فکری اعتدال کی مثالی شخصیت : مولانا زاہد الراشدی

ہمارے معاشرے کی ایک بڑی فکری کمزوری یہ ہے کہ ہم نے عام طور پر علماء اور دانشوروں کو صرف مدرسوں کے حجروں، خانقاہوں یا مسجد کے منبروں تک محدود سمجھ رکھا ہے۔ لیکن تاریخ کی گواہی یہ ہے کہ جب بھی علم کو قلم اور تحریر کا سہارا ملا، اس نے معاشرے کی سوچ کا دھارا بدل دیا۔ آج پاکستان کے فکری اور مذہبی منظر نامے پر اگر کسی ایسی شخصیت کو تلاش کرنا ہو جس نے روایتی دینی فکر کو جدید صحافتی انداز کے ساتھ ملا کر اعتدال اور مکالمے کے نئے راستے کھولے ہیں، تو سب سے پہلا نام مولانا زاہد الراشدی کا ہی سامنے آتا ہے۔
مولانا زاہد الراشدی 

۲۸ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو گکھڑ منڈی (گوجرانوالہ) کے ایک نامور علمی گھرانے میں پیدا ہونے والے مولانا زاہد الراشدی کا اصل نام محمد عبد المتین خان ہے۔ وہ علم و فضل کے اس عظیم تسلسل کے امین ہیں جس کی آبیاری ان کے والدِ محترم، امامِ اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدرؒ اور ان کے چچا محترم، صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ نے کی۔ انہوں نے جامعہ نصرۃ العلوم سے روایتی درسِ نظامی تو مکمل کیا، لیکن ان کی سوچ اور فکر کبھی مدرسے کی چار دیواری تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا اور ابلاغ کے جدید طریقوں کو اپنایا۔

مولانا زاہد الراشدی کی سب سے بڑی انفرادیت ان کا صحافتی سفر ہے۔ جب وہ ملک کے بڑے قومی اخبارات میں کالم لکھتے ہیں، تو ان کی تحریر روایتی نعرے بازی یا سنسنی خیزی سے بالکل پاک ہوتی ہے۔ ان کا قلم دلیل، حقیقت پسندی اور تاریخ کے گہرے فہم سے بات کرتا ہے۔ وہ مشکل سے مشکل مذہبی اور سیاسی معاملے کو اتنے سادہ اور سلجھے ہوئے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ ایک عام قاری بھی بات کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔ ان کے کالموں کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ دین داری اور جدید صحافت کو کتنے خوبصورت طریقے سے یکجا کیا جا سکتا ہے۔

ان کی خطابت کا انداز بھی ان کی تحریر کی طرح بالکل الگ اور منفرد ہے۔ منبر و محراب سے وہ جذباتی تقریروں کے بجائے عقل اور شریعت کی حکمت سے دلوں کو جیتتے ہیں۔ ان کے خطبات کے مجموعے "خطباتِ راشدی" اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ وہ معاشرے کو لڑانے کے لیے نہیں، بلکہ فکری چیلنجز کا حل بتانے کے لیے بولتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ طویل عرصے تک عملی سیاست کا حصہ بھی رہے اور مفتی محمودؒ کے دور میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما کے طور پر اہم قومی خدمات سرانجام دیں۔

ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ الشریعہ اکیڈمی اور ماہنامہ الشریعہ کا قیام ہے۔ انہوں نے اس ادارے کے ذریعے روایتی علماء اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان موجود خلیج کو پاٹنے کا کام کیا۔ وہ دینی مدارس کے طلبہ کو جدید علوم، انسانی حقوق اور عالمی قوانین سکھانے کے پرزور حامی ہیں۔ وہ دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اسلام کسی فکری مکالمے سے نہیں ڈرتا، بلکہ وہ ہر دور کے چیلنج کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کی اسی معتدل سوچ اور علمی و قومی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں تمغۂ امتیاز سے بھی نوازا۔ آج کے اس پرآشوب دور میں، جہاں معاشرہ انتہا پسندی اور فکری انتشار کا شکار ہے، مولانا زاہد الراشدی کی شخصیت اور ان کا قلم ہم سب کے لیے اعتدال، فکری وسعت اور صحیح رہنمائی کا ایک روشن مینار ہے۔