ایران کی تاریخ میں 28 فروری 2026 کا دن ایک بڑے موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب دارالحکومت تہران میں ان کے دفتر (لیڈرشپ ہاؤس) پر ہونے والے حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح (یکم مارچ) اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے ملک میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
علی حسینی خامنہ ای 19 اپریل 1939 کو مشہد کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
تعلیم و جدوجہد: انہوں نے قم اور مشہد کے مدارس سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی اور شاہِ ایران کے خلاف تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس کی پاداش میں انہیں کئی بار جیل بھی جانا پڑا۔
سیاسی سفر: 1979 کے انقلاب کے بعد وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اہم ستون بن کر ابھرے۔ وہ 1981 سے 1989 تک ایران کے صدر رہے۔
1989 میں بانیِ انقلاب امام خمینی کی وفات کے بعد وہ ایران کے دوسرے 'رہبرِ اعلیٰ' (سپریم لیڈر) منتخب ہوئے اور اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔
ایران میں سپریم لیڈر (ولایتِ فقیہ) کا عہدہ محض رسمی نہیں بلکہ ملک کا طاقتور ترین منصب ہے:حتمی فیصلہ ساز: خارجہ پالیسی، ایٹمی پروگرام اور دفاعی حکمتِ عملی جیسے تمام حساس معاملات میں آخری فیصلہ سپریم لیڈر کا ہوتا ہے۔
فوجی کمان: وہ ایران کی تمام مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کمانڈر انچیف ہوتے ہیں۔
یہ عہدہ شیعہ فقہ کے تصور 'ولایتِ فقیہ' کے تحت سیاسی اور مذہبی طاقت کا سنگم ہے، جو ملک کے تمام اداروں (عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ) پر نگران کی حیثیت رکھتا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی وفات سے نہ صرف ایران بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے، اور اب دنیا کی نظریں ان کے جانشین کے انتخاب پر مرکوز ہیں۔
اس حملے نے امتِ مسلمہ کے ان زخموں کو تازہ کر دیا ہے جو پہلے ہی غزہ اور فلسطین کی صورتحال سے چور تھے۔ آج تہران سے لے کر بیروت اور بغداد سے لے کر یمن تک ایک ہی لہر ہے—انتقام کی لہر۔ ایران کے زیرِ اثر 'محورِ مزاحمت' (حزب اللہ، حوثی اور عراقی ملیشیا) کے لیے یہ حملہ ایک ریڈ لائن کو عبور کرنے کے مترادف ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اب جنگ روایتی محاذوں سے نکل کر گوریلا کارروائیوں اور عالمی سطح پر امریکی و اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے تک پھیل سکتی ہے۔
اس واقعے نے دنیا کو دو واضح بلاکس میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں، جبکہ دوسری طرف روس اور چین تہران کے پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ روس اس موقع کو یوکرین جنگ سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کرے گا، جبکہ چین اپنی توانائی کی ضروریات کے تحفظ کے لیے ایران کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ اقوامِ متحدہ ہمیشہ کی طرح ویٹو پاورز کے درمیان فٹ بال بنی نظر آتی ہے، جس سے اس ادارے کی ساکھ پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔
یہ حملہ صرف ایک فرد کی شہادت نہیں، بلکہ ایک نئی عالمی ترتیب کا اعلان ہے۔ اسرائیل اور امریکہ نے شاید ایک بڑی رکاوٹ کو ہٹانے کا جشن منایا ہو، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب نظریات کے حامل رہنماؤں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو وہ تحریکیں مزید شدت اختیار کر جاتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے آتش فشاں پر بیٹھا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ کر عالمی نظام کو راکھ کر سکتا ہے۔ دنیا کو اب ایک نئی اور زیادہ خطرناک 'سرد جنگ' کے لیے تیار رہنا چاہیے، جہاں سفارت کاری کی جگہ بارود اور مذاکرات کی جگہ ڈرون حملوں نے لے لی ہے۔
