آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور بین الاقوامی کشیدگی کے مرکز میں آ کھڑی ہوئی ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حساس سمندری گزرگاہ میں جنگی مشقیں کی جائیں گی۔ اسی تناظر میں عالمی خبر رساں اداروں نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ایران نے شپنگ کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کر کے آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیاں متوقع ہیں۔ اگرچہ بعض غیر مصدقہ ذرائع روس اور چین کی ممکنہ شمولیت کا ذکر کر رہے ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس خاموشی نے خود اس اعلان کو مزید معنی خیز بنا دیا ہے۔
یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک بار پھر شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ جوہری معاہدے کے تعطل، امریکی پابندیوں، خطے میں امریکی بحری موجودگی اور اسرائیل-غزہ جنگ کے اثرات نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نازک مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے خلیج اور اس کے اطراف میں بحری بیڑوں کی موجودگی ایران کے لیے محض ایک عسکری چیلنج نہیں بلکہ ایک مسلسل سیاسی دباؤ بھی ہے۔ ایسے ماحول میں آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا اعلان دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے تیار ہے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو آمادہ نہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی ہے۔ دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ اسی تنگ مگر انتہائی اہم سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ سعودی عرب، ایران، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات اسی گزرگاہ کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر اس راستے میں ذرا سی بھی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات لمحوں میں عالمی منڈیوں تک پہنچ جاتے ہیں، تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور عالمی معیشت دباؤ میں آ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی سرگرمی کو محض ایک معمول کی مشق نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے عالمی طاقتوں کے لیے ایک انتباہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے ان مشقوں کا اعلان دراصل ایک حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا اقدام محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف یہ اپنے داخلی محاذ پر یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ریاست اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کی کمزوری قبول نہیں کرے گی، تو دوسری جانب یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ دباؤ، پابندیاں اور عسکری دھمکیاں ایران کو پسپائی پر مجبور نہیں کر سکتیں۔ یہ مشقیں طاقت کے اظہار کے ساتھ ساتھ ایک دفاعی ڈٹیرنس کا کردار بھی ادا کرتی ہیں، جس کا مقصد ممکنہ تصادم کو روکنا ہے، نہ کہ لازماً اسے بھڑکانا۔
آج کے عالمی اخبارات اور تجزیے اس نکتے پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یوکرین کی جنگ، عالمی معاشی سست روی اور توانائی بحران کے خدشات کے درمیان اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات پورے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی ممالک، چین اور حتیٰ کہ بعض علاقائی ریاستیں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم سے بچنے پر زور دے رہی ہیں۔ ایران کی جانب سے بیک وقت مذاکرات کی آمادگی اور فوجی تیاری کا اظہار اسی دوہری حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں ہونے والی یہ مشقیں صرف توپوں، میزائلوں اور جنگی جہازوں کی مشق نہیں بلکہ یہ عالمی سیاست کی زبان میں ایک خاموش مگر گہرا جملہ ہیں۔ یہ جملہ دنیا کو یاد دلا رہا ہے کہ طاقت کے توازن کو نظرانداز کرنا، سفارت کاری کو پسِ پشت ڈال دینا اور مسائل کو صرف عسکری زاویے سے دیکھنا پورے خطے کو ایک ایسے بحران میں دھکیل سکتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔ موجودہ حالات میں اصل ضرورت تحمل، تدبر اور سفارتی بصیرت کی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی ایک فریق کی لغزش صرف خلیج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کی لہریں پوری دنیا میں محسوس کی جائیں گی۔
