دنیا کے عظیم ترین سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں اور ان کے مالیاتی فلسفے پر مبنی ایک جامع مضمون درج ذیل ہے:
" آج دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو اخلاق اور مقاصد زندگی کی ، یہ صرف انبیاء کرام اور آسمانی کتب میں ہیں ۔ آج دنیا کی تعمیر نو صرف اس طرح ممکن ہے کہ جو وسائل و زرائع جدید دور میں انسانوں نے پیدا کرلیے ان کی مدد سے اور انبیاء اور آسمانی کتب میں موجود انسانیت کے اخلاق اور مقاصد زندگی کی مدد سے دنیا کی تعمیر نو کی جائے ۔" (مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )
دنیا کے عظیم ترین سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں اور ان کے مالیاتی فلسفے پر مبنی ایک جامع مضمون درج ذیل ہے:
"مجھے زندگی سے کوئی شکایت نہ تھی، سوائے اِس کے کہ وہ کسی سوال کا جواب نہیں دیتی تھی۔"
رات کا پہلا پہر تھا۔ پورا شہر نیند کی آغوش میں ڈوبا ہوا تھا، مگر ریان کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اس کی نظریں چھت پر جمیں تھیں، جیسے وہاں کوئی چھپا ہوا مطلب کی تلاش رہی ہوں۔ کمرے میں کتابوں کا انبار تھا — نیٹشے، کارل ساگان، برٹرینڈ رسل، ڈارون، فوکو — علم کا سمندر اس کے اردگرد بکھرا تھا، مگر دل ویسا ہی پیاسا تھا جیسے صحرا میں بھٹکتا کوئی مسافر۔
ریان ایک محقق، لیکچرر، اور روشن خیال ملحد تھا۔ اس کا یقین تھا کہ مذہب انسان کی تخلیق ہے، اور خدا ایک نفسیاتی سہارا۔ وہ دلیل دیتا، مباحثے کرتا، اور سوشل میڈیا پر اپنے خیالات شیئر کرتا۔ لوگ اسے "سچ کا متلاشی" کہتے تھے، اور وہ خود کو "عقل کا پرستار"۔
مگر آج کی رات کچھ الگ تھی۔ ایک خاموشی اس کے دل میں رینگ رہی تھی۔ اُس نے خود سے پوچھا:
"اگر سب کچھ بے مقصد ہے… تو میری یہ بےچینی کس چیز کی ہے؟"
کسی نے کہا تھا، “کبھی کبھی خاموشی سب سے بلند صدا ہوتی ہے۔” اور ریان کے لیے وہ صدا آج گونجنے لگی تھی۔
"میں نے عقل کو اپنا خدا بنایا… اور وہ مجھے صحرا میں چھوڑ کر خود کہیں گم ہو گئی۔"
طلبہ نے تالیاں بجائیں، کچھ نے سوال کیے، مگر اس کا دل کسی اور جگہ تھا۔ شاید اسی سوال پر رکا ہوا تھا جو اسے اکثر تنہا کر دیتا تھا:
"اگر کوئی خالق نہیں… تو یہ جمال، یہ نظم، یہ محبت؟ آخر ان سب کا ماخذ کیا ہے؟"
تاریخِ انسانیت کا فکری سفر ہمیشہ سوالات سے عبارت رہا ہے۔ یہ سوالات کائنات کی حقیقت، انسان کی حیثیت، علم کی بنیاد، اور اخلاق کے سرچشمے جیسے موضوعات سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب قرونِ وسطیٰ میں مذہبی اقتدار اور روایت نے عقل کو محدود کر دیا، تو یورپ میں ایک فکری بغاوت نے جنم لیا جسے ہم جدید دور یا عہدِ روشن خیالی (Enlightenment) کا آغاز کہتے ہیں۔ اسی تحریک نے جدید سائنسی اور فکری دنیا کی بنیاد رکھی، جو محض ایک سائنسی انقلاب نہ تھا، بلکہ ایک گہرا فلسفیانہ انقلاب بھی تھا۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اس جدید دنیا کی فکری عمارت کن بنیادی فلسفیانہ اصولوں پر قائم ہوئی۔
فلسفہ، انسانی شعور کا وہ ارتقائی سفر ہے جو "کیا"، "کیوں"، اور "کیسے" کے سوالات سے جنم لیتا ہے۔ یہ سفر ازل سے جاری ہے، اور ہر دور نے اپنی مخصوص ذہنی ساخت، علمی تناظر اور تمدنی ضرورتوں کے مطابق فلسفے کی نئی جہات کو جنم دیا۔ اگر ہم قدیم فلسفے کو "وجود کے شعور" کا دور کہیں، تو جدید فلسفہ کو "شعور کے وجود" کا دور کہنا بے جا نہ ہوگا۔ زیر نظر مضمون میں ہم قدیم اور جدید فلسفہ کے افکار، محرکات، طرزِ استدلال اور اہداف کا تقابلی جائزہ پیش کریں گے۔
قدیم فلسفہ بالخصوص سقراط، افلاطون اور ارسطو کے ہاں عقل ہی علم کا اصل منبع سمجھی جاتی تھی۔ افلاطون "عالمِ مثل" کا قائل تھا، جہاں سچی حقیقتیں ماورائے حواس موجود تھیں۔ ارسطو نے اگرچہ تجربے کو اہمیت دی، مگر اس کا مقصد "کلیات" تک پہنچنا تھا، نہ کہ صرف مشاہداتی سچائیوں پر قناعت۔
جبکہ جدید فلسفہ (خاص طور پر دکارٹ، ہیوم، کانٹ کے بعد) نے علم کی بنیاد پر شک، تجربہ، اور شعور کو مرکوز کر دیا۔ رینے دکارٹ نے "میں سوچتا ہوں، پس میں ہوں" کے ذریعے فلسفے کی بنیاد کو انا اور شک میں تبدیل کیا۔ ہیوم نے تجرباتی بنیاد کو مقدم جانا، اور کانٹ نے دونوں کے درمیان ایک "نقادانہ مصالحت" کی کوشش کی۔