قرآن کی نظر میں دولت: صرف فتنہ نہیں، بلکہ خیر و فضل بھی ہے ۔
عام مذہبی بیانیے میں دولت کو اکثر روحانیت کے مقابل لا کھڑا کیا جاتا ہے، گویا غربت تقویٰ کی علامت اور خوشحالی دین کے منافی ہو۔ مگر جب ہم قرآن کو براہِ راست پڑھتے ہیں تو ایک بالکل مختلف، متوازن اور حقیقت پسندانہ تصور سامنے آتا ہے۔ قرآن دولت کو نہ صرف انسانی زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت مانتا ہے بلکہ کئی مقامات پر اسے خیر، فضل اور نعمت کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے۔
![]() |
| قرآن مجید اور جدید معیشت وتجارت |
سورۂ جمعہ میں نمازِ جمعہ کے بعد فرمایا جاتا ہے:
“جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو”۔
یہاں “فضل” سے مراد واضح طور پر رزق، تجارت اور معاشی جدوجہد ہے۔ غور کیجیے، قرآن عبادت اور معیشت کو آمنے سامنے نہیں بلکہ ایک ہی نظمِ زندگی کے دو پہلو قرار دیتا ہے۔
اسی طرح سورۂ عادیات میں انسان کی ایک نفسیاتی کمزوری بیان کی گئی ہے:
“اور بے شک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے”۔
یہاں بھی مال کو گناہ نہیں کہا گیا، بلکہ مال کی محبت میں شدت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گویا مسئلہ دولت نہیں، بلکہ اس کا دل پر قابض ہو جانا ہے۔
قرآن جگہ جگہ مال کو “خیر” کہتا ہے، جیسا کہ وراثت کے احکام میں:
“اگر وہ کچھ مال (خیر) چھوڑے”۔
یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ قرآن کی نظر میں مال بذاتِ خود شر نہیں بلکہ خیر ہے، بشرطیکہ وہ صحیح طریقے سے حاصل کیا جائے اور درست مصرف میں لایا جائے۔
معاشی جدوجہد کے حوالے سے قرآن کا لہجہ غیر معمولی طور پر مثبت ہے۔ وہ انسان کو زمین میں محنت کرنے، وسائل کو بروئے کار لانے اور رزق تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تجارت کو ناپسندیدہ مشغلہ نہیں بلکہ ایک فطری اور جائز سرگرمی قرار دیتا ہے، حتیٰ کہ حج جیسے عظیم روحانی عمل کے دوران بھی تجارت کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ دین، زندگی سے فرار نہیں بلکہ زندگی کی تنظیم ہے۔
البتہ قرآن ایک واضح اخلاقی لکیر کھینچ دیتا ہے۔ دولت اگر ظلم، سود، دھوکے، ذخیرہ اندوزی اور استحصال سے حاصل ہو تو وہ فساد بن جاتی ہے۔ اسی لیے سود کو اللہ اور رسول کے خلاف جنگ قرار دیا گیا، ناپ تول میں کمی کو قوموں کی ہلاکت کا سبب بتایا گیا، اور دولت کو چند ہاتھوں میں گردش کرنے سے روکا گیا۔
قرآن کے نزدیک مثالی معاشرہ وہ نہیں جہاں سب فقیر ہوں، بلکہ وہ ہے جہاں:
- دولت پیدا ہو
- گردش میں رہے
- کمزور تک پہنچے
- اور انسان کو خدا سے غافل نہ کرے
یہی وجہ ہے کہ قرآن زکوٰۃ، صدقات اور انفاق کو نظامِ معیشت کا حصہ بناتا ہے، محض اخلاقی نیکی نہیں۔
قرآنی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو فرعون کا جرم محض اقتدار نہیں، قارون کا جرم محض دولت نہیں، بلکہ دولت اور طاقت کو خود مختار بنا لینا ہے۔ اس کے برعکس سلیمانؑ جیسے نبی کو بے مثال دولت دی گئی، مگر وہ شکر اور عدل کا نمونہ بنے۔
قرآن کا پیغام نہ سرمایہ داری کی اندھی پرستش ہے، نہ رہبانہ فقر۔ وہ ایک ایسی معیشت چاہتا ہے جو اخلاق کے تابع ہو، اور ایسی روحانیت جو زندگی سے کٹی ہوئی نہ ہو۔
آخرکار قرآن انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ دولت مقصد نہیں، وسیلہ ہے؛ امتحان ہے، انعام بھی ہو سکتی ہے؛ فتنہ ہے، مگر فضل بھی۔ فیصلہ دولت نہیں کرتی، فیصلہ انسان کا کردار کرتا ہے۔
قرآن اور جدید سرمایہ دارانہ نظام: دولت، انسان اور اخلاق
جدید دنیا میں دولت محض ایک وسیلہ نہیں رہی، بلکہ ایک مرکزی نظریہ بن چکی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے انسانی تاریخ میں بے مثال دولت پیدا کی، مگر ساتھ ہی عدم مساوات، استحصال اور روحانی خلا کو بھی جنم دیا۔ ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ قرآن جس معاشی فکر کی بنیاد رکھتا ہے، وہ جدید سرمایہ داری سے کہاں ہم آہنگ ہے اور کہاں اس سے مختلف۔
سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ انسان بنیادی طور پر منافع کا متلاشی ہے، اور اگر اسے مکمل معاشی آزادی دے دی جائے تو منڈی خود بخود توازن پیدا کر لے گی۔ قرآن اس مفروضے کو جزوی طور پر تسلیم کرتا ہے۔ وہ مانتا ہے کہ انسان میں مال کی محبت موجود ہے، مگر وہ اس محبت کو خودکار نظام کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے اخلاقی اور روحانی نگرانی کے تحت رکھتا ہے۔
جدید سرمایہ داری میں دولت کی قدر کا پیمانہ نفع ہے، جبکہ قرآن میں دولت کی قدر کا پیمانہ عدل ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ سوال ثانوی ہے کہ دولت کیسے حاصل کی گئی اور کہاں صرف ہوئی، بس قانونی ہونی چاہیے۔ قرآن میں یہ دونوں سوال بنیادی ہیں:
— حصول بھی پاک ہو
— مصرف بھی ذمہ دارانہ ہو
یہی وجہ ہے کہ قرآن سود کو محض ایک معاشی خرابی نہیں بلکہ اخلاقی بگاڑ قرار دیتا ہے، کیونکہ سود دولت کو محنت اور خطرے سے آزاد کر کے کمزور کے خون سے جوڑ دیتا ہے۔ جدید سرمایہ داری میں سود پورے مالیاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جبکہ قرآن کی معیشت میں یہی ریڑھ کی ہڈی انصاف اور شراکت ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام دولت کے ارتکاز (concentration of wealth) کو ایک فطری عمل سمجھتا ہے۔ قرآن اس کے برعکس واضح اصول دیتا ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں گردش نہ کرے۔ یہاں قرآن نہ مکمل مساوات کا قائل ہے نہ جبری اشتراکیت کا، بلکہ وہ ایک متحرک توازن چاہتا ہے جہاں محنت، صلاحیت اور خطرہ تو اجر پائیں، مگر کمزور معاشی موت کا شکار نہ ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن تجارت، کاروبار اور منڈی کو رد نہیں کرتا، بلکہ انہیں انسانی تہذیب کی فطری ضرورت مانتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جدید سرمایہ داری میں منڈی انسان پر حاکم ہے، جبکہ قرآن میں منڈی انسان کے تابع ہے۔ سرمایہ داری انسان کو صارف (consumer) بنا دیتی ہے، قرآن اسے امانت دار بناتا ہے۔
قرآن کی معیشت میں دولت کا تعلق صرف فرد سے نہیں بلکہ معاشرے سے بھی ہے۔ زکوٰۃ، صدقات اور انفاق کوئی خیراتی سرگرمیاں نہیں بلکہ معاشی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ جدید سرمایہ دارانہ ریاست میں فلاحی نظام اکثر ریاستی دباؤ یا سیاسی مجبوری کا نتیجہ ہوتا ہے، جبکہ قرآن میں یہ فرد کے ایمان اور اخلاق سے پھوٹتا ہے۔
سب سے بنیادی فرق مقصدِ حیات کا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں کامیابی کی تعریف زیادہ سے زیادہ دولت ہے۔ قرآن میں کامیابی کی تعریف تزکیۂ نفس اور عدلِ اجتماعی ہے۔ اسی لیے قرآن دولت مند ہونے کو نہ نجات کی ضمانت سمجھتا ہے، نہ محرومی کی دلیل۔
قرآن ہمیں ایک ایسے معاشی انسان کا تصور دیتا ہے جو محنتی بھی ہے، تاجر بھی، خوشحال بھی ہو سکتا ہے، مگر ساتھ ہی جواب دہ بھی ہے۔ اس کے برعکس جدید سرمایہ داری میں جواب دہی اکثر قانون تک محدود ہو جاتی ہے، ضمیر تک نہیں پہنچتی۔
یہ کہنا غلط ہوگا کہ قرآن کوئی تفصیلی معاشی ماڈل پیش کرتا ہے، مگر یہ کہنا درست ہے کہ وہ ایک اخلاقی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے بغیر کوئی بھی معاشی نظام بالآخر انسان کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ دولت کتنی ہے، سوال یہ ہے کہ دولت کس کے اختیار میں ہے—انسان کے، یا انسان کے خالق کے دیے ہوئے اخلاق کے؟
جدید مالیاتی ادارے اور قرآن: منڈی، منافع اور انسان
آج کی دنیا میں طاقت کا اصل مرکز ریاستیں نہیں بلکہ مالیاتی ادارے ہیں۔ بینک، اسٹاک مارکیٹس اور ملٹی نیشنل کمپنیاں نہ صرف معیشت بلکہ سیاست، ثقافت اور حتیٰ کہ انسانی اقدار تک کو متاثر کر رہی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال محض مذہبی نہیں بلکہ تہذیبی بن جاتا ہے کہ قرآن ان جدید اداروں کو کس نظر سے دیکھتا ہے، اور ان کے لیے کون سے اصول متعین کرتا ہے۔
بینکنگ نظام سے آغاز کریں۔ جدید بینکاری سود پر قائم ہے، اور سود کو قرآن نے غیر معمولی شدت کے ساتھ رد کیا ہے۔ قرآن کی مخالفت سود کی مقدار سے نہیں بلکہ اس کی نوعیت سے ہے۔ سود ایسا منافع ہے جو محنت، خطرے اور شراکت سے آزاد ہوتا ہے۔ یہ دولت کو حقیقی معیشت کے بجائے کاغذی گردش میں قید کر دیتا ہے۔ قرآن اس کے مقابلے میں تجارت، شراکت اور خطرے کی تقسیم کو جائز قرار دیتا ہے۔ گویا مسئلہ مالیاتی ادارے کا وجود نہیں بلکہ اس کا اخلاقی ڈھانچہ ہے۔
قرآن ایسی معیشت چاہتا ہے جہاں سرمائے اور محنت کے درمیان تعلق قائم رہے۔ جدید بینکاری میں یہ تعلق اکثر ٹوٹ جاتا ہے۔ پیسہ خود پیسہ پیدا کرتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ انسانی ضرورت، پیداوار یا معاشرتی فائدے سے جڑا ہو۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں قرآن بینکاری کو اخلاقی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔
اب اسٹاک مارکیٹ کو دیکھیے۔ قرآن تجارت اور سرمایہ کاری کی نفی نہیں کرتا۔ بلکہ وہ ناپ تول میں انصاف، معاہدوں کی پاسداری اور دھوکے سے اجتناب کو لازم قرار دیتا ہے۔ اگر اسٹاک مارکیٹ حقیقی کمپنیوں کی پیداوار، شفاف معلومات اور منافع و نقصان کی منصفانہ تقسیم پر قائم ہو تو وہ قرآنی اصولوں سے متصادم نہیں۔ مگر جب یہ مارکیٹ محض قیاس آرائی، افواہوں اور لمحاتی منافع کا کھیل بن جائے تو یہ قمار سے مشابہ ہو جاتی ہے—اور قرآن قمار کو معاشرتی زہر قرار دیتا ہے۔
قرآن کی نظر میں سرمایہ کاری وہ ہے جو قدر پیدا کرے، نہ کہ صرف قیمت بڑھائے۔ جدید مالیاتی منڈیاں اکثر قدر کے بجائے قیمت کے تعاقب میں لگی رہتی ہیں، جس کا نتیجہ معاشی بلبلے، بحران اور عام انسان کی محرومی کی صورت میں نکلتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی۔ قرآن دولت کی پیدائش کے خلاف نہیں، مگر وہ دولت کے ارتکاز کے خلاف ہے۔ جب چند کمپنیاں عالمی وسائل، محنت اور منڈیوں پر قابض ہو جائیں تو قرآن کا اصول “دولت چند ہاتھوں میں گردش نہ کرے” مجروح ہو جاتا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں اگر کمزور ممالک میں سستی محنت، ماحولیاتی نقصان اور ٹیکس چوری کے ذریعے منافع کمائیں تو یہ قرآنی عدل کے منافی ہے، چاہے وہ قانونی ہی کیوں نہ ہو۔
قرآن قانون کی نہیں، انصاف کی بات کرتا ہے۔ وہ طاقتور سے زیادہ کمزور کا تحفظ چاہتا ہے۔ اسی لیے وہ نفع کے ساتھ ذمہ داری کو لازم قرار دیتا ہے۔ ملٹی نیشنل ادارے اگر علم، روزگار اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی بھلائی کا ذریعہ بنیں تو وہ قرآنی تصورِ خیر کے قریب آ سکتے ہیں، مگر اگر وہ محض منافع کے دیوتا بن جائیں تو وہ قارونی ذہنیت کا جدید روپ ہیں۔
قرآن جدید مالیاتی اداروں کو ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ انہیں انسانی خدمت کے تابع کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کی معیشت کا مرکز انسان ہے، منڈی نہیں؛ اخلاق ہے، نفع نہیں؛ جواب دہی ہے، خود مختاری نہیں۔
آخرکار قرآن ہمیں یہ اصول دیتا ہے کہ:
- منڈی ہو، مگر بے لگام نہ ہو
- منافع ہو، مگر استحصال کے بغیر
- دولت ہو، مگر عبادت نہ بن جائے
یہی وہ کسوٹی ہے جس پر ہر جدید مالیاتی ادارے کو پرکھا جا سکتا ہے—اور شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب دیے بغیر جدید تہذیب اپنے معاشی بحرانوں سے نہیں نکل سکتی۔
قرآن، عالمی سرمایہ داری اور مسلم دنیا کی معاشی حکمتِ عملی
عالمی سرمایہ داری آج محض ایک معاشی نظام نہیں رہی، بلکہ ایک ہمہ گیر تہذیبی ڈھانچہ بن چکی ہے۔ منڈی، منافع اور صارفیت اب صرف تجارت تک محدود نہیں، بلکہ ریاستوں کی پالیسیاں، سماجی اقدار اور انسانی ترجیحات سب اسی کے زیرِ اثر تشکیل پا رہی ہیں۔ مسلم دنیا اس نظام کا حصہ بھی ہے اور اس کی زد میں بھی—لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس میں کردار ادا کر رہی ہے یا محض ردِعمل؟
قرآن عالمی سرمایہ داری کو کسی ایک لفظ میں رد یا قبول نہیں کرتا، بلکہ وہ ایک اخلاقی کسوٹی فراہم کرتا ہے جس پر ہر معاشی نظام کو پرکھا جا سکتا ہے۔ قرآن دولت کی تخلیق کے خلاف نہیں؛ وہ اسے فضل اور خیر قرار دیتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ شرط عائد کرتا ہے کہ دولت انسان پر حاکم نہ بنے، بلکہ انسان کے اخلاق کے تابع رہے۔
عالمی سرمایہ داری کی بنیادی قوت سرمایے کی آزادی ہے۔ مگر یہی آزادی جب اخلاق سے کٹ جائے تو استحصال میں بدل جاتی ہے۔ قرآن اسی نکتے پر سرمایہ داری سے جدا ہو جاتا ہے۔ وہ آزادی کو ذمہ داری سے جوڑتا ہے، منافع کو عدل کے تابع کرتا ہے، اور طاقت کو جواب دہ بناتا ہے۔ قرآن کے نزدیک دولت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنی پیدا ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ کس قیمت پر اور کس کے فائدے کے لیے۔
مسلم دنیا کا المیہ یہ ہے کہ وہ عالمی سرمایہ داری سے دو انتہاؤں پر کھڑی نظر آتی ہے۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جو اس نظام کو بلا تنقید قبول کر چکے ہیں—جہاں معیشت ترقی کرتی ہے مگر معاشرہ ٹوٹتا ہے۔ دوسری طرف وہ حلقے ہیں جو سرمایہ داری کے رد میں ایسی رہبانہ سوچ اپناتے ہیں جو خود قرآن کے تصورِ حیات سے متصادم ہے۔ قرآن ان دونوں کے درمیان ایک تیسری راہ دکھاتا ہے۔
یہ تیسری راہ کیا ہے؟
یہ معیشت کو عبادت کے مقابل نہیں بلکہ اس کے ساتھ جوڑنے کی راہ ہے۔ قرآن انسان کو زمین میں محنت کرنے، تجارت کرنے، وسائل دریافت کرنے اور خوشحال ہونے کی دعوت دیتا ہے، مگر ساتھ ہی اسے یاد دلاتا ہے کہ وہ محض صارف نہیں بلکہ امین ہے۔ زمین کی امانت، وسائل کی امانت اور دولت کی امانت—یہی وہ تصور ہے جو مسلم دنیا کی معاشی حکمتِ عملی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
عالمی سرمایہ داری میں ریاست اکثر منڈی کی خادم بن جاتی ہے، جبکہ قرآن میں ریاست کا کردار عدل کے قیام سے جڑا ہے۔ مسلم دنیا اگر واقعی قرآنی حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے تو اسے:
- سودی انحصار کم کرنا ہوگا
- حقیقی معیشت (پیداوار، زراعت، صنعت) کو ترجیح دینا ہوگی
- دولت کے ارتکاز کے بجائے اس کی گردش کو ممکن بنانا ہوگا
- اور تعلیم، تحقیق اور انسانی سرمایہ کو معاشی پالیسی کا مرکز بنانا ہوگا
یہ سب کسی خیالی اسلامی ماڈل کی باتیں نہیں، بلکہ خود قرآن کے عملی اصول ہیں۔
قرآن عالمی سرمایہ داری کے مقابل کوئی متبادل نظام ایک ہی سانچے میں نہیں دیتا، مگر وہ کردار، سمت اور حدود ضرور متعین کرتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر منڈی خدا بن جائے تو انسان غلام بن جاتا ہے، اور اگر اخلاق کو مرکز بنا لیا جائے تو منڈی انسان کی خادم بن سکتی ہے۔
مسلم دنیا کی اصل کمزوری وسائل کی کمی نہیں، بلکہ فکری خود اعتمادی کی کمی ہے۔ قرآن اسے دعوت دیتا ہے کہ وہ نہ مغرب کی اندھی تقلید کرے، نہ ماضی کی خیالی عظمت میں پناہ لے، بلکہ اپنے اصولوں کی روشنی میں جدید دنیا سے مکالمہ کرے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ مسلم دنیا سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہے یا باہر—اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس نظام میں قرآنی ضمیر کے ساتھ داخل ہوتی ہے یا بغیر ضمیر کے؟ کیونکہ قرآن کے نزدیک اصل کامیابی زیادہ دولت نہیں، بلکہ زیادہ عدل ہے۔
