اسلام آباد مذاکرات: قرآن مجید کا زریں اصول "وَالصُّلْحُ خَيْرٌ" اور پاکستان کا کردار

 

تحریر: ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب

اس وقت پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں، جہاں دو بڑے حریف، امریکہ اور ایران، ایک میز پر بیٹھے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سیاسی اور سفارتی بیٹھک ہے، لیکن اگر ہم اسے اسلامی تعلیمات اور قرآنِ حکیم کے آئینے میں دیکھیں تو یہ پاکستان کی جانب سے ایک عظیم دینی فریضے کی ادائیگی ہے۔
قرآن مجید کا زریں اصول ہے: "وَالصُّلْحُ خَيْرٌ" (اور صلح بہترین چیز ہے)۔ سورۃ النساء کی یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جنگ اور تصادم کے مقابلے میں تصفیہ اور مفاہمت ہمیشہ برتر راستہ ہے۔ پاکستان نے اسی قرآنی فلسفے کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد بناتے ہوئے دو متحارب گروہوں کے درمیان "خیر" کی راہ نکالی ہے۔
اسلامی ریاست کی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآنِ کریم سورۃ الحجرات میں واضح حکم دیتا ہے:
"اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو... پھر اگر وہ رجوع کریں تو عدل کے ساتھ ان کے درمیان اصلاح کر دو۔"
اگرچہ اس تنازع میں ایک فریق غیر مسلم ہے، مگر اسلام کا "اصولِ امن" آفاقی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے "میثاقِ مدینہ" اور "صلحِ حدیبیہ" کے ذریعے دنیا کو دکھایا کہ امن کے قیام کے لیے دشمن سے بات چیت کرنا اور بظاہر مشکل شرائط پر بھی صلح کرنا کتنا بڑا اہم ہے۔ پاکستان آج اسی سنتِ نبوی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک "پل" کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض سیاسی نمبر گیم نہیں ہیں، بلکہ:
  1. امت کی بقا: ایران ایک برادر اسلامی ملک ہے، اس کی سلامتی خطے کے استحکام سے جڑی ہے۔
  2. انسانیت کی خدمت: جنگ کی صورت میں کروڑوں معصوم انسان لقمہ اجل بن سکتے ہیں، اور قرآن کہتا ہے کہ "جس نے ایک انسان کی جان بچائی، اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔"
  3. ثالث کا عدل: اسلام مطالبہ کرتا ہے کہ ثالث (Mediator) غیر جانبدار اور عادل ہو۔ پاکستان اس وقت دونوں فریقین کا اعتماد جیت کر اسی "عدل" کے منصب پر فائز ہے۔
عالمی دانشور اسے ایک سیاسی کامیابی کہہ رہے ہیں، لیکن ایک مسلمان کی نظر میں یہ "اصلاح بین الناس" کی وہ کوشش ہے جس کا اجر اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے۔ اگر پاکستان ان مذاکرات کے ذریعے خطے کو جنگ کی آگ سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف سفارتی فتح ہوگی بلکہ قرآن کے حکم "والصلح خیر" کی عملی تفسیر بھی ثابت ہوگی۔
آج اسلام آباد سے اٹھنے والی امن کی یہ آواز دراصل اس قرآنی پیغام کی گونج ہے کہ انسانیت کی بقا جنگ میں نہیں، بلکہ مکالمے اور صلح میں ہے۔