مستشرقین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مستشرقین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

الحاد کا فکری بحران اور قرآنی دعوت

آج کا دور فکری انارکی اور نظریاتی کشمکش کا دور ہے۔ عالمگیر ایجادات اور سوشل میڈیا کے سیلاب نے جہاں معلومات تک رسائی آسان کی ہے، وہاں نوجوان نسل کے عقائد اور فکری بنیادوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کا ایک افسوسناک پہلو مسلم معاشروں میں "الحاد" کا ابھرتا ہوا وہ رجحان ہے، جو بظاہر خود کو "عقلیت پسندی" اور "علمیت" کے لبادے میں پیش کرتا ہے، لیکن اگر اس کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک سطحی اور نقالانہ فکر کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔

میرا یہ ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ ہمارے اردگرد موجود یہ "نام نہاد ملحدین"، جو مسلم گھرانوں میں پیدا ہوئے، اسی تہذیب اور روایات میں پلے بڑھے، وہ دراصل اسلام سے شدید قسم کی لاعلمی کا شکار ہیں۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے مذہب کا مطالعہ خود براہِ راست کرنے کے بجائے ہمیشہ ناقدین کی عینک سے کیا ہے۔ یہ لوگ مغربی فلسفے، مستشرقین کی تحریروں اور انٹرنیٹ پر موجود الحادی پروپیگنڈے سے اس حد تک مرعوب ہو چکے ہیں کہ اب یہ اسلام پر اعتراضات نہیں کرتے، بلکہ مغربی فلسفیوں کے اٹھائے ہوئے پرانے اور پامال سوالات کی محض "جگالی" کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اپنا کوئی ٹھوس علمی مقدمہ نہیں ہے، بلکہ یہ سنی سنائی باتوں اور ادھورے حقائق کے سہارے ایک پورا فکری محل کھڑا کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

ملحدین کی جانب سے عموماً اسلام، ذاتِ رسالت ﷺ اور اسلامی قوانین پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں، لیکن ان کا سب سے بڑا نشانہ کائنات کی سب سے عظیم اور سچی کتاب—قرآن مجید—بنتی ہے۔ وہ قرآنی آیات کو ان کے سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرتے ہیں، اس کے ادبی اسلوب کو افسانہ قرار دیتے ہیں اور اس کے سائنسی و تاریخی بیانات پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان معترضین نے کبھی تعصب کے چشمے کو اتار کر، خالص علمی نیت کے ساتھ قرآن کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے؟ جواب یقیناً نفی میں ہے۔

اگر یہ نام نہاد ملحدین، خدا بیزاری کے خبط سے باہر نکل کر، صرف ایک بار قرآن مجید کا گہرائی اور تدبر کے ساتھ مطالعہ کر لیں، تو ان کے تمام الحادی سوالات، شکوک اور اعتراضات برف کی طرح پگھل جائیں۔ قرآن مجید کوئی روایتی، جامد یا اندھی تقلید کا تقاضا کرنے والی کتاب نہیں ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو انسان کو بار بار" أَفَلَا تَعْقِلُونَ" (کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟) اور "أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ " (کیا یہ غور و فکر نہیں کرتے؟) کہہ کر دعوتِ عقل دیتی ہے۔  قرآن انسان کے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے اور اسے کائنات کے ذرے ذرے میں پھیلی خدا کی نشانیوں پر تدبر کرنے پر ابھارتا ہے۔

الحادی فکر کا سب سے بڑا فلسفیانہ بحران "مسئلہ شر" یا دنیا میں دکھ اور تکلیف کا وجود ہے۔ ملحد کہتا ہے کہ اگر خدا ہے تو دنیا میں سیلاب، بیماریاں اور ظلم کیوں ہیں؟ اگر وہ قرآن کا مطالعہ کرتا تو اسے معلوم ہوتا کہ قرآن اس دنیا کو عیاشی کا اڈا نہیں، بلکہ "دار الامتحان" (آزمائش کی جگہ) قرار دیتا ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ انسان کو یہاں آزاد اختیار دے کر بھیجا گیا ہے، اور اچھائی و برائی کا یہ ٹکراؤ دراصل انسان کے اخلاقی ارتقا اور آخرت کے ابدی انعام کا پیش خیمہ ہے۔ اسی طرح، ارتقا اور تخلیق کے جن سوالات پر مغربی فلسفہ الجھ کر رہ گیا، قرآن ان کا جواب مادی اور روحانی توازن کے ساتھ دیتا ہے۔

قرآن کا مطالعہ انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی بھی حصہ عبث اور بیکار نہیں ہے۔ مادی سائنس صرف یہ بتا سکتی ہے کہ کائنات "کیسے" کام کر رہی ہے، لیکن یہ "کیوں" کام کر رہی ہے اور اس کا مقصد کیا ہے، اس کا جواب صرف قرآن کے پاس ہے۔ جب ایک منصف مزاج انسان قرآنی فصاحت و بلاغت، اس کے پیش کردہ نظامِ عدل، حقوقِ انسانی کے چارٹر اور اس کے لازوال تاریخی تسلسل کو دیکھتا ہے، تو اس کی عقلِ سلیم پکار اٹھتی ہے کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ الحاد دراصل کسی علمی دریافت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک نفسیاتی فرار اور فکری مرعوبیت کا نتیجہ ہے۔ ہمارے وہ نوجوان جو مغربی تہذیب کی چمک دمک سے متاثر ہو کر اپنے دین سے دور ہو رہے ہیں، انہیں کسی مناظرے کی نہیں، بلکہ قرآن سے براہِ راست تعلق جوڑنے کی ضرورت ہے۔ مسلم علماء اور مفکرین کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ روایتی انداز سے ہٹ کر، جدید نسل کی زبان اور اسلوب میں قرآن کی آفاقی دعوت کو پیش کریں۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم سنی سنائی باتوں پر الحاد کے فتوے یا دعوے کرنے والے ان دانشوروں کو چیلنج کریں کہ وہ ادھر ادھر کی جگالی چھوڑیں اور کتابِ لاریب کا خود مطالعہ کریں۔ قرآن آج بھی اسی چیلنج کے ساتھ موجود ہے جو اس نے چودہ سو سال پہلے دیا تھا۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم دل کے کواڑ کھول کر اس کی طرف لوٹیں، کیونکہ الحاد کے اندھیروں کا واحد علاج قرآنی ہدایت کا نور ہے۔

مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش ۔ مفکر اسلام مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی ؒ

مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش

  یعنے  وقت کے سب سے بڑے چیلنج " مغربی تہذیب کی کامل پیروی، زندگی کی شرط اور ترقی و طاقت کی واحد راہ ہے" کو دنیائے اسلام نے کس طرح قبول کیا، اور مختلف اسلامی ممالک نے کیا کیا موقف اختیار کئے اور عالم اسلام کے لئے اس بارہ میں صحیح راہ عمل کیا ہے؟  

O جائزہ O محاسبہ O مشورہ  


یہ بات کتنی ہی تلخ اور ناخوشگوار ہو، لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ موجودہ عالم اسلامی مجموعی طور پر خود شناسی اور خود اعتمادی کی دولت سے محروم ہے، اس وسیع (اسلامی) دنیا میں جو ملک آزاد ہیں، (خواہ وہ صدیوں سے آزاد چلے آ رہے ہوں یا انہوں نے ماضی قریب میں آزادی حاصل کی ہو) وہ بھی ذہنی اور علمی حیثیت سے مغرب کے اسی طرح سے غلام ہیں، جس طرح ایک ایسا پسماندہ ملک غلام ہوتا ہے جس نے غلامی ہی کے ماحول میں آنکھیں کھولیں اور ہوش سنبھالا ہے۔ بعض اوقات ان ملکوں کے سربراہ سیاسی میدان میں قابل تعریف اور بعض اوقات خطرناک حد تک جرات و ہمت کی بات کرتے ہیں، اور بعض اوقات مہم جوئی اور اپنے ملک کی بازی تک لگا دینے سے باز نہیں آتے، لیکن فکری، تہذیبی اور تعلیمی میدان میں ان سے اتنی بھی خود اعتمادی، انتخاب کی آزادی اور تنقیدی صلاحیت کا اظہار نہیں ہوتا، جتنی کہ کسی ایک عاقل بالغ انسان سے توقع کی جاتی ہے۔ حالانکہ فلسفہ تاریخ کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ فکری، تہذیبی اور تعلیمی غلامی، سیاسی غلامی سے زیادی خطرناک، عمیق اور مستحکم ہوتی ہے اور اس کی موجودگی میں ایک حقیقت پسند  فاتح قوم کے نزدیک سیاسی غلامی کی ضرورت باقی نہیں رہتی، اس بیسویں صدی عیسوی کی آخری دہائیوں میں جب دنیا دو عظیم عالمگیر جنگوں سے گزر چکی ہے اور تیسری جہاں سوز جنگ کے بادل امنڈ رہے ہیں، اور کسی ملک کا کسی ملک کو غلام بنانا اور اس کی مرضی کے خلاف اس پر قبضہ رکھنا ایک ناقابل فہم اور ناممکن العمل سی بات سمجھی جانے لگی ہو ((۱) لیکن افغانستان پر روس کے فوجی تسلط نے اس کلیہ کو مجروح و مشکوک بنا دیا ہے۔)، دنیا کی بڑی طاقتیں اب روز بروز سیاسی اقتدار کے بجائے ذہنی و تہذیبی اقتدار اور یکسانی و ہم رنگی پا قانع ہوتی چلی جائیں گی۔

قرآن مجید کے انگریزی تراجم : اکیسویں صدی میں ۔ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

مختلف زبانوں میں قرآن مجید کے ترجمہ و تفسیر کا کام برابر جاری ہے۔ انگریزی زبان میں بھی بہت سے تراجم ہوئے ہیں۔ یہ کام 17 ویں صدی عیسوی سے شروع ہوگیا تھا۔ ترجمہ کا کام مستشرقین (یہودی اور عیسائی) نے بھی کیا ہے، قادیانیوں نے بھی اور مسلمانوں نے بھی، جن کا تعلّق مختلف مکاتبِ فکر سے ہے۔ بہت سے اردو تراجمِ قرآن کو بھی انگریزی میں ڈھالا گیا ہے۔ ایسے میں ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ان انگریزی تراجمِ قرآن کا جائزہ لیا جائے، مترجمین کا تعارف کرایا جائے، ان کے ذہن (mind set ) کو پرکھا جائے اور ان تراجم میں جو منحرف افکار و خیالات شامل کردیے گئے ان سے دوسروں کو واقف کرایا جائے، تاکہ قارئین ان سے دھوکہ نہ کھائیں۔

کتب خانہ اسکندریہ

کتب خانہ اسکندریہ کی بنیادبطلیموسی فرمانروا سوتر اول نے اسکندریہ کے مقام پر رکھی لیکن اس کے بیٹے فیلاڈلفس (Philadelphus) کی علم پروی اور کتابوں سے دلچسپی نے کتب خانہ اسکندریہ کوجلد ہی اس قابل بنا دیا کہ ایتھنز کی علمی وثقافتی مرکزیت وہاں سمٹ آئی۔ اصحاب علم وفضل دور دور سے اس علمی مرکز کی طرف جوق در جوق کھنچے چلے آتے تھے۔

کتب خانہ اسکندریہ 
کتکتب خانہ اسکندریہ کا قیام بھی نینوا کے کتب خانہ کی طرح شاہی سرپرستی میں عمل میں آیا۔ اگرچہ دونوں کتب خانوں کے قیام کا درمیانی وقفہ چار صدیوں پر محیط ہے لیکن ان دونوں کتب خانوں میں بعض امور میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ باوجود مطالعاتی مواد میں اختلاف (نینوا کا کتب خانہ جوکتب خانہ اشور بنی پال کے نام سے جانا جاتا ہے اس میں الواح سفالی یعنی مٹی کی تختیوں پر لکھا جاتا تھااور اسکندریہ کے کتب خانے میںقرطاس مصریپر) کے ماہرین نے ان دونوں کی اندونی تنظیم، مواد کی درجہ بندیاور کتب کی پیداوار کے طریق کار میں کافی حن تک مطابقت موجود ہے۔ یہ کتب خانہ ایک کثیر المقاصد عجا ئب گھر میں قائم کیا گیا تھا جو رصدگاہ، ادارہ علم الابدان، ادارہ نشر و اشاعت اور کتب خانہ کی عمارت پر مشتمل تھا۔ مورخین کے نزدیک اس علمی ادارے کو دنیا کی سب سے پہلی جامعہ یا سائنسی اکادمی ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔

تحریری مواد

تحریک استشراق کی حقیقت اور ان کے لٹریچر کے اثرات

حافظ سیف الاسلام     
                     
پی ایچ ڈی اسکالر، اسلامیہ یونیورسٹی، بھاولپور، پاکستان


تعارف: استشراق(Orientalism) اور مستشرق کا لغوی و اصطلاحی معنی

استشراق عربی زبان کے مادہ( ش۔ر۔ق) سے مشتق ہے جس کے معنی شر ق شناسی کے ہیں، یہ اصطلاح زیادہ قدیم نہیں ہے؛ اس لیے قدیم عربی ،فارسی اور اردو معاجم میں شرق تو موجود ہے؛ لیکن زیر بحث الفاظ ، یعنی باب استفعال میں اس کے معنی ومفہوم یا بطور فعل ان لغات سے بحث نہیں پائی جاتی؛ البتہ جدید لغات میں استشراق کا ذکر موجود ہے۔

شرف الدین اصلاحی اس”Orientalist “ کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ لفظ انگریزوں کا وضع کردہ ہے جس کے لیے عربی میں استشراق کا لفظ وضع کیا گیا ہے لفظ ”orient“ بمعنی مشرق اور ”Orientalism“کا معنی شرق شناسی یا مشرقی علوم وفنون اور ادب میں مہارت حاصل کرنے کے ہیں۔ مستشرق ( اشتشرق کے فعل سے اسم فاعل ) سے مراد ایک ایسا شخص ہے جو بہ تکلف مشرقی بنتا ہے ۔(۱)

مولوی عبد الحق صاحب Orientalist کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس شخص کو کہتے ہیں جو ماہر مشرقیات ہو۔ (۲)

آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق استشراق اور مستشرق کی اصطلاحات orient سے مشتق ہیں(۳)۔

(Han's Wahr)نے ”عربی ، انگریزی معجم “میں استشراق کے معنی مشرقی علوم اور مستشرق کے معنی مشرقی آداب سے آگاہ یا مشرقی علوم کے ماہر بتائے ہیں۔(۴)

”عربی اعتبار سے ” استشراق “کا سہ حرفی مادہ ” شرق“ ہے ، جس کا مطلب ” روشنی “ اور ”چمک “ ہے ،اس لفظ کو مجازی معنوں میں سورج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اس اعتبار سے شر ق اور مشرق اس جگہ کو کہا جائے گا جہاں سے سورج طلوع ہو۔(۵)