انسانی تاریخ میں حسن و جمال پر بہت کچھ کہا اور لکھا گیا، لیکن کائنات کی وہ ہستی جس کے حسن کی گواہی خود خالقِ کائنات نے دی، ان کا سراپا بیان کرنا کسی بھی شاعر و ادیب کے لیے ایک کٹھن امتحان سے کم نہیں۔ صحابہ کرام اور شعراءِ اسلام نے جب بھی آپ ﷺ کے جمالِ جہاں آرا کی طرف نظر کی، تو الفاظ نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور قافیے وجد میں آ گئے۔
عربی ادب اور سیرتِ طیبہ کے اوراق میں ایک ایسا ہی روح پرور واقعہ ملتا ہے جس کا مرکز سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی محبت اور ایک قدیم عربی شعر ہے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ جب حضور اکرم ﷺ اپنے کسی دستی کام میں مصروف تھے اور آپ ﷺ کی جبینِ انور سے پسینے کے قطرے نور بن کر ڈھلک رہے تھے، تو سیدہ عائشہؓ اس منظر کی تاب نہ لاتے ہوئے پکار اٹھیں:
وإذا نظرت إلى أسرة وجهه ... برقت كبرق العارض المتهلل
یہ شعر اگرچہ ابو کبیر الہذلی کا ہے، لیکن سیدہ عائشہؓ کا اسے آپ ﷺ کے حق میں پڑھنا اس کے معنی کو لافانی کر گیا۔ اس شعر کی لغوی تشریح ہمیں اس جمال کے قریب لے جاتی ہے:
أسِرّة وجهه: "اسِرّہ" سے مراد چہرے کی وہ لطیف لکیریں ہیں جو انسان کے ماتھے یا آنکھوں کے گرد مسکراتے وقت یا خوشی کی حالت میں نمایاں ہوتی ہیں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کا چہرہ محض سادہ نہیں تھا، بلکہ اس کی ایک ایک لکیر سے انوارِ الٰہیہ پھوٹتے تھے۔
العارض المتهلل: عربی میں "عارض" اس بادل کو کہتے ہیں جو افق پر پھیل کر چھا جائے، اور "متهلل" اس بادل کو کہتے ہیں جو بارش برسانے کے لیے اس طرح تیار ہو کہ بجلی مسلسل چمک رہی ہو۔
تشبیہ کی خوبصورتی: عرب کے ریگزاروں میں بجلی کی چمک اور بارش کا بادل زندگی کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ سیدہ عائشہؓ نے آپ ﷺ کے روئے مبارک کی چمک کو اس بجلی سے تشبیہ دی جو پیاسی زمین کو بارش کی نوید دیتی ہے۔ گویا آپ ﷺ کا چہرہ دیکھنا صرف بصری لذت نہیں بلکہ روح کی پیاس بجھانے کا سامان بھی تھا۔
سیدہ عائشہؓ کے علاوہ دیگر شعراء نے بھی اپنے اپنے انداز میں اس نور مجسم کا احاطہ کرنے کی کوشش کی۔ حضرت حسان بن ثابتؓ نے تو مبالغے کی حد کر دی جب انہوں نے کہا کہ
وأحسن منك لم تر قط عيني ... وأجمل منك لم تلد النساء
خُلقت مبرءاً من كل عيب ... كأنك قد خُلقت كما تشاء
خُلقت مبرءاً من كل عيب ... كأنك قد خُلقت كما تشاء
ترجمہ: آپ ﷺ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا، اور آپ ﷺ سے زیادہ جمیل کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔ آپ ﷺ ہر عیب سے اس طرح پاک پیدا کیے گئے ہیں، گویا آپ ﷺ اپنی مرضی کے مطابق (بغیر کسی کمی کے) پیدا ہوئے ہیں۔
یہ دراصل ہر اس آنکھ کی ترجمانی تھی جس نے آپ ﷺ کا دیدار کیا۔ اسی طرح حضرت کعب بن زہیرؓ نے آپ ﷺ کو "اللہ کی تلواروں میں سے ایک نورانی تلوار" قرار دیا، جس سے ہدایت کی روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ انہوں نے مسجد نبوی میں اپنا مشہور قصیدہ (بانَت سُعادُ) پڑھا، تو اس کا سب سے خوبصورت شعر یہ تھا :
إنَّ الرسولَ لنورٌ يُستضاءُ بهِ ... مُهنَّدٌ من سيوفِ اللهِ مسلولُ
ترجمہ: بے شک رسول ﷺ وہ سراپا نور ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے، اور آپ ﷺ اللہ کی تلواروں میں سے ایک نیام سے نکلی ہوئی (چمکتی ہوئی) ہندی تلوار ہیں۔ روایت ہے کہ اس شعر پر آپ ﷺ نے خوش ہو کر اپنی یمنی چادر (بردہ) انہیں عطا فرما دی تھی۔
یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چچا ابوطالب نے بھی آپ ﷺ کے بچپن کے حسن کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ "وہ ایسا گورا رنگ والا ہے جس کے چہرے کے صدقے بادلوں سے بارش مانگی جاتی ہے"۔
وأبيض يُستسقى الغمام بوجهه ... ثِمال اليتامى عِصمة للأرامل
ترجمہ: وہ (نبی ﷺ) ایسے گورے رنگ والے ہیں کہ ان کے چہرے کے طفیل بادلوں سے بارش مانگی جاتی ہے، وہ یتیموں کے لیے جائے پناہ اور بیواؤں کے محافظ ہیں۔
یہ تمام اشعار اس قلبی واردات کا اظہار ہیں جو آپ ﷺ کے صحابہ پر بیتتی تھی۔ سیدہ عائشہؓ کا پیش کردہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ آپ ﷺ کا حسنِ صورت دراصل آپ ﷺ کے حسنِ سیرت کا آئینہ دار تھا۔ وہ چمک جو بجلی کی طرح کوندتی تھی، دراصل وہ اطمینان اور رحمت تھی جو آپ ﷺ کے وجود سے پوری انسانیت کو میسر تھی۔ آج بھی جب ہم ان اشعار کو پڑھتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ جمالِ مصطفیٰ ﷺ کی تپش آج بھی دلوں کو ایمان کی حرارت بخش رہی ہے۔
حوالہ:
یہ واقعہ اور شعر سیرت اور حدیث کی مختلف کتب میں مذکور ہے، جیسے:
- دلائل النبوة للبیہقی (رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کا بیان)۔
- حلية الأولياء لابی نعیم الاصبہانی۔
- المعجم الکبیر للطبرانی۔