نئے عالمی اتحاد اور امریکی پسپائی


بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے فیصلے محض وقتی ردِعمل نہیں ہوتے، بلکہ وہ ماضی کے تجربات اور مستقبل کے خدشات کے امتزاج سے جنم لیتے ہیں۔ آج عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ، جو کبھی واحد سپر پاور کے طور پر دنیا کی سمت متعین کرتا تھا، اب اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ دوسری جانب چین، روس، یورپی یونین، ہندوستان اور متعدد علاقائی قوتیں ایک نئے کثیر قطبی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔

یہ کہنا سادہ لوحی ہوگا کہ امریکہ عالمی سیاست سے مکمل طور پر دستبردار ہو رہا ہے۔ درحقیقت ماہرین کے مطابق یہ ایک اسٹریٹجک ری ایڈجسٹمنٹ ہے، نہ کہ مکمل انخلا۔

معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ امریکہ کو چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے صنعتی اور تکنیکی اثر و رسوخ کا سامنا ہے۔ اس چیلنج کے پیشِ نظر امریکی پالیسی ساز اب بیرونی مداخلت کے بجائے انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مینوفیکچرنگ کی بحالی کو قومی سلامتی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

عراق اور افغانستان کی طویل جنگوں نے امریکی معاشرے اور ریاست دونوں کو یہ احساس دلایا کہ براہِ راست فوجی مداخلت نہ صرف مہنگی ہے بلکہ سیاسی طور پر غیر مقبول بھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب جنگی محاذ آرائی کے بجائے پابندیوں، اتحاد سازی اور سفارتی دباؤ جیسے نسبتاً کم خرچ اور کم خطرناک ذرائع کو ترجیح دے رہا ہے۔

امریکی توجہ کے اس ارتکاز نے عالمی سیاست میں ایک خلا پیدا کیا ہے، جسے علاقائی طاقتیں پُر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

 یورپی یونین اب واضح طور پر اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مکمل عسکری اور سیاسی انحصار امریکہ پر رکھنا طویل المدت حکمتِ عملی نہیں۔ مشترکہ یورپی دفاعی نظام، توانائی میں خود کفالت اور بھارت کے ساتھ بڑھتا ہوا تجارتی تعاون اس بات کی علامت ہے کہ یورپ اپنی عالمی حیثیت ازسرِ نو متعین کرنا چاہتا ہے۔

چین اور ہندوستان، اختلافات کے باوجود، ایشیا کی معاشی و جغرافیائی سیاست میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اور خطے میں اقتصادی راہداریوں کا قیام، جبکہ ہندوستان کی ایشیائی یورپی اور افریقی منڈیوں تک رسائی کی کوششیں، ایک ایسے ایشیائی نظام کی تشکیل کر رہی ہیں جو مغربی بالادستی کے متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ برسوں میں خطے کے روایتی حریفوں کے درمیان مکالمے اور سفارتی تعلقات کی بحالی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بیرونی طاقتوں کی کم ہوتی مداخلت نے مقامی حل کی گنجائش پیدا کی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی طاقتوں کے کردار میں تبدیلی کی بھی علامت ہے۔

افریقہ اب محض ایک پس منظر نہیں رہا بلکہ عالمی طاقتوں کی اسٹریٹجک ترجیحات کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

چین نے افریقہ میں جس پیمانے پر بنیادی ڈھانچے، توانائی اور کان کنی میں سرمایہ کاری کی ہے، وہ اسے براعظم کا سب سے بڑا اقتصادی شراکت دار بنا چکی ہے۔ یہ سرمایہ کاری محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ کا ذریعہ بھی ہے، جس کے ذریعے چین افریقی ممالک کو مغربی مالیاتی اداروں کے متبادل فراہم کر رہا ہے۔

 روس نے بھی افریقہ میں دفاعی تعاون، ہتھیاروں کی فراہمی اور عسکری تربیت کے ذریعے اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔ مغربی طاقتوں، خصوصاً فرانس، کے بعض علاقوں سے انخلا کے بعد روس نے سکیورٹی کے خلا کو پُر کر کے خود کو ایک قابلِ اعتماد اتحادی کے طور پر پیش کیا ہے۔

مجموعی طور پرسیاسی ، معاشی اور دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا اب یک قطبی نظام سے نکل کر ایک کثیر قطبی عالمی ترتیب کی جانب بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کی محدود ہوتی عالمی مداخلت نے دیگر طاقتوں کو اپنی علاقائی خودمختاری اور باہمی اتحاد مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یورپ مشرق وسطی اور افریقہ میں چین اور روس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اس تبدیلی کی واضح مثال ہیں، جہاں اثر و رسوخ اب بندوق کے بجائے سرمایہ کاری، شراکت داری اور طویل المدت منصوبہ بندی کے ذریعے قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ نیا عالمی منظرنامہ نہ صرف طاقت کے توازن کو بدل رہا ہے بلکہ مستقبل کی عالمی سیاست کے خدوخال بھی ازسرِ نو متعین کر رہا ہے۔