جدید فلسفہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جدید فلسفہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

عظیم سرمایہ کاروں کا فلسفہ: دولت کی تخلیق اور مارکیٹ کی نفسیات

 


دنیا کے عظیم ترین سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں اور ان کے مالیاتی فلسفے پر مبنی ایک جامع مضمون درج ذیل ہے:

اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں جن سرمایہ کاروں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی، ان کے پیچھے محض اتفاق یا خوش قسمتی نہیں، بلکہ ایک گہرا مالیاتی فلسفہ اور نظم و ضبط کارفرما تھا۔ اگر ہم دنیا کے دس مشہور سرمایہ کاروں، جیسے وارن بفٹ، بینجمن گراہم، پیٹر لنچ اور جان بوگل کی حکمت عملیوں کا مجموعی جائزہ لیں، تو چند بنیادی اصول ابھر کر سامنے آتے ہیں جو کسی بھی دور میں سرمایہ کاری کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
1. قدر کی تلاش (Value Investing) اور تحفظ کا مارجن
اسٹاک مارکیٹ کے فلسفے کی سب سے مضبوط بنیاد "ویلیو انویسٹنگ" ہے، جس کے بانی بینجمن گراہم تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اسٹاک محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک زندہ کاروبار کا حصہ ہے۔ ان کا مشہور فلسفہ "Margin of Safety" یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی حصص کو اس کی اصل قیمت (Intrinsic Value) سے بہت کم قیمت پر خریدنا چاہیے تاکہ نقصان کا خطرہ کم سے کم ہو۔ وارن بفٹ نے اسی نظریے کو اپنایا اور یہ ثابت کیا کہ "قیمت وہ ہے جو آپ ادا کرتے ہیں، اور قدر وہ ہے جو آپ حاصل کرتے ہیں۔"

ارادہ و مشیتِ الٰہی — قرآنی تصور اور ملحدانہ اعتراضات

جدید انسان کا سب سے بڑا فکری بحران یہ ہے کہ وہ ایک طرف سائنسی قوانین کی سختی میں جکڑا ہوا ہے اور دوسری طرف اخلاقی آزادی کا دعویٰ بھی رکھتا ہے۔ یہی کشمکش اسے اس سوال تک لے آتی ہے: اگر سب کچھ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے تو انسان کا اختیار محض ایک فریب کیوں نہ سمجھا جائے؟
ملحدانہ فکر اسی نکتے کو بنیاد بنا کر مذہب، خصوصاً اسلامی تصورِ تقدیر پر یہ اعتراض اٹھاتی ہے کہ یہ انسان کو جبری مخلوق بنا دیتا ہے۔

قرآن اس اشکال کو سرسری نہیں لیتا بلکہ اسے فکری گہرائی کے ساتھ حل کرتا ہے—اور یہ حل ارادہ اور مشیت کے فرق میں پوشیدہ ہے۔

مشیت: کائناتی قانون یا خدائی جبر؟ 
 
ملحدین کا پہلا اعتراض یہ ہے کہ اگر کوئی عمل اللہ کی مشیت کے بغیر ممکن نہیں تو پھر گناہ پر سزا اور نیکی پر جزا غیر منصفانہ ہے۔
قرآن اس اعتراض کا جواب یہ دے کر دیتا ہے کہ مشیت کا تعلق وقوع سے ہے، انتخاب سے نہیں۔

سکوتِ شب سے نداءِ نور تک

 خلا کی گونج

"مجھے زندگی سے کوئی شکایت نہ تھی، سوائے اِس کے کہ وہ کسی سوال کا جواب نہیں دیتی تھی۔"

رات کا پہلا پہر تھا۔ پورا شہر نیند کی آغوش میں ڈوبا ہوا تھا، مگر ریان کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اس کی نظریں چھت پر جمیں تھیں، جیسے وہاں کوئی چھپا ہوا مطلب کی تلاش رہی ہوں۔ کمرے میں کتابوں کا انبار تھا — نیٹشے، کارل ساگان، برٹرینڈ رسل، ڈارون، فوکو — علم کا سمندر اس کے اردگرد بکھرا تھا، مگر دل ویسا ہی پیاسا تھا جیسے صحرا میں بھٹکتا کوئی مسافر۔

ریان ایک محقق، لیکچرر، اور روشن خیال ملحد تھا۔ اس کا یقین تھا کہ مذہب انسان کی تخلیق ہے، اور خدا ایک نفسیاتی سہارا۔ وہ دلیل دیتا، مباحثے کرتا، اور سوشل میڈیا پر اپنے خیالات شیئر کرتا۔ لوگ اسے "سچ کا متلاشی" کہتے تھے، اور وہ خود کو "عقل کا پرستار"۔

مگر آج کی رات کچھ الگ تھی۔ ایک خاموشی اس کے دل میں رینگ رہی تھی۔ اُس نے خود سے پوچھا:

"اگر سب کچھ بے مقصد ہے… تو میری یہ بےچینی کس چیز کی ہے؟"

کسی نے کہا تھا، “کبھی کبھی خاموشی سب سے بلند صدا ہوتی ہے۔” اور ریان کے لیے وہ صدا آج گونجنے لگی تھی۔

 عقل کی زنجیروں میں

"میں نے عقل کو اپنا خدا بنایا… اور وہ مجھے صحرا میں چھوڑ کر خود کہیں گم ہو گئی۔"

ریان کے دن مطالعے میں گزرتے تھے اور راتیں سوچوں میں۔ وہ سچائی کا متلاشی تھا، مگر اس کی تلاش ایک دائرے میں گھومتی ہوئی محسوس ہونے لگی تھی۔
اس کا کیمپس میں لیکچر تھا:
"Existence is absurd. There is no inherent meaning. Man must create his own value."

طلبہ نے تالیاں بجائیں، کچھ نے سوال کیے، مگر اس کا دل کسی اور جگہ تھا۔ شاید اسی سوال پر رکا ہوا تھا جو اسے اکثر تنہا کر دیتا تھا:

"اگر کوئی خالق نہیں… تو یہ جمال، یہ نظم، یہ محبت؟ آخر ان سب کا ماخذ کیا ہے؟"

جدید سائنسی و فکری دنیا کی فلسفیانہ بنیادیں اور قرآنی نقطہ نظر

تاریخِ انسانیت کا فکری سفر ہمیشہ سوالات سے عبارت رہا ہے۔ یہ سوالات کائنات کی حقیقت، انسان کی حیثیت، علم کی بنیاد، اور اخلاق کے سرچشمے جیسے موضوعات سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب قرونِ وسطیٰ میں مذہبی اقتدار اور روایت نے عقل کو محدود کر دیا، تو یورپ میں ایک فکری بغاوت نے جنم لیا جسے ہم جدید دور یا عہدِ روشن خیالی (Enlightenment) کا آغاز کہتے ہیں۔ اسی تحریک نے جدید سائنسی اور فکری دنیا کی بنیاد رکھی، جو محض ایک سائنسی انقلاب نہ تھا، بلکہ ایک گہرا فلسفیانہ انقلاب بھی تھا۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ اس جدید دنیا کی فکری عمارت کن بنیادی فلسفیانہ اصولوں پر قائم ہوئی۔

1. عقلیت (Rationalism): "میں سوچتا ہوں، پس میں ہوں"

جدید فکر کا پہلا ستون عقل کی خودمختاری ہے۔
رینے دکارٹ نے "میں سوچتا ہوں، پس میں ہوں" (Cogito ergo sum) کہہ کر یہ اعلان کیا کہ انسان کی ذات کا پہلا ناقابلِ انکار سچ اس کی شعوری عقل ہے۔
اس سے قبل علم کا ماخذ مذہب یا روایت تھی، اب عقل کو نہ صرف جوازِ علم بلکہ جوازِ وجود کے طور پر بھی مانا جانے لگا۔

قدیم و جدید فلسفہ: ایک تقابلی مطالعہ

فلسفہ، انسانی شعور کا وہ ارتقائی سفر ہے جو "کیا"، "کیوں"، اور "کیسے" کے سوالات سے جنم لیتا ہے۔ یہ سفر ازل سے جاری ہے، اور ہر دور نے اپنی مخصوص ذہنی ساخت، علمی تناظر اور تمدنی ضرورتوں کے مطابق فلسفے کی نئی جہات کو جنم دیا۔ اگر ہم قدیم فلسفے کو "وجود کے شعور" کا دور کہیں، تو جدید فلسفہ کو "شعور کے وجود" کا دور کہنا بے جا نہ ہوگا۔ زیر نظر مضمون میں ہم قدیم اور جدید فلسفہ کے افکار، محرکات، طرزِ استدلال اور اہداف کا تقابلی جائزہ پیش کریں گے۔

1. علم کا منبع: عقل یا تجربہ؟

قدیم فلسفہ بالخصوص سقراط، افلاطون اور ارسطو کے ہاں عقل ہی علم کا اصل منبع سمجھی جاتی تھی۔ افلاطون "عالمِ مثل" کا قائل تھا، جہاں سچی حقیقتیں ماورائے حواس موجود تھیں۔ ارسطو نے اگرچہ تجربے کو اہمیت دی، مگر اس کا مقصد "کلیات" تک پہنچنا تھا، نہ کہ صرف مشاہداتی سچائیوں پر قناعت۔

جبکہ جدید فلسفہ (خاص طور پر دکارٹ، ہیوم، کانٹ کے بعد) نے علم کی بنیاد پر شک، تجربہ، اور شعور کو مرکوز کر دیا۔ رینے دکارٹ نے "میں سوچتا ہوں، پس میں ہوں" کے ذریعے فلسفے کی بنیاد کو انا اور شک میں تبدیل کیا۔ ہیوم نے تجرباتی بنیاد کو مقدم جانا، اور کانٹ نے دونوں کے درمیان ایک "نقادانہ مصالحت" کی کوشش کی۔