سوشلزم نہ ہوس کا علاج ہے نہ اقتدار پرستی کا‘، ڈاکٹر محمد رفیع الدین ؒ

سوشلزم نہ ہوس کا علاج ہے نہ اقتدار پرستی کا
خودی کی فطرت سے جو فقط خدا کی آرزو رکھتی ہے اقبال کے اس خیال کی صداقت آشکار ہے کہ روسی انقلاب کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ روس میں لوگوں نے ایک بت کو توڑا ہے اور ایک نیا بت تراش لیا ہے چونکہ وہاں اب بھی لوگوں کو خدا پر ایمان نہیں اور خدا کی مخلصانہ محبت مفقود ہے لہٰذا جمہور کے انقلاب کے باوجود وہاں ہوس اقتدار اپنے تمام برے نتائج کے سمیت موجود رہے گی اور لوگوں کی اقتدار پرستی اور اقتدار پسندی کی بیماریوں میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ جس شخص کے پاس اقتدار ہو گا وہی لوگوں کا مستبد حاکم اور بادشاہ اور آقا بن جائے گا اور جو لوگ خود اپنی رضامندی سے اس کے محکوم اور مظلوم غلام یا رعایا بن جائیں گے ۔ بت پرستی کافروں کی سرشت میں ہے کیونکہ اس کے بغیر ان کا چارہ نہیں۔ جب وہ خدا کو چھوڑ چکے ہیں تو پھر اپنے جذبہ عبادت کو مطمئن کرنے کے لیے بتوں کے سوائے کس کو پوجیں۔ جب وہ کسی پرانے بت سے بیزار ہو کر اس کو توڑنے پر مجبور ہوتے ہیں تو انہیں اسی وقت ایک نیا بت پوجنے کے لیے تراشنا پڑتا ہے۔ اقبال کا مطلب یہ ہے کہ ان بیماریوں کا علاج یہ ہے کہ حاکم اور محکوم دونوں خدا کی محبت کا سوز و گداز رکھتے ہوں پھر نہ حاکم اپنے آپ کو حاکم سمجھے گا اور نہ محکوم ہی محکوم رہے گا۔ رومی کے الفاظ میں سودائے عشق ہی ہماری تمام علتوں کا طبیب ہے۔ وہی ہمارا افلاطون ہے اور جالینوس ہے جو ہمیں ہر قسم کی روحانی اور نفسیاتی بیماریوں سے نجات دے سکتا ہے۔
شادباش اے عشق خوش سودائے ما
اے طبیب جملہ علت ہائے ما
اے دوائے نخوت و ناموس ما
اے تو افلاطون و جالینوس ما
اقبال نے روسی سوشلسٹ انقلاب کے معمار موسیولینن اور اس کے ہم عصر جرمنی کے قیصر ولیم کی ایک گفتگو نظم کی ہے۔ لینن بڑے فخر کے ساتھ قیصر ولیم سے کہت اہے ک دیکھا ہمارے مفلس اور غلام مزدور نے کس طرح سرمایہ دار کی قمیص اقتدار کو جو ہمارے خون سے رنگین تھا پھاڑ ڈالا ہے۔ عوام کے غصہ کی آگ کے شعلوں نے اس پرانے بیکار سامان کو جو پوپ کی چادر اور شہنشاہ کی قبا پر مشتمل تھا جلا کر راکھ کر دیا ہے نتیجہ یہ ہے کہ اب نہ کلیسا کا اختیار باقی رہا ہے اور نہ بادشاہ کا اقتدار۔
غلام گرسنہ دیدی کہ بر درید آخر
قمیص خواجہ کی رنگین ز خون مابود است
شرار آتش جمہور کہنہ ساماں سوخت
ردائے پیر کلیسا قبائے سلطاں سوخت
قیصر ولیم اسے جواب دیتا ہے کہ بتوں کا طواف کرنا بت پرست کی شرست میں ہے اس میں بتوں کے ناز و عشوہ کا قصور نہیں۔ کافر کا کام ہی یہ ہے کہ وہ پرانے خدائوں سے اکتا کر نئے خدائوں کو بناتا رہتا ہے۔ راہزن کے ظلم میں اتنا جرم راہ زن کا نہیںجتنا خود راہرو کا ہوت اہے جو خود اپنا سامان لٹانا چاہتا ہے۔ اگر اقتدار اب جمہور کے ہاتھ میںآ گیا ہے تو پھر بھی سوسائٹی میں وہی ظالمیت اور مظلومیت کے ہنگامے ہوتے رہیں گے جن سے بیزار ہو کر لوگوںنے یہ انقلاب برپا کیا تھا۔ جیسے آتش کدہ سے آگ نہیں بجھتی آدمی کے دل سے ہوس نہیں جاتی جب تک انسان خدا کے سامنے سر نہیں جھکاتا اقتدار کی سحر فن دلہن کی زلف پر پیچ کا حسن سے اسے بدستور اپنی طرف کھینچتا رہے گا۔ شیریں کے ناز کا خریدار اگر خسرو نہ ہو گا تو کوہکن ہو گا۔
گناہ عشوہ و ناز بتان چیست
طواف اندر سرشت برہمن ہست
دما دم نوخداوندان تراشد
کہ بیزار از خدایان کہن ہست
ز جور رہزنان کم گو کہ رہرو
متاع خویش را خود راہزن ہست
اگر تاج کئی جمہور پوشد
ہماں ہنگامہ ہا در انجمن ہست
ہوس اندر دل آدم نہ میرد
ہماں آتش میاں مرزغن ہست
عروس اقتدار سحر فن را
ہماں پیچاک زلف پر شکن ہست
نماند ناز شیریں بے خریدار
اگر خسرو نماند کوہکن ہست
فردا کا نظریہ زندگی اسلام ہے
اپنی نظم’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں اقبال نے بڑے موثرانداز میں بیان سے ا س بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ سوشلزم میں یہ صلاحیت نہیں کہ ابلیس کے کام میں رکاوٹ پیدا کر سکے اور مستقبل کا نظریہ حیات جو ابلیس میںتعمیر پانے والی دنیائے اشرار کو زیر و زبر کر دے گا۔ وہ سوشلزم نہیںبلکہ اسلام ہے ۔ سوشلزم کی ظاہری سج دھج کو دیکھ کر ابلیس کے ایک مشیر کو غلط فہمی ہوئی ہے ہ اب شاید ابلیس کا کام آگے نہیں بڑھ سکے گا لیکن ابلیس اسے جواب دیتا ہے کہ مجھے سوشلسٹوں سے کوئی خوف نہیں کیونکہ وہ انسان کی صحیح راہنمائی کی استعداد سے بے بہرہ ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کے اصل مقصود یعنی خدا سے برگشتہ ہونے کی وجہ سے وہ ’’کوچہ گرد‘‘ یعنی آوارہ اور بے قرار ہیں اوروہ ’’پریشان روزگار‘‘ ہیں یعنی اطمینان قلب سے محروم ہونے کی وجہ سے ان کی زندگیاں پریشان ہیں۔ وہ ’’آشفتہ مغز‘‘ ہیں یعنی ان کا فکر یا فلسفہ نامعقول ہے اور پریشان خیالیوں کامجموعہ ہے اور وہ ’’آشفتہ ہو‘‘ ہیںیعنی اپنی محبت کے جذبہ کو بے محل صرف کر رہے ہیں۔
کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد
یہ پریشان روزگار آشفتہ مغز آشفتہ ہو
اگر مجھے خطرہ ہے تو امت مسلمہ سے جس کی راکھ میں خدا کی محبت کا شرار اب تک چمک رہا ہے۔ اس امت میں اب بھی اسیے لوگ موجو د ہیں اگرچہ وہ بہت تھوڑی تعداد میں ہیں جن کو تہجد کی نماز میں خدا کی محبت کا جوش رلاتاہے۔ ہر وہ شخص جو ’’باطن ایام‘‘ یعنی ارتقا کی منزل مقصود کا علم رکھتا ہے اس بات کو جانتا ہے کہ کل کا انقلاب ’’فتنہ‘‘ جو ابلیس کے بنے بنائے کھیل کو بگاڑ دے گا سوشلزم نہیں بلکہ اسلام ہے۔
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرار آرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشک سحر گاہی سے جو ظالم وضو
جانتا ہے جس پہ روشن باطن ایام ہے

مزوکیت فتنہ فردا نہیں اسلام ہے