(نوٹ : "بریدِ فرنگ" علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کے ان تاریخی خطوط کا مجموعہ ہے جو انہوں نے 1920ء میں تحریکِ خلافت کے وفد کے رکن کی حیثیت سے یورپ (انگلستان اور فرانس) کے سفر کے دوران ہندوستان میں اپنے رفقاء، خاص طور پر دار المصنفین اعظم گڑھ کے ساتھیوں کو لکھے تھے۔ فارسی میں "برید" کے معنی ڈاک یا قاصد کے ہیں، اس لیے فرنگ (یورپ) سے بھیجی گئی اس علمی و سیاسی ڈاک کو "بریدِ فرنگ" کا نام دیا گیا۔ ان مکتوبات میں جنگِ عظیم اول کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کی بقا اور اسلامی مقاماتِ مقدسہ کے تحفظ کے لیے کی جانے والی سفارتی جدوجہد، برطانوی حکام سے ملاقاتوں کے احوال، اور وفد کی سرگرمیوں کو نہایت تفصیل سے قلمبند کیا گیا ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ایک حساس عالمِ دین اور گہرے مبصر کی نظر سے یورپی طرزِ تمدن اور وہاں کے معاشرے کا تنقیدی مشاہدہ کرنے کے ساتھ ساتھ خطوط میں دار المصنفین کے علمی کاموں اور رسالہ "معارف" کی اشاعت سے متعلق ہدایات بھی شامل کی ہیں۔ اپنے سادہ، سلیس اور دلکش اسلوب کی وجہ سے یہ مجموعہ محض روایتی خطوط نہیں بلکہ ایک تاریخی سفرنامے اور ڈائری کی حیثیت رکھتا ہے، جو بیسویں صدی کے آغاز میں مسلم بیداری، بین الاقوامی سیاست اور ہندوستانی مسلمانوں کی ملی تڑپ کا ایک گراں قدر تاریخی اور ادبی دستاویز ہے۔ یہاں اس مجموعہ خطوط کا پس منظر پیش خدمت ہے جومصنف نے لکھا ہے )
آج ۱۹۵۱ء ہے، آج سے بتیس برس پہلے ۱۹۲۰ء تھا، ہماری کہانی اسی سال کی دُنیا سے تعلق رکھتی ہے، جب ۱۹۱۴ء، ۱۹۱۸ء والی جنگِ عظیم ختم ہو چکی تھی، اور ایران سے لے کرتھریس ( تونس) تک ساری دنیائے اسلام اتحادیوں کے ہاتھوں پامال ہو رہی تھی۔
۱۸۵۷ء کے بعد مسلمانوں کی سیاسی بیداری کا آغاز ۱۹۰۱ء سے شروع ہوتا ہے بوڑھوں میں اس کے پہلے محرک سرسید کے رفقائے
خاص میں سے ان کے جانشین دوم و قارالملک اور نوجوانوں میں پٹنہ کے مشہور بیرسٹر
مظہرالحق تھے، دونوں نے مل کر جیسا کہ مظہرالحق صاحب مرحوم نے مجھ سے کہا مسلم لیگ
کا خاکہ تیار کیا اور ۱۹۰۶ء میں مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے
اجلاس کے ساتھ ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خان کی قیادت میں اس کے مستقل وجود کا
اعلان کیا گیا، یہ ملکی سیاست کے میدان میں مسلمانوں کا سب سے پہلا قدم تھا۔ اُس
کے بعد اسی کانفرنس کے ساتھ اس کے رو کے پھیکے جلسے سال بسال ہونے لگے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو ملکی سیاست سے دلآویزی پیدا نہیں ہوتی تھی اور اس کی کھلی وجہ یہ تھی کہ ان کو صاف نظر آتا تھا کہ آج کل کے اصول سیاست او ںظام جمہوریت کے مطابق جو حکومت بھی ہندوستان میں قائم ہوگی اس میں مسلمانوں کی حیثیت محکومانہ ہوگی اور زیادہ سے زیادہ جو مسلمان کر سکتے تھے وہ یہ تھا کہ ملازمتوں میں استحقاق کے مطابق اور کونسلوں کی ممبریوں میں کچھ استحقاق سے زیادہ جگہ حاصل کرلیں اور یہی اس زمانہ کے مسلم لیگ کی سیاست تھی۔ عام مسلمانوں کو اس سیاست سے کچھ زیادہ دلچسپی نہ تھی بلکہ ان کی تمام تر دلچسپیاں بین الاقوامی سیاست میں خلافتِ عثمانیہ میں تھیں جس سے مسلمان دنیا میں اپنی ملی عزت و احترام کو وابستہ سمجھتے تھے، اور جو سلطانِ حرمین محترمین کا خادم اور اسلامی مقاماتِ مقدسہ کا محافظ تھا۔
حوادث اور اتفاقات ایسے پیش آئے کہ ۱۹۰۸ء میں خلافتِ عثمانیہ میں انقلاب
پیش آیا، نوجوان ترکوں کی انجمن اتحاد و ترقی کی خفیہ تدبیریں کامیاب ہوئیں اور
انہوں نے عبوری طور پر قسطنطنیہ پر قبضہ کر کے دستوری حکومت کا اعلان کر دیا اور
یہی وہ وقت تھا جب یورپ کی سلطنتوں نے مل کر یہ چاہا کہ ان نوجوان ترکوں کو
سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر ترکی حکومت کے حصے بخرے کر لیں، اس کا آغاز اس طرح ہوا
کہ نوجوان ترکوں کے اعلان کے چند ہی روز بعد اٹلی نے دولتِ عثمانیہ کے آخری افریقی
مقبوضہ طرابلس الغرب (ٹریپولی) پر حملہ کر دیا اس حملے نے سارے دنیائے اسلام میں
آگ لگا دی۔ خصوصیت کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں نے بڑے جوش و خروش سے اس میں حصہ
لیا اور شبلی اور اقبال جیسے شعراء بکمال نے
اپنے ترانوں سے مسلمانوں کو گرمایا اقبال
کا یہ شعر اب تک زمانہ کو یاد ہوگا ،
چمکتی ہے
تیری امت کی ابرو اس میں طرابلس
کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں
مسلمانوں
میں جوش و خروش برپا ہی تھا کہ انگریزوں نے ہندوستان میں بنگالیوں کے سیاسی زور کو
توڑنے کے لئے، جو اس وقت سیاست میں سب سے آگے تھے، بنگال کو مشرقی و مغربی دو حصوں
میں تقسیم کر دیا، اسی تقسیم کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی
اکثریت کی حقیقت روزِ روشن کی طرح نمایاں ہو گئی اور مشرقی بنگال جو سب سے پیچھے
تھا اس کو اپنی ترقی کا زریں موقع مل گیا اور مسلمانوں کے لیے کہ اس نئے صوبے میں
اکثریت میں پا کر بڑی خوشی ظاہر کی۔
اور یہ پہلا دن تھا کہ مسلمانوں کو ملکی سیاست
سے دلچسپی معلوم ہونے لگی، لیکن ابھی ان کی اس خوشی پر دو سال بھی گذرنے نہ پائے تھے کہ ہندو
بنگالیوں کے پُر زور ایجی ٹیشن سے مجبور ہو کر انگریزوں نے ۱۹۱۰ء میں بنگال کی تقسیم کومنسوخ کر
دیا۔ مسلمانوں کو اس کا بڑا صدمہ ہوا اور یہی زمانہ تھا جب نواب وقار الملک نے
انگریزوں کی حکومت کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا اور مولانا شبلی مرحوم نے
پولیٹیکل کروٹ کا سلسلہ شروع کیا جس نے مسلمانوں کے سیاسی رخ کو سرکار پرستی کی طرف سے پھیر کر صحیح سیاست کی
طرف کر دیا۔
ابھی یہ
صدمہ وہ بھولنے بھی نہ پائے تھے کہ اسی ۱۹۱۰ء
میں بلقان کی ریاستوں نے یورپ کی سلطنتوں کی شہ پا کر ایک ساتھ مل کر دولتِ
عثمانیہ کے یورپی حصوں میں بغاوت کر دی اور جنگِ بلقان کا آغاز ہوا، یہ جنگ کے
شعلے اگرچہ یورپ میں اٹھ رہے تھے، مگر ہندوستان کے مسلمانوں کے جوش و خروش دیکھ کر
ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ جنگ ہندوستان ہی میں لڑی جا رہی تھی۔ چند سال کے بعد یہ
جنگ اس طرح ختم ہوئی کہ ترکوں کے ہاتھ سے یورپ کا بڑا حصہ نکل گیا۔
اس کے
چار سال کے بعد ۱۹۱۴ء میں
خود یورپ کی سلطنتوں میں جنگ شروع ہو گئی، روس ،جرمنی اور آسٹریا ایک طرف اور
انگلینڈ اور فرانس اور اٹلی دوسری طرف، اس جنگ کے چند ماہ بعد ترکی نے نومبر ۱۹۱۴ء میں جرمنی کے ساتھ ہو کر
اتحادیوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا، اب مسلمان جو یورپ کی اس پہلی جنگِ عظیم میں ناطرف دار
تماشائی کی حیثیت رکھتے تھے، دفعتاً جرمنوں کے ساتھ ہمدردی ظاہر کرنے لگے، اس وقت
انگریزی حکومت نے ایک طرف مسلمان رعایا کی
تسکین کی خاطر یہ اعلان کیا کہ اسلام کے مقدس مقامات محفوظ رہیں گے، دوسری طرف
انہوں نے اسی جنگ کے جیتنے کے لئے عجیب و غریب سازش کی، انہوں نے ترکوں سے عربوں
کو الگ کرنے کے لئے شریفِ حسین امیر مکہ کو اپنے ساتھ ملا کر اور ایک عرب شہنشاہی
کا خواب دکھا کر جو بحر احمر سے لے کر بحرِ روم تک کو محیط ہو گی، ترکی حکومت سے
بغاوت کا اعلان کرا دیا اور اس لالچ میں عربوں کو ترکوں سے لڑانے کے لئے عراق و
شام اور حجاز کے میدانوں میں ان کو کھڑا کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عراق اور شام اور
فلسطین اور حجاز دولتِ عثمانیہ سے الگ ہو کر اتحادیوں کے قبضہ میں چلے گئے۔ ان
ممالکِ اسلامیہ کا جو احترام روزِ اول سے مسلمانوں میں تھا اس کے لحاظ سے اس حادثہ
سے ان کے دل کو سخت چوٹ لگی۔
ٹھیک اسی
وقت جب انگریز مصر میں بیٹھ کر شریفِ حسین سے عرب شہنشاہی کا معاہدہ کر رہے تھے،
وہ یوروپ میں جرمن کے یہودیوں کو فلسطین کی نذر پیش کر کے سارے یوروپ کے یہودیوں
کو اپنے ساتھ ملا رہے تھے اور آخر جب یہودیوں نے جرمن کے خلاف سازش کر کے اس کو
تباہ کر ڈالا اور اس کے بدلہ میں فلسطین کے مرکز کو قومی وطن بنائے جانے کا اعلان
انگریزی حکومت سے کرایا۔ یہی وہ تخم ہے جس سے فلسطین میں تیس سال کے عرصے میں
اسرائیل کی خود مختار حکومت کا نخل تناورہوا اور جو آج ہمارے سامنے ہے۔
انگریزوں
نے شریفِ حسین سے جس عرب شہنشاہی کا وعدہ کیا تھا اس کا ایفا اس طرح کیا کہ حجاز
کی بادشاہی ان کو دی گئی اور ان کے بڑے صاحبزادے امیر فیصل کو جو کرنل لارنس کے
ساتھ ساتھ ترکوں سے جنگ میں سب سے پیش پیش تھے اور جو لارڈ النبائی کے ہمرکاب بیت
المقدس کو ہلال کے قبضے سے نکال کر صلیب کے حوالہ کر رہے تھے، شام کا تخت پیش کیا
گیا، مگر یہ تخت چند ماہ سے زیادہ بچھا نہ
رہ سکا اور فرانس نے لڑ کر ان کو شام سے باہر کر دیا، ہماری کہانی جب شروع ہوتی ہے
اسی زمانہ کا یہ واقعہ ہے کہ امیر فیصل شام سے بے دخل ہو چکے تھے اور ابھی تک عراق
کی حکومت ان کو نہیں ملی تھی، پورا ملک عرب جو مجلسِ خلافت کے نزدیک عراق و شام و
حجاز پر مشتمل تھا ٹکڑے ٹکڑے ہو کر چند چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ کر انگریزوں
اور فرانسیسیوں کے زیرِ اقتدار تھا، مسلمانوں میں اس صورتِ حال سے بڑی بے چینی
تھی، ہندوستان کے مسلمان اس صورتِ حال کو انگریزوں کے اس صریح اعلان کے خلاف
سمجھتے تھے جس کے ذریعہ انہوں نے مسلمانوں سے ان کے مقدس مقامات کے محفوظ رہنے کا
وعدہ کیا تھا۔
دنیا کے
ایک اور عظیم الشان انقلاب پر جو روس میں پیش آیا تھا، گو دو برس گزر چکے تھے مگر
ہنوز اس کے افق کا مطلع صاف نہ تھا، اس وقت انگریز اس کے مقابلے کے لئے سفید
روسیوں کی فوج بنا کر ادھر ادھر معرکہ آرا تھے، روس کے اسلامی صوبے آزاد کئے جا
رہے تھے، آذربائیجان کی خود مختار کو انگریز تسلیم کر چکے تھے، بخارا، خیوا اور
دوسری اسلامی ریاستیں گو بالشویک روسیوں کی گرفت میں تھیں، تاہم دنیائے اسلام اب
تک یہ طے کر نہیں پائی تھی کہ اس انقلاب کا اثر مسلمانوں کے خلاف ہو گا یا موافق
بلکہ عام رجحان یہ تھا کہ یہ انقلاب اتحادیوں کے خلاف مظلوم قوموں کی حمایت ہی کرے
گا۔
مصر میں
اس وقت سعد زغلول پاشا کی سیادت میں آزادی خواہ گروہ کھڑا تھا اور سارا مصر سعد
زغلول پاشا کی قیادت پر یک زبان ہو کر انگریزوں کے بھیجے ہوئے ملزکمیشن کو بائیکاٹ
کر چکا تھا اور سعد زغلول پاشا اپنے رفقاء کے ساتھ اپنے مطالبات کو پیش کرنے
انگلینڈ اور فرانس جا رہے تھے۔
ٹرکی کی عظیم الشان سلطنت کا جو حصہ افریقہ میں تھا اٹلی غصب کر چکا تھا یورپ میں اس کے صوبے آسٹریا، بلغاریہ، سرویا، مانٹی نیگرو اور یونان میں بٹ چکے تھے، البانیہ کی چھوٹی سی ریاست جس میں اسلامی اکثریت تھی، گو خود مختار بن چکی تھی مگر اس وقت وہ اٹلی کے زد میں تھی۔ ترکی کے مشرقی حصے عراق و شام، فلسطین و حجاز وغیرہ باغی ہو کر شام فرانسیسیوں اور باقی انگریزوں کے تصرف میں تھے، اتحادی فوجیں اس وقت قسطنطنیہ پر قابض تھیں اور ٹرکی کی عظیم الشان سلطنت اس وقت اناطولیہ میں محدود تھی۔ ٹرکی کا سلطان قسطنطنیہ میں اتحادیوں کے بس میں تھا۔ فرانس کی سرزمین میں اتحادی فتح کے غرور کے نشہ میں صلح کی صورت میں خدا کی خدائی کی شکست و ریخت میں مصروف تھے اور ملکوں کی قسمتوں کے فیصلے کر رہے تھے۔ سب سے بڑا یہ امر زیرِ غور تھا کہ ٹرکی کا بقیہ یورپینی مقبوضہ تھریس کس کو دیا جائے، قسطنطنیہ پر کون قابض ہو۔ اناطولیہ میں سمرنا گویا یونانیوں کو مل ہی چکا تھا اور بقیہ اناطولیہ کی سپردگی کا مسئلہ درپیش تھا، یونان کا وزیرِ اعظم وینی زیلاس برطانیہ کو اس بات پر آمادہ کر رہا تھا کہ ترکی کا بڑا حصہ یونان کے حوالے کر دیا جائے۔ اُدھر ترکی کے صوبہ آرمینیا میں اتحادی بغاوت کرا رہے تھے، اور آرمینی سارے اتحادی ملکوں میں ترکوں کے مظالم اور اپنی مظلومی کی داستانیں گھر گھر کے رائے عامہ کو اپنے ساتھ ملا رہے تھے، یہودی تورات اور انجیل کے حوالوں سے عیسائیوں کو یہ باور کرا رہے تھے کہ آخری زمانہ میں بنی اسرائیل کے فلسطین دوبارہ اکٹھے ہونے کی جو پیشین گوئی ہے اس کے پورا ہونے کا یہی وقت ہے۔ ان مشکلات کے نرغے میں اس وقت ترکی کا ہیرو مصطفیٰ کمال پاشا مٹھی بھر نوجوان ترکوں کے ساتھ اناطولیہ میں ترکی کی بچی کھچی سلطنت کے لئے سرگرمِ پیکار تھا اور نہیں کہا جا سکتا تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا.
دنیائے
اسلام کا یہ نقشہ تھا کہ جب ان خطوط کا آغاز ہوتا ہے، اس صورتِ حال سے ساری دنیائے
اسلام میں زلزلہ برپا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں کو
چند بہادر، دردمند، حساس ہیرو عنایت کئے تھے جو اپنی جانوں پر کھیل کر کھڑے ہوئے
اور انہوں نے مجلسِ خلافت کے نام سے مرکزی مجلسِ بمبئی میں قائم کی جس کی شاخیں
سارے ہندوستان میں قائم ہو گئی تھیں، اس مجلس کی تنظیمی قوت اتنی زبردست تھی کہ
سارا ہندوستان اس کی ایک آواز پر اٹھتا اور بیٹھتا تھا، پورے ملک میں جس قدر کارکن
نوجوان تھے سب اس کے جھنڈے کے نیچے جمع تھے، ہر طرف سے اس کی امداد کے لئے روپے
برس رہے تھے۔ اور قوتیں یکجا ہو رہی تھیں، عوام علماء اور تعلیم یافتہ سب اس تحریک
میں یکساں شریک تھے، مولانا عبدالباری فرنگی محلی سب سے پیش تھے، اُن کے علاوہ علمائے دیوبند، علمائے
بدایوں، علمائے ندوہ، علمائے بہار اور دیگر علماء سب شریک تھے، خلافت کے ارکانِ
عمل میں اس وقت کے تمام اکابر نوجوان، صاحبِ فکر و دماغ شامل تھے، مسیح الملک حکیم
اجمل خان، ڈاکٹر انصاری ، شوکت علی، محمد علی، تصدق احمد شروانی، ڈاکٹر
سید محمود، چودھری خلیق الزماں، مولانا ابوالکلام، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، ظفر علی
خان، مولانا عبدالماجد بدایونی، مولانا فاخر الہ آبادی، پیر غلام مجدّد، سید
عبداللہ ہارون، سیٹھ چھوٹانی نہ جانے کتنے
اشخاص تھے جو عام ملک میں پھیلے تھے اور تمام تحریک کو اس زور و قوت کے ساتھ چلا
رہے تھے کہ اس کے دبانے کی حکومت کی ساری تدبیریں بیکار ہو رہی تھیں اور دنیائے اسلام کی نظریں اس
وقت ہندوستان کے مسلمانوں اور ان کی جمیعتِ خلافت پر لگی ہوئی تھیں اور اس وقت
مسلمانوں کو اپنی متحد ہ قوت کا اندازہ ہو رہا تھا۔
دسمبر ۱۹۱۹ء کی آخری تاریخیں تھیں، امرتسر
میں کانگریس اور مجلس خلافت کے اجلاس ہو رہے تھے کہ حکومت نے محمد علی اور شوکت
علی کو جو چھندواڑہ میں نظر بند تھے رہا کر دیا۔ چھندواڑہ سے یہ دونوں سیدھے
امرتسر پہنچے جہاں اس وقت سارے ہندوستان کے ہر طبقہ کے اہلِ سیاست کا مجمع تھا۔
یہی وقت تھا جب محمد علی اور شوکت علی صاحب وغیرہ نے اس تحریک کی کامیابی کے لئے
ہندوؤں کو بھی اپنے ساتھ لیا اور اسی طرح گاندھی جی اور مولانا عبدالباری صاحب
فرنگی محلی اور محمد علی اور شوکت علی نے مل کر احیائے خلافت کے ساتھ ہندوستان کی
آزادی کے مسئلہ کو بھی تحریک کے مقاصد میں شامل کر لیا۔ اور اس طرح سیاست نے
ہندوستان میں ایک نئی کروٹ لی، گاندھی جی نے اس تحریک میں عملاً حصہ لیا اور شوکت
علی صاحب کے ساتھ مل کر سارے ملک کا دورہ کیا۔
امرتسر
کے اسی اجتماع میں یہ طے ہوا کہ ہندوستان کی طرف سے چند آدمیوں کا ایک وفد انگلینڈ
اور یورپ کے دوسرے اتحادی ملکوں میں بھیجا جائے جو وہاں جا کر اپنے مطالبات حکومتِ
برطانیہ اور دیگر اتحادی وزراء کے سامنے پیش کرے اور اتحادی ملکوں کی رائے عامہ کو
مسلمانوں کے موافق بنائے۔
وفد کے
مطالبات حسبِ ذیل تھے:
۱۔ ترکی کے سلطان کی حکومت بحیثیت اس کے کہ وہ
مسلمانوں کا خلیفہ ہے قسطنطنیہ، تھریس اور اناطولیہ اور آرمینیا میں مستقل اور
آزاد قائم رکھی جائے۔
۲۔ حجاز، شام، فلسطین اور عراق کو جہاں
مسلمانوں کے مقدس مقامات ہیں اور جس کے مجموعے کا نام جزیرۃ العرب ہے۔ غیر اسلامی
اقتدار سے محفوظ رکھا جائے اور اس طرح حکومتِ برطانیہ نے جو وعدہ اسلامی مقاماتِ
مقدسہ کی حفاظت کے متعلق کیا تھا اس کو وہ پورا کرے۔
۳۔ ہندوستان کی آزادی کے لئے رائے عامہ ہموار
کی جائے کیونکہ بلادِ اسلامیہ کا تحفظ ہندوستان کی آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔
وفد کے
ارکان: اس وفد کے لئے ہندوستان سے اولاً محمد علی، سید
حسین، سید سلیمان تین ناموں کا بحیثیت ارکان انتخاب ہوا اور وفد کے سکریٹری حسن
محمد حیات صاحب مقرر ہوئے، جو بعد کو نواب صاحب بھوپال کے سکریٹری ہو گئے اور
ہندوستان سے بنگال کے مولوی ابوالقاسم صاحب بھیجے گئے۔ شیخ مشیر حسین صاحب قدوائی
بھی جو اس تحریک کے ابتدائی مشیر کاروں میں تھے اور مولانا عبدالباری صاحب کے
معتمد علیہ تھے اور جو جنگ بھر لندن ہی میں مقیم رہے تھے اور بعد کو چند ماہ کے
لئے ہندوستان گئے تھے وہ پھر ہندوستان سے واپس آکر ہمارے کام میں شامل ہوئے۔
انگلستان
میں اس وقت بعض انگریز اور ہندوستانی جو ہندوستانی سیاست سے دلچسپی رکھتے تھے اور
بعض نوجوان مسلمان جو وہاں زیرِ تعلیم تھے کام میں شریک ہوئے، جیسے انگریزوں میں
سے مسٹر ہارنی مین جو بمبئی کرانیکل کے
بھی ایڈیٹر تھے، ہندوؤں میں مسٹر نائیڈو جو اس وقت لندن میں ہی مقیم تھیں اور
نوجوان مسلمانوں میں سے شعیب قریشی صاحب و عبدالرحمن صدیقی صاحب جو اس وقت انگلینڈ
میں زیرِ تعلیم تھے، اور محمد علی مرحوم سے خصوصی تعلق رکھتے تھے خاص طور سے یہاں
کے کاموں میں شریکِ کار ہوئے۔
ڈاکٹر نہادر
شاہ بے نے بھی، جو ایک پُر جوش ترک کارکن پیرس میں تھے، ہمارے کاموں میں تعاون
کیا۔
تقسیمِ
کار : محمد علی صاحب رئیسِ وفد تھے۔ ان کے ذمہ پورے
وفد کی ذمہ داری تھی، اور ان کے انٹرویو اور تقریر کے لئے مسلمانوں کے جذبات کی
ترجمانی رکھی گئی تھی، سید حسین کے ذمہ اس باب میں ہندوستان کے جذبے کا اظہار تھا،
اور میرے متعلق ان مطالبات کے مذہبی نقطہ نظر کی وضاحت تھی۔
عبدالرحمن
صدیقی صاحب نے تمام انتظامی اُمور کی ذمہ داری لی اور شعیب صاحب نے اس انگریزی
پرچے کی ادارت اپنے ہاتھ میں لی جو مسلم آؤٹ لک کے نام سے لندن سے شائع ہو رہا ہے۔
اور جس کے مینیجر اب تک اصفہانی صاحب اور
ایڈیٹر ملک عبد القیوم صاحب تھے، جو بیرسٹری کے لئے پنجاب سے گئے ہوئے تھے۔
میرے ذمے
یہ کام تھا کہ مذہبی اور تاریخی حیثیت سے انگریزی اخباروں میں ہمارے خلاف جو مضمون
نکلیں ان کا جواب لکھنا اور اسلامی ملکوں کے مسلمانوں سے مل کر ان کو اس تحریک سے
آگاہ کرنا اور ان کی همدردی حاصل کرنا، اس کے علاوہ رو دادِ کام بھی میں نے اپنے
ذمے لے رکھے تھے، ایک یہ کہ روزانہ انگریزی اخباروں کو پڑھ کر قابلِ لحاظ مضامین
اور خبروں پر سرخ نشان لگا دینا تاکہ وفد کے دیگر ارکان بھی ان کو پڑھ لیں، دوسرا
یہ کہ ہر ہفتہ، ہفتہ بھر کی رفتارِ کار اور کاموں کی رُوداد لکھ کر ہندوستان
بھیجنا، خصوصیت کے ساتھ شوکت علی صاحب اور مولانا عبدالباری صاحب کو وفد کے کاموں
سے باخبر رکھنا۔
ان خطوط
کی حقیقت: یہ خطوط حقیقت میں اسی حیثیت سے لکھے جاتے تھے، افسوس
ہے کہ شوکت صاحب کے خطوط جو ان کے دفتر میں جاتے تھے وہ
دفتر کے
نذر ہو گئے، نہ وہ میرے علم میں کہیں چھپے
اور نہ مجھے ملے بقیہ خطوط جو دوسرے لوگوں کے نام لکھے گئے وہ عموما اخباروں میں
چھپ جاتے تھے اور ملک میں وفد کے کاموں کے جاننے کا جو اشتیاق تھا اس کی بنا پر
اخبارات ان خطوط کو کوشش سے حاصل کرتے تھے اور چھاپتے تھے اور لوگ بڑے ذوق و شوق
سے ان کو پڑھتے تھے اور اگلی قسط کے منتظر رہتے تھے۔
جن
اخباروں میں چھپتے تھے: ، یہ خطوط زیادہ تر
"ہمدم" لکھنو میں چھپتے تھے، اس کے علاوہ "زمیندار" لاہور,
"خلافت" بمبئی، "وکیل" امرتسر اور ان سے نقل ہو کر اکثر دوسرے
اخباروں میں چھپا کرتے تھے، مولانا عبدالباری صاحب کے نام یہ خطوط ۱ اپریل ۱۹۲۰ ،
۳ جون ۱۹۲۰ ۱۵ جون ۱۹۲۰ ۷ جولائی ۱۹۲۰ زمیندار لاہور ۱۴ ستمبر ۱۹۲۰ ہمدم لکھنو
ستمبر ۱۹۲۰ سے نقل کئے گئے ہیں ۔
ایک قدر
دان:، ہنگامِ واپسی کے ایک قدر دان دوست نے جن کا نام
عبد القادر تھا اور جن کو اُردو اخباروں اور کتابوں کا بہت ذوق تھا، یہ کمال کیا
کہ انہوں نے ان تمام اخباروں کو جن میں یہ خطوط چھپے تھے، ایک فائل میں شوق سے جمع
کیا تھا اور جب ہندوستان میں میری واپسی ہوئی تو انہوں نے اس کو اس فرمائش کے ساتھ
میرے حوالے کیا کہ میں ان کو ایک مجموعے کی شکل میں لکھوا دوں۔
مجموعے کی
ترتیب:، یہ مجموعہ کئی سال تک یوں ہی میرے پاس پڑا رہا۔ آخر
ایک عزیز نے اس کا مسودہ صاف کیا اور اس کو تاریخ وار ترتیب دیا، لیکن چونکہ ان خطوط
میں اکثر محمد علی مرحوم کے تذکرے تھے اس لئے ان کے دکھاتے بغیر میں ان کا چھپنا مناسب
نہیں سمجھتا تھا، اب ان کی فراغت کا سوال تھا سو وہ ان عمر بھر حاصل نہیں ہوئی اور
میرا دل بھی ان کی وفات کے بعد افسردہ سا ہوگیا تھا اور اس لیئے یہ مجموعہ زاویہ
اہمال میں پڑگیا ۔
احباب کا
اصرار:، تاہم یہ قلمی مسودہ احباب کی نظروں سے گذرتا رہا اور
جس نے دیکھا اس کے چھپوانے کی فرمائش کی، خصوصاً عزیزم سید ابوعاصم (ایم۔ اے، ایل۔
ایل۔ بی، علیگ) ایڈووکیٹ نے سب سے زیادہ اصرار کیا، لیکن کاموں کے تسلسل اور اوقات
کے تواتر نے اس فرمائش کی تعمیل کا موقع نہیں
دیا، اب یک بیک جب میرا کراچی آنا ہوا، تو یہ مسودہ جو عزیزم موصوف کے ساتھ مجھ سے
پہلے کراچی پہنچ چکا تھا میرے ہاتھ آیا اور یہاں کی بیکاری کی فراغت میں جو اخیر عمر
کا صلہ ہے اس کو دوبارہ پڑھ کر کہیں کہیں لفظی اصلاح کی اور حاشیہ میں بعض اشاروں کی
تصریح اور بعض واقعات اور اشخاص کی تشریح کر دی اور بسم اللہ کر کے اس کو چھپنے کے
لئے مطبع کے حوالے کر دیا۔
۱۔ مولانا عبدالباری صاحب فرنگی محلی
۲۔ مولانا مسعود علی صاحب ندوی مہتمم
دارالمصنفین اعظم گڑھ، جو میرے عمر بھر کے کاموں میں میرے رفیقِ خاص رہے اور جو یو
پی میں تحریکِ خلافت کے سب سے بڑے عملی کارکن تھے۔
۳۔
مولانا عبدالماجد صاحب دریا آبادی، ایڈیٹر "صدق" لکھنو، ان کے نام کے
خطوط پڑھتے وقت یہ دل نشین رہے کہ موصوف اس وقت فلسفہِ جدید اور نفسیات و اجتماع
کے جادو سے نکل کر امنِ عالم کے علم بردار تھے اور اس جماعت کے ساتھ تھے، جو جنگ کے بعد دنیا میں امنِ عالم کے
منادی تھے، چنانچہ موصوف اس وقت موسیور چرڈ پال کی کتاب "پیامِ امن" کا ترجمہ اردو میں
کر رہے تھے، جو چھپ چکا ہے اور ساتھ ہی میری غیر حاضری میں معارف کے ایڈیٹر اور
نگراں تھے۔
۴۔ مولوی
سید ابوالکمال عبدالحکیم صاحب دیوبندی، میرے رشتہ میں چچا ہیں اور انہوں نے میرے کاموں
سے ہمیشہ گہری دلچسپی رکھی اور میری تحریر کے ایک ایک رقعہ اور پرزہ کو محفوظ رکھا
ہے۔
۵۔ مولوی
سید ابوظفر صاحب ندوی، میرے حقیقی بھتیجے ہیں، کو لوگ بحیثیت مؤرخ اور مصنف کے اچھی
طرح جانتے ہیں، اول کے علاوہ سب دوسرے صاحبوں نے میرے یہ خطوط محفوظ رکھے تھے اور میری
طلب پر مجھے عنایت فرمائے ۔
خطوط کی ترتیب اورناموں کے اشارات، اس غرض سے کہ
واقعات کی ترتیب قائم رہے، اس مجموعہ کی ترتیب تاریخ وار قائم کی گئی ہے اور خط پر
گوشہ میں تاریخ اور مقام کے ساتھ خط کا ترتیبی نمبر دے دیا گیا ہے تاکہ حوالہ میں آسانی
ہو اور مکتوب الیہم کے ناموں کے ابتدائی حروف بائیں جانب حاشیہ پر لکھ دئیے گئے ہیں
جن کا حل یہ ہے۔
۱۔ ع ،
ب ، مولانا
عبدالباری فرنگی محلی
۲ م ، ع مولانا مسعود علی صاحب ندوی
۳۔ ع، م ٍ مولانا
عبدالماجد صاحب دریا بادی
۴، ع ، ح ابو
الکمال سید عبدالحکیم صاحب
۵،
ا ، ظ ، مولوی
سید ابوظفر صاحب ندوی
الحمد للہ
تعالیٰ کہ اول کے سوا بقیہ حضرات اب تک ہمارے درمیان موجود ہیں اور خلقِ خدا کی خدمت
میں مصروف ہیں۔
یہ خطوط
اب محض تاریخی ہیں، افسوس ہے کہ میری قسمت ماضی کی ورق گردانی سے کچھ ایسی وابستہ ہو گئی ہے کہ حال
بھی ماضی ہی بن کر سامنے آتا ہے، یہ خطوط اگر آج سے بتیس برس پہلے شائع ہوتے تو
ایک سیاحت نامہ کا کام دیتے مگر اب بتیس برس کے بعد ان کی اشاعت صرف تاریخی افادیت
رکھتی ہے ان سے آج کے بتیس برس پہلے کے ہندوستان اور دنیائے اسلام اور یورپ کی
سیاست کی وہ تصویر نظر آتی ہے جو میرے قلم نے کھینچی تھی، دوسری جنگِ عظیم کے بعد
یورپ کا نقشہ تو بدل چکا ہے، ایسی حالت میں نہیں کہا جا سکتا کہ کیا چیز باقی ہے
اور کیا مٹ گئی، تاہم ایک تاریخی دستاویز ہے۔
سیاسی
پیشگوئیاں اور سیاسی رائیں:، ان خطوط میں کہیں کہیں سیاسی
پیشین گوئیاں اور سیاسی رائیں بھی ہیں، پیشگوئیاں خیالات اور قیاسات ہوتے ہیں، آپ
خود دیکھیں گے کہ ایک مستقبل سے ناواقف انسان کہاں کہاں بھٹکا اور کیسے اٹکل کرتا
رہا، ان میں سے کتنا حصہ صحیح اترا اور کتنا غلط ثابت ہوا سیاست ایک دھوپ چھاؤں ہے
وہ دم بہ دم بوقلموں کی طرح رنگ بدلتی ہے، دور نہیں کہا جا سکتا کہ کل جو صحیح نظر
آ رہا تھا وہ آج کہاں تک صحیح باقی رہا اور آج جو صحیح نظر آ رہا ہے وہ کہاں تک
صحیح باقی رہے گا۔ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ۔
کتاب کا
نام:، کتاب کا نام "بریدِ فرنگ" (یورپ کی ڈاک) رکھا ہے برید عربی میں
ڈاک کو کہتے ہیں اور فرنگ فارسی میں یورپ کو، چونکہ یہ خط یورپ سے لکھے گئے ہیں اس
لئے بریدِ فرنگ اس کا موزوں نام نظر آیا۔
تکرار :
اگرچہ خط لکھتے وقت اس کا خیال رکھا گیا
تھا کہ ان خطوط میں واقعات کی تکرار نہ ہو، مگر کہیں اجمال اور تفصیل میں بعض
واقعات کی تکرار
سے چارہ
نہ تھا تاہم یہ ملحوظ رکھا گیا ہے کہ یہ تکرار کسی نہ کسی نئے ربط اور فائدے سے
خالی نہ ہو۔
مدتِ سفر
و مقاماتِ سفر: یہ سفر یکم فروری ۱۹۲۰ء سے شروع ہو کر اواخر ستمبر ۱۹۲۰ء کو آٹھ ماہ میں تمام ہوا، اس
مدت میں زیادہ تر قیام لندن میں رہا، پیرس میں کئی بار آنا جانا ہوا، پھر
سوئٹزرلینڈ میں چند دن اور اٹلی میں آتے اور جاتے کئی روز ٹھہرنا پڑا، خطوط کے
اوپر مقامات لکھے ہوئے ہیں، ان سے بھی حدودِ سفر کا حال معلوم ہوگا۔
نہضتِ
اسلامیہ: ان خطوط کے پڑھنے والوں کو معلوم ہوگا کہ اس سخت
مایوسی کی رات میں جب ہر طرف اسلام کے افق پر بادل گھرے تھے سیاسی حالات و قیاسات
کی روشنی میں جس "نوجوان اسلام" اور " اسلام کی پرانی عمارت کی
بجائے جس نئی عمارت" کا نقشہ ہم کو عالمِ خیال میں نظر آیا تھا مستقبل نے اس
کو کس طرح صحیح اور سچا کر کے دکھایا، ہندوستان آزاد ہوا، اور اللہ تعالیٰ نے
ایران، عراق، شام، مصر اور ترکی کو کس طرح ازسرِ نو ترقی اور قوت اور خود مختاری
اور آزادی بخشی، اور پاکستان، اور انڈونیشیا اور ملائیشیا، لیبیا کی تین نئی
سلطنتیں کس طرح پردہ غیب سے ظہور میں آئیں، ٹیونس، الجیریا اور مراکش میں جدوجہد روبہ ترقی ہے۔ ( جو اب آزاد ہیں )
اس سے
مسلمانوں کے قلوب میں مزید ہمت و عزیمت اور اعتماد اور توکل پیدا ہونا چاہئے اور
یقین رکھنا چاہئے کہ آج ہم کو جہاں شر نظر آ رہا ہے کیا عجب وہاں کل خیر ہی نظر
آئے، وَمَا ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ۔ چناں نماند چنیں نیز ہم نخواہد ماند۔
ہمت کی
بلندی اور عزیمت کی استواری قوموں کی زندگی کے اصل عناصر ہیں۔
ہمت بلند
دار کہ پیشِ خدا و خلق باشد بہ قدرِ ہمتِ تو اعتبارِ تو
سید
سلیمان ندویؒ۔ کراچی، ۲۰اکتوبر
۱۹۵۱ء/ ۱۷ محرم ۱۳۷۱ھ