دنیا کے عظیم ترین سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں اور ان کے مالیاتی فلسفے پر مبنی ایک جامع مضمون درج ذیل ہے:
اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں جن سرمایہ کاروں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی، ان کے پیچھے محض اتفاق یا خوش قسمتی نہیں، بلکہ ایک گہرا مالیاتی فلسفہ اور نظم و ضبط کارفرما تھا۔ اگر ہم دنیا کے دس مشہور سرمایہ کاروں، جیسے وارن بفٹ، بینجمن گراہم، پیٹر لنچ اور جان بوگل کی حکمت عملیوں کا مجموعی جائزہ لیں، تو چند بنیادی اصول ابھر کر سامنے آتے ہیں جو کسی بھی دور میں سرمایہ کاری کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
1. قدر کی تلاش (Value Investing) اور تحفظ کا مارجن
اسٹاک مارکیٹ کے فلسفے کی سب سے مضبوط بنیاد "ویلیو انویسٹنگ" ہے، جس کے بانی بینجمن گراہم تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اسٹاک محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک زندہ کاروبار کا حصہ ہے۔ ان کا مشہور فلسفہ "Margin of Safety" یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی حصص کو اس کی اصل قیمت (Intrinsic Value) سے بہت کم قیمت پر خریدنا چاہیے تاکہ نقصان کا خطرہ کم سے کم ہو۔ وارن بفٹ نے اسی نظریے کو اپنایا اور یہ ثابت کیا کہ "قیمت وہ ہے جو آپ ادا کرتے ہیں، اور قدر وہ ہے جو آپ حاصل کرتے ہیں۔"
2. طویل مدتی سوچ اور کمپاؤنڈنگ کی طاقت
عظیم سرمایہ کار مارکیٹ کے روزانہ کے اتار چڑھاؤ سے پریشان نہیں ہوتے۔ چارلی منگر اور بفٹ کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر آپ کسی کمپنی کے حصص دس سال تک رکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، تو اسے دس منٹ کے لیے بھی مت خریدیں۔ یہ فلسفہ "کمپاؤنڈنگ" (سود در سود) کی طاقت پر یقین رکھتا ہے، جہاں وقت کے ساتھ ساتھ معمولی سرمایہ کاری بھی ایک بڑے اثاثے میں بدل جاتی ہے۔
3. مشاہدہ اور ترقی (Growth Investing)
پیٹر لنچ اور فلپ فشر نے ایک مختلف زاویہ پیش کیا۔ لنچ کا فلسفہ سادہ تھا: "جو آپ جانتے ہیں اس میں سرمایہ کاری کریں"۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک عام انسان اپنے اردگرد کے ماحول اور مصنوعات کو دیکھ کر ان کمپنیوں کا انتخاب کر سکتا ہے جو مستقبل میں بڑی بننے والی ہیں۔ فشر نے اس میں "کوالٹی مینجمنٹ" کا عنصر شامل کیا، یعنی صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ کمپنی چلانے والوں کی قابلیت کو دیکھنا چاہیے۔
4. ہجوم کے خلاف چلنا (Contrarianism)
جان ٹیمپلٹن اور جارج سوروس جیسے سرمایہ کاروں کا فلسفہ یہ ہے کہ جب مارکیٹ میں خوف و ہراس پھیلا ہو، تب ہی بہترین مواقع ملتے ہیں۔ ٹیمپلٹن کے مطابق، "انتہائی مایوسی کا لمحہ خریدنے کا بہترین وقت ہوتا ہے"۔ یہ فلسفہ سکھاتا ہے کہ ہجوم کی پیروی کرنے کے بجائے اپنی تحقیق پر بھروسہ کریں اور تب خریدیں جب دنیا بیچ رہی ہو۔
5. سادگی اور انڈیکس انویسٹنگ
جہاں کچھ سرمایہ کار انفرادی اسٹاک چنتے ہیں، وہیں جان بوگل نے ایک انقلابی فلسفہ دیا کہ مارکیٹ کو شکست دینے کے بجائے "مارکیٹ بن جاؤ"۔ انہوں نے انڈیکس فنڈز متعارف کروائے، جن کا اصول ہے کہ کم فیس کے ساتھ پوری مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی جائے اور خاموشی سے مارکیٹ کی مجموعی ترقی کا فائدہ اٹھایا جائے۔
6. نظام اور اصولوں کی پابندی
رے ڈالیو اور جوئل گرین بلاٹ جیسے جدید دور کے ماہرین نے سرمایہ کاری کو جذبات سے نکال کر "اصولوں" (Principles) اور ریاضیاتی ماڈلز پر استوار کیا۔ ان کا فلسفہ یہ ہے کہ انسانی جذبات (خوف اور لالچ) سرمایہ کاری کے دشمن ہیں۔ لہٰذا، ایک ایسا خودکار نظام یا فارمولا ہونا چاہیے جو اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے کرے۔
حاصلِ کلام
ان تمام عظیم سرمایہ کاروں کے فلسفے کا نچوڑ یہ ہے کہ کامیاب سرمایہ کاری کے لیے تین چیزیں ناگزیر ہیں: صبر، مستقل مزاجی، اور علم۔ ان کا مشترکہ پیغام یہ ہے کہ سرمایہ کاری کوئی جوا نہیں بلکہ ایک علمی عمل ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں وہی شخص نام کماتا ہے جو قیمت (Price) کے بجائے کمپنی کی قدر (Value) کو سمجھتا ہے اور مارکیٹ کے شور کے بجائے اپنے مالیاتی اصولوں پر قائم رہتا ہے۔
