تحریر: ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب
ہمارے مدارسِ دینیہ صدیوں سے علومِ عربیہ کے امین رہے ہیں۔ نحو، صرف اور بلاغت کی جو تعلیم مدارس کے نصاب میں شامل ہے ، وہ کسی اورعصری درسگاہوںکو نصیب نہیں۔ لیکن آج کے بدلتے ہوئے سائنسی تناظر میں ہمیں ایک سنجیدہ سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے: کیا ہمارا عربی نصاب اور طریقۂ تدریس ان جدید لسانی تحقیقات سے ہم آہنگ ہے جو آج کی دنیا میں ایک باقاعدہ "سائنس" بن چکی ہیں؟
آج دنیا "علم اللسان" (Linguistics) کو ایک تجرباتی سائنس کے طور پر پڑھ رہی ہے۔ عالمِ عرب کے نامور شخصیتوں نے اس میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں مثلاً ڈاکٹر ابراہیم انیس، ڈاکٹر تمام حسان اور ڈاکٹر کمال بشر نے اپنی زندگیاں اس کام کے لیے وقف کر دیں کہ وہ عربی زبان کو قدیم خشک اورجامد قواعد کے ڈھانچے سے نکال کر ایک متحرک اور سائنسی علم کے طور پر پیش کریں۔ جن سے ہمارے اہل علم خاص کر مدارس دینیہ کے علماء کرام کا واقف ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
عربی زبان محض ایک ذریعہِ ابلاغ نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ معجزہ ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالیٰ نے لیا ہے۔ ہمارے مدارس اور جامعات میں صدیوں سے لغت، نحو اور صرف کے اماموں، جیسے خلیل، سیبویہ، ابنِ جنی اور زمخشری کے کام کو مشعلِ راہ مانا جاتا رہا ہے۔ بلا شبہ، ان اسلاف کا کام عربی زبان کی بنیاد ہے۔ لیکن بیسویں صدی میں مصر اور دیگر عرب ممالک میں علمِ زبان (Linguistics) کے افق پر چند ایسے علماء نمودار ہوئے جنہوں نے اس قدیم ورثے کو جدید سائنسی اصولوں کی روشنی میں پرکھا اور دنیا کو بتایا کہ عربی زبان کے اسرار صرف قواعد کی کتابوں تک محدود نہیں ہیں۔
ان میں سب سے پہلا اور بڑا نام ڈاکٹر ابراہیم انیس کا ہے۔ وہ "امامِ لسانیاتِ جدید" کہلاتے ہیں۔ انہوں نے روایتی نحو کی منطقی بحثوں سے ہٹ کر زبان کا 'صوتیاتی' (Phonetic) جائزہ لیا۔ ان کی تصانیف جیسے "الأصوات اللغوية" اور "من أسرار اللغة" ہمارے علماء کے لیے مطالعہ کے نئے گوشے وا کرتی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اعراب صرف معنی بدلنے کے لیے ہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم انیس نے یہ انقلابی نظریہ پیش کیا کہ اعراب کا ایک بڑا مقصد کلام میں صوتی نغمگی اور روانی پیدا کرنا ہے۔
ان کے بعد ڈاکٹر تمام حسان کا نام آتا ہے۔ ان کی کتاب "اللغة العربية: معناها ومبناها" عربی زبان کے طالب علموں کے لیے ایک ایسی بصیرت فراہم کرتی ہے جو روایتی شرحوں میں مفقود ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عربی جملے کی تفہیم صرف 'عامل' پر موقوف نہیں، بلکہ اس کے پیچھے صوتی، معنوی اور نحوی قرائن کا ایک پورا نظام کارفرما ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر کمال بشر اور ڈاکٹر عبد الصبور شاہین نے قرآن کریم کی قراتوں کا جو سائنسی اور صوتی مطالعہ پیش کیا، وہ ہمارے قراء اور مفسرین کے لیے علم کا ایک نیا خزانہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لہجوں کا اختلاف محض تلفظ کا فرق نہیں بلکہ اس کے پیچھے لسانی ارتقاء کی ایک طویل تاریخ ہے۔
ہمارے علماء کرام کے لیے یہ بات لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا ہم صرف "کافیہ" اور "شرح جامی" کی منطقی بحثوں تک محدود رہیں گے؟ جبکہ جدید دنیا عربی کے صوتیاتی نظام (Phonetics)، نفسیاتی لسانیات (Psycholinguistics) اور کمپیوٹیشنل لسانیات (Computational Linguistics) پر کام کر رہی ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں جانیں گے کہ زبان ایک سماجی اور نفسیاتی مظہر ہے، ہم جدید ذہن کو قرآن و سنت کی زبان سے متاثر نہیں کر پائیں گے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے دینی اور علمی حلقوں میں ابھی تک ان جدید عرب ماہرینِ لسانیات کے کام کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق تھے۔ ہمارے علماء، جو عربی زبان سے عشق کی حد تک شغف رکھتے ہیں، اگر ان جدید سائنسی نظریات سے واقف ہو جائیں تو وہ نہ صرف عربی زبان کی زیادہ بہتر خدمت کر سکیں گے بلکہ جدید دنیا کے سامنے عربی کے معجزاتی پہلوؤں کو ایک نئے اور علمی انداز میں پیش کرنے کے قابل ہوں گے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب دنیا کمپیوٹر کو عربی سکھا رہی ہے، ہمیں صرف "کافیہ" اور "شرح جامی" کی قدیم شرحوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے نصاب میں قدیم معتبر مصادر کے ساتھ ان جدید تحقیقات کو بھی جگہ دینی ہوگی۔ یہ جدید علوم ہمیں قرآن و سنت کے اعجاز کو سائنسی انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مدد دیں گے۔
