جب انسان سب کچھ جان لے گا… !


انسان ہمیشہ سے تلاش میں رہا ہے، مگر اس کی تلاش کی نوعیت بدلتی رہی ہے۔ کبھی وہ ستاروں کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا، کبھی سمندر کی گہرائیوں میں جھانکتا تھا، اور کبھی اپنے وجود کے بھید کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ مگر اب وہ ایک ایسے دور کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں اس کی تلاش ایک عجیب موڑ لے چکی ہے۔ اس نے اپنی عقل کو وسعت دی ہے، اپنی نگاہ کو دور تک پہنچایا ہے، اور Artificial Intelligence کے ذریعے گویا اپنی فکر کو مشینوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب علم اس کے لیے محض ایک کوشش نہیں رہا، بلکہ ایک لمحے میں حاصل ہونے والی شے بن چکا ہے۔

وہ زمانہ دور نہیں جب انسان Brain-Computer Interface کے ذریعے اپنے ذہن اور مشین کے درمیان فاصلہ ختم کر دے گا، جب Virtual Reality اس کے لیے ایک نئی “حقیقت” تخلیق کرے گی، اور Genetic Engineering اسے اپنی ہی تخلیق میں تبدیلی کا اختیار دے گی۔ بظاہر یہ سب انسان کی فتح کی داستان معلوم ہوتی ہے—ایک ایسی کامیابی جس میں اس نے فطرت کے رازوں کو کھول دیا ہے اور اپنے گرد ایک نئی دنیا تعمیر کر لی ہے۔ مگر اس چمکتی ہوئی سطح کے نیچے ایک خاموش خلا پیدا ہو رہا ہے، ایک ایسا خلا جسے نہ کوئی الگورتھم بھر سکتا ہے اور نہ کوئی ڈیٹا۔

یہ خلا دراصل ایک سوال کا خلا ہے—وہ سوال جو جتنا سادہ ہے، اتنا ہی گہرا بھی: “میں کیوں ہوں؟”

انسان نے “کیا” اور “کیسے” کے جوابات تو ڈھونڈ لیے ہیں، مگر “کیوں” کا جواب اس کی گرفت سے نکلتا جا رہا ہے۔ وہ کائنات کو ناپ سکتا ہے، مگر اپنے وجود کے وزن کو نہیں سمجھ سکتا۔ وہ روشنی کی رفتار کو جانتا ہے، مگر اپنے دل کی بےچینی کی رفتار کو نہیں پہچانتا۔ جتنا وہ باہر کی دنیا کو مسخر کرتا ہے، اتنا ہی اپنے اندر سے اجنبی ہوتا جاتا ہے۔ اور شاید پہلی بار، اپنی ہی تخلیق کردہ ذہانتوں کے درمیان کھڑے ہو کر اسے یہ احساس ہوگا کہ “علم” اور “معنی” دو الگ دنیائیں ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی فکر ایک نیا رخ اختیار کرے گی۔ مادیت اپنی انتہا کو پہنچ کر خود اپنے سوالات کھڑے کرے گی۔ الحاد، جس نے ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھا، آخرکار خود اپنے وجود پر شک کرنے لگے گا۔ انسان یہ محسوس کرے گا کہ اگر سب کچھ محض اتفاق ہے تو اس کے اندر یہ شدید طلبِ معنی کیوں ہے؟ اگر زندگی کا کوئی مقصد نہیں تو پھر یہ بےچینی کس چیز کی طرف اشارہ کرتی ہے؟

یہاں سے ایک نئی جستجو جنم لے گی—نہ رسم کی، نہ روایت کی، بلکہ حقیقت کی جستجو۔ اور اسی جستجو کے درمیان قرآن کا بیانیہ ایک بار پھر انسان کے سامنے آئے گا، مگر اس بار محض ایک مذہبی متن کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے جواب کے طور پر جو اس کے سب سے گہرے سوال کو مخاطب کرتا ہے۔ قرآن انسان کو یہ نہیں کہتا کہ وہ آنکھیں بند کر لے، بلکہ اسے کائنات میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، اپنے اندر جھانکنے کی تلقین کرتا ہے، اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اس وسیع کائنات میں ایک بے مقصد ذرہ نہیں بلکہ ایک معنی خیز وجود ہے۔

جب انسان آفاق میں پھیلی ہوئی ترتیب کو دیکھے گا اور انفس میں چھپی ہوئی بےچینی کو محسوس کرے گا، تو شاید پہلی بار یہ دونوں راستے ایک نقطے پر آ کر ملیں گے۔ اسے محسوس ہوگا کہ یہ کائنات محض ایک اندھی قوت کا نتیجہ نہیں، اور نہ ہی اس کا اپنا وجود کسی حادثے کا کھیل ہے۔ یہ احساس آہستہ آہستہ ایک یقین میں بدلنے لگے گا—ایک ایسا یقین جو نہ جبر سے پیدا ہوگا اور نہ وراثت سے، بلکہ مشاہدے اور شعور کے امتزاج سے جنم لے گا۔

اور پھر، اس سب کے درمیان، ایک لمحہ آئے گا—خاموش، مگر فیصلہ کن—جب انسان اپنی تمام تر ترقی، اپنی تمام تر ایجادات، اور اپنی تمام تر معلومات کے ساتھ کھڑا ہو کر خود سے یہ سوال کرے گا: اگر میں سب کچھ جانتا ہوں، تو پھر بھی میں مطمئن کیوں نہیں ہوں؟ اگر میں نے دنیا کو سمجھ لیا ہے، تو میں خود کو کیوں نہیں سمجھ پایا؟

شاید اسی لمحے اسے پہلی بار یہ احساس ہوگا کہ اصل مسئلہ “کم علم ہونا” نہیں تھا، بلکہ “صحیح سوال نہ پوچھنا” تھا۔

اور جب یہ سوال پوری شدت کے ساتھ اس کے اندر گونجے گا، تو ایک صدا—جو صدیوں سے موجود ہے مگر اب پہلے سے زیادہ واضح محسوس ہوگی—اس کے شعور کو جھنجھوڑ دے گی:

"أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ" (سورۃ المؤمنون 115)

ترجمہ: “کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے، اور تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟”