"موتُ العالمِ موتُ العالم" (ایک عالم کی موت، گویا پورے عالم کی موت ہے)
![]() |
| شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت |
علم و عرفان کی بزم آج سوگوار ہے اور قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صدائیں بلند کرنے والا ایک عظیم لہجہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔ ۵ مئی کی صبح، جب سورج اپنی کرنوں سے دنیا کو منور کر رہا تھا، چارسدہ کی زمین ایک ایسے جید عالم اور پیکرِ اخلاص کے خون سے رنگین ہو گئی جس نے اپنی پوری زندگی مسندِ تدریس اور خدمتِ دین کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب (رحمہ اللہ) محض ایک فرد کا نام نہیں تھا، بلکہ وہ دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک جیسے عظیم علمی مراکز کے مابین ایک معتبر کڑی تھے۔ ان کا وجود ان ہزاروں تشنگانِ علم کے لیے بادل کی طرح تھا جو دور دور سے حدیثِ نبویؐ کی پیاس بجھانے ان کے پاس آتے تھے۔ وہ جب مسندِ حدیث پر بیٹھتے تو علم کے موتی لٹاتے، اور جب ایوانِ سیاست میں قدم رکھتے تو حق گوئی و بے باکی کا استعارہ بن جاتے۔
شہادت کا یہ مقام اگرچہ ایک مومن کی معراج ہے اور مولانا نے اپنے رب کے حضور "احیاء عند ربھم" کا رتبہ پا لیا، مگر پسماندگان اور ملتِ اسلامیہ کے لیے یہ ایک ایسا زخم ہے جو مدتوں نہ بھر سکے گا۔ ایک ایسے وقت میں جب معاشرہ فکری بحرانوں کا شکار ہے، مولانا جیسے مخلص اور معتدل عالمِ دین کا اٹھ جانا کسی بڑے المیے سے کم نہیں۔ سفاک دشمن نے ایک چراغ نہیں بجھایا، بلکہ علم کی ایک پوری بستی کو اندھیرے میں دھکیلنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔
آج دارالعلوم نعمانیہ کی دیواریں اپنے شیخ کو پکار رہی ہیں اور حقانیہ کے در و دیوار اس مردِ حق کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ اہل حق کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ مولانا کی علمی وراثت ان کے ہزاروں شاگردوں کی صورت میں زندہ رہے گی، جو ان کے مشن کو بامِ عروج تک پہنچائیں گے۔
حق تعالیٰ حضرت شیخ الحدیث کی درجات بلند فرمائے، انہیں غریقِ رحمت کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ (آمین)
