مصنوعی ذہانت (AI) اور عربی زبان کی 'ڈیجیٹل' ساخت

تحریر: ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب

آج جب دنیا مصنوعی ذہانت (AI) کے سحر میں ہے اور کمپیوٹر انسانی زبانوں کے پیچیدہ نظام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لسانیات کی دنیا میں ایک نئی اور دلچسپ بحث چھڑ گئی ہے۔ اس بحث کا ایک اہم سنگِ میل سال 2003 میں جامعہ لندن (SOAS) میں منعقدہ وہ عالمی کانفرنس تھی جس میں "یونیورسل لنگویج" کے مستقبل پر غور کیا گیا۔ اس کانفرنس میں مصر سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرِ لسانیات اور محقق ڈاکٹر سعید شربینی نے ایک ایسا علمی نظریہ پیش کیا جس نے ماہرینِ لسانیات کو حیران کر دیا۔

ڈاکٹر سعید شربینی، جو عربی زبان کی سائنسی اور ریاضیاتی ساخت پر گہری نظر رکھنے کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتے ہیں، نے اپنے مقالے میں یہ ثابت کیا کہ عربی محض ایک قدیم یا مذہبی زبان نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے قواعد اور فطری ڈھانچے کے اعتبار سے ایک مکمل "عالمی کوڈ" ہے۔ ان کے نزدیک عربی وہ تمام لسانیاتی خصوصیات رکھتی ہے جو ایک آئیڈیل "یونیورسل لنگویج" کا خاصہ ہونی چاہئیں۔

عربی کی سب سے بڑی طاقت اس کا "اشتقاقی نظام" (Root System) ہے۔ انگریزی یا دیگر مغربی زبانوں کے برعکس، عربی کا ڈھانچہ کسی جدید کمپیوٹر سافٹ ویئر کی طرح کام کرتا ہے۔ اس میں ایک تین حرفی مادہ (Root) ایک "بیس فائل" کی طرح ہوتا ہے، جس سے مخصوص اوزان کے ذریعے سینکڑوں نئے الفاظ تخلیق کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 'ک-ت-ب' کے ایک ہی مادے سے کتاب، مکتبہ، کاتب اور مکتوب جیسے الفاظ ایک منطقی ترتیب سے نکلتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے لیے ایسی زبان کو سمجھنا اور اس کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنا نہایت آسان ہوتا ہے کیونکہ اس میں بے ترتیبی کم اور ریاضیاتی نظم زیادہ ہے۔

ڈاکٹر شربینی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عربی کی "جامعیت اور اختصار" اسے مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے موزوں ترین بناتی ہے۔ کمپیوٹر سائنس میں "ڈیٹا کمپریشن" کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اور عربی دنیا کی وہ واحد زبان ہے جو ایک لفظ میں پورا جملہ سمونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جہاں انگریزی میں ایک مفہوم بیان کرنے کے لیے سات الفاظ درکار ہوں، عربی اسے ایک لفظ 'أَنُلْزِمُكُمُوهَا' میں بیان کر دیتی ہے۔ یہ خوبی اسے ہائی لیول پروگرامنگ اور تیز رفتار مواصلات کے لیے ایک بہترین ماڈل بناتی ہے۔

صوتیات (Phonetics) کے اعتبار سے بھی ڈاکٹر شربینی کے مطابق عربی انسانی نظامِ نطق کا مکمل ترین استعمال کرتی ہے۔ اس کے مخارج حلق کی گہرائی سے لے کر ہونٹوں تک پھیلے ہوئے ہیں، جو اسے ایک فطری اور متوازن صوتی نظام عطا کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر کبھی انسانوں کو مشینوں کے ساتھ گفتگو کے لیے ایک ایسی زبان کی ضرورت پڑی جو ابہام سے پاک ہو اور جس کے قواعد ریاضی کی طرح اٹل ہوں، تو عربی کا ڈھانچہ اس کے لیے سب سے موزوں ثابت ہوگا۔

عربی کی ایک اور بے مثال خصوصیت اس کا عددی اور جنسی نظام ہے۔ جہاں دنیا کی بڑی زبانیں واحد اور جمع تک محدود ہیں، عربی میں 'تثنیہ' کا مستقل صیغہ دو چیزوں کے درمیان ایسی ریاضیاتی درستی پیدا کرتا ہے جو سائنسی بیانیہ کے لیے ناگزیر ہے۔ صرف ایک لفظ ) جیسے 'کتابین' یا 'مسلمین'( یہ واضح کر دیتا ہے کہ بات ٹھیک دو لوگوں یا چیزوں کی ہو رہی ہے۔ یہ خصوصیت قانونی دستاویزات، ریاضیاتی حساب کتاب اور سائنسی مشاہدات میں غیر معمولی درستی پیدا کرتی ہے، جہاں "دو" اور "دو سے زیادہ" کے درمیان فرق کرنا لازمی ہوتا ہے۔

اسی طرح مذکر و مؤنث کے قواعد افعال اور صفات کے ساتھ اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ جملے میں ابہام کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ ڈاکٹر شربینی کے نزدیک یہ باریک بینی عربی کو ایک ایسی 'اعلیٰ ظرف' زبان بناتی ہے جو انسانی سوچ کے ہر گوشے کو پوری شفافیت کے ساتھ بیان کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔عربی میں نہ صرف جاندار بلکہ اشیاء اور افعال (Verbs) کے لیے بھی مذکر و مؤنث کے قواعد اتنے واضح ہیں کہ جملے میں کسی قسم کا ابہام (Ambiguity) باقی نہیں رہتا۔ انگریزی میں "They are coming" سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ آنے والے مرد ہیں یا عورتیں۔عربی میں 'ہم یأتون' ) وہ مرد آ رہے ہیں( اور 'ہن یأتین ' )وہ عورتیں آ رہی ہیں( کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ یہاں تک کہ فعل کی شکل ہی بتا دیتی ہے کہ بات کس کے بارے میں ہو رہی ہے۔ کمپیوٹر اور اے آئی کے لیے یہ نظام ایک "ٹیگنگ" (Tagging) کا کام کرتا ہے۔ ڈیٹا پروسیسنگ کے دوران مشین کو سیاق و سباق (Context) تلاش کرنے میں محنت نہیں کرنی پڑتی، بلکہ لفظ کی ساخت ہی تمام معلومات فراہم کر دیتی ہے۔

عربی زبان کی ایک اور حیرت انگیز خصوصیت اس کا 'نظامِ اعراب' اور 'سیمنٹک لچک' ہے۔ اعراب کے ذریعے یہ زبان الفاظ کو جملے میں کسی بھی جگہ رکھنے کی آزادی دیتی ہے، بغیر اس کے کہ معنی میں کوئی فرق آئے۔ مزید برآں، اس کا وسیع ذخیرہ الفاظ اور مترادفات کا سمندر کسی بھی پیچیدہ ترین سائنسی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے 'مائیکروسکوپک' درستی فراہم کرتا ہے۔ ڈاکٹر سعید شربینی کے مطابق، یہی وہ لسانی 'پرفیکشن' ہے جو عربی کو ڈیجیٹل دور کی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے ایک بہترین فطری الگورتھم بناتی ہے۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں جب 'نیچرل لینگویج پروسیسنگ' (NLP) پر کام ہو رہا ہے، ڈاکٹر سعید شربینی کی پیش کردہ تحقیقات ہمیں بتاتی ہیں کہ عربی صرف ماضی کی علمی میراث نہیں بلکہ مستقبل کا "ڈیجیٹل اثاثہ" بھی ہے۔ یہ زبان اپنے اندر وہ عالمگیر خصوصیات رکھتی ہے جو اسے رہتی دنیا تک ایک زندہ، سائنسی اور آفاقی زبان کے طور پر منوانے کے لیے کافی ہیں۔