کہ "رکاوٹ ہی راستہ ہے"۔
قرآن مجید میں صبر کو مومن کا ہتھیار قرار دیا گیا ہے۔
"بے شک ہم تمہیں آزمائیں گے خوف، بھوک اور جان و مال کے نقصان سے، اور خوشخبری سنا دو صبر کرنے والوں کو" (سورۃ البقرہ: 155)۔
رواقی شجاعت اور قرآنی صبر دونوں کا مقصد انسان کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے اسے اندرونی طور پر مضبوط بنانا ہے۔
3. دنیا کی بے ثباتی اور زہد
رواقی فلاسفر سینیکا اور اپیکٹیٹس دنیاوی مال و متاع کو "عارضی" اور "بے وقعت" قرار دیتے ہیں تاکہ انسان ان کے چھن جانے پر دکھی نہ ہو۔
قرآن دنیاوی زندگی کو "متاع الغرور" (دھوکے کا سامان) کہتا ہے اور تاکید کرتا ہے کہ اصل زندگی آخرت کی ہے۔
"اور یہ دنیا کی زندگی کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں" (سورۃ العنکبوت: 64)۔
رواقیوں کا زہد اور اسلام کا تصورِ دنیا دونوں انسان کو مادیت پرستی کی غلامی سے نکال کر بلند تر مقصد کی طرف راغب کرتے ہیں۔
4. ضبطِ نفس اور تزکیہ نفس (Temperance)
رواقی فلسفہ جذبات (غصہ، لالچ، شہوت) پر عقل کی حکمرانی کا علمبردار ہے۔ ان کے نزدیک جذبات کی پیروی انسان کو جانور بنا دیتی ہے۔
قرآن میں نفس پر قابو پانے والوں کے لیے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔
"اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا، تو جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے" (سورۃ النازعات: 40-41)۔
رواقی جسے "Logos" (عقل) کی پیروی کہتے ہیں، قرآن اسے "تقویٰ" اور "تزکیہ" سے تعبیر کرتا ہے۔
5. انسانی مساوات اور بھائی چارہ
رواقی "Cosmopolitanism" (عالمی شہریت) پر یقین رکھتے تھے کہ تمام انسان ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں۔
قرآن نے اس تصور کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا:
"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہارے قبیلے اور قومیں بنائیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، تم میں سے معزز وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے" (سورۃ الحجرات: 13)۔
اگرچہ رواقیت ایک لادینی (Secular) اخلاقی نظام ہے اور قرآن ایک الہامی کتاب، مگر دونوں کا مقصد انسان کو "ذہنی سکون" اور "اخلاقی بلندی" عطا کرنا ہے۔ جہاں رواقیت عقلِ انسانی پر ختم ہو جاتی ہے، وہاں قرآن عقل کو وحی کے نور سے جوڑ کر اسے ایک ابدی مقصد دے دیتا ہے۔
جدید دور میں اگر ایک مسلمان رواقی اصولوں (جیسے ضبطِ نفس اور شکر گزاری) کو اپنائے، تو وہ اپنے ایمان کو مزید مضبوطی سے عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔