مسلم معاشروں کا ایک بنیادی المیہ یہ ہے کہ دینِ اسلام، جو اپنی اصل میں ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، تعلیمی میدان میں ایک مربوط اور جامع نظام کی صورت میں موجود نہیں۔ ہم نے دین کو یا تو چند رسومات تک محدود کر دیا ہے یا اسے جزوی علوم میں تقسیم کر کے اس کی وحدت کو کھو دیا ہے۔ نتیجتاً نئی نسل قرآن سے بھی پوری طرح وابستہ نہیں، سیرتِ نبوی ﷺ سے بھی گہرا تعلق نہیں رکھتی، اور عربی زبان—جو دین کی اصل کلید ہے—سے بھی ناواقف ہے۔
یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے ایک بارہ سالہ جامع نصاب کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے—ایسا نصاب جو کلاس 1 سے کلاس 12 تک طلبہ کو تدریج، تسلسل اور فکری ارتقاء کے ساتھ دین کے اصل مصادر یعنی قرآن اور سنت و حدیث سے جوڑ دے، اور ساتھ ہی انہیں عربی زبان میں اس درجہ مہارت دے کہ وہ دین کو براہِ راست سمجھ سکیں۔
دین کا اصل ماخذ: نصاب کی بنیاد
یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ دین اسلام کے دو ہی بنیادی مصادر ہیں:
- قرآن مجید — اللہ کی آخری وحی
- سنتِ رسول ﷺ — قرآن کی عملی تفسیر
لیکن ہمارے موجودہ تعلیمی ڈھانچے میں ان دونوں کو الگ الگ، جزوی اور غیر مربوط انداز میں پڑھایا جاتا ہے۔ کہیں صرف ناظرہ قرآن ہے، کہیں ترجمہ، کہیں چند احادیث، اور کہیں سیرت کے واقعات—مگر ایک مربوط فکری نظام مفقود ہے۔
اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ نصاب کی بنیاد ہی ان دو مصادر پر رکھی جائے، اور ہر مضمون، ہر سبق اور ہر مرحلہ انہی کے گرد گھومے۔
بارہ سالہ نصاب: ایک تدریجی فکری سفر
یہ نصاب محض معلومات کی فراہمی نہیں ہوگا بلکہ ایک فکری و روحانی تربیت کا مکمل نظام ہوگا، جسے تین بڑے مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: