ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں مادی چیزیں ہمارے سامنے ہوتی ہیں، لیکن انہیں چلانے والی اصل طاقتیں نظر نہیں آتیں صبح اٹھ کر موبائل پر اوبر بک کرنی ہو، کسی نامعلوم سڑک پر گوگل میپس کے سہارے نکلنا ہو، یا اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے ہوں—ہمیں لگتا ہے کہ یہ سب انٹرنیٹ کا کمال ہے لیکن حقیقت اس سے کہیں مختلف اور چونکا دینے والی ہے ہماری جدید زندگی کا پورا ڈھانچہ ایک ایسے پوشیدہ نظام پر کھڑا ہے جسے ٹیکنالوجی کی زبان میں PNT (Positioning, Navigation, and Timing) کہا جاتا ہے۔
آج دنیا بھر کے سائبر سیکیورٹی ماہرین اور دفاعی ادارے انتہائی حساس تجربہ گاہوں میں اس تشویش ناک سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں: "اگر PNT سسٹمز کو مفلوج کر دیا جائے، تو ہماری دنیا کتنی دیر زندہ رہ سکے گی؟" ان کے عملی تجربات سے جو سچائیاں سامنے آ رہی ہیں، وہ کسی ڈراؤنی فلم کے اسکرپٹ سے کم نہیں۔
اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے پہلے PNT کی تثلیث (Triad) کو سمجھنا ہوگا اس کا پہلا حصہ 'پوزیشننگ' ہے، جو بتاتا ہے کہ آپ اس وقت دنیا کے کس نقطے پر کھڑے ہیں دوسرا حصہ 'نیویگیشن' ہے، جو اندھیروں، سمندروں اور بادلوں کے سینے کو چیر کر ہوائی اور بحری جہازوں کو ان کی منزل کا راستہ دکھاتا ہے لیکن اس کا سب سے بھیانک اور اہم ترین تیسرا حصہ 'ٹائمنگ' (وقت کا تعین) ہے۔
خلا میں گردش کرتے ہوئے سیٹلائٹس (جیسے امریکہ کا GPS ، روس کا GLONASS) یا Galileo (یورپی نظام) میں نصب ایٹمی گھڑیاں سیکنڈ کے کروڑویں حصے کا حساب رکھتی ہیں دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں، بینکنگ سسٹمز، 5G اور 6G موبائل نیٹ ورکس، اور بجلی کے بڑے گرڈز (Power Grids) اسی مائیکرو سیکنڈ کی ہم آہنگی پر چل رہے ہیں۔
ماہرین کے حالیہ متبادل اور عملی تجربات بتاتے ہیں کہ اس نظام پر حملہ کرنا اب صرف کسی طاقتور ملک کے بس کی بات نہیں رہی۔
مارکیٹ میں ملنے والے چند ہزار روپے کے سستے جیمرز (Jammers) خلا سے آنے والے ان کمزور سگنلز کو بلاک کر سکتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک کھیل 'اسپوفنگ' (Spoofing) ہے، جہاں ہیکرز نقلی سگنل بنا کر کسی بھی سسٹم کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ وہ بالکل صحیح راستے یا وقت پر ہے، جبکہ حقیقت میں وہ ہیکر کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
حالیہ عالمی تنازعات کے دوران جب ماہرین نے دیکھا کہ کمرشل مسافر طیارے جی پی ایس ہیکنگ کی وجہ سے اپنے اصل راستوں سے سینکڑوں میل دور بھٹک گئے، تو خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔
ذرا سوچیے، اگر کسی منظم سائبر حملے کے ذریعے صرف وقت (Timing) کے نظام میں چند مائیکرو سیکنڈز کا ہیر پھیر کر دیا جائے، تو دنیا کے تمام بینکوں کا ڈیٹا بیس ایک دوسرے سے ٹکرا جائے گا، اے ٹی ایم مشینیں کاغذ اگلنے لگیں گی اور پاور گرڈز منٹوں میں ٹرپ کر کے آدھی دنیا کو تاریکی میں ڈبو دیں گے۔
ہم ایک ہی جھٹکے میں قرونِ وسطیٰ کے اس دور میں پہنچ جائیں گے جہاں نہ سڑکوں کا علم ہوگا اور نہ ہی مواصلات کا اچھی بات یہ ہے کہ خطرہ سامنے آنے کے بعد اب سائنسدان ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے۔
اب 'آلٹرنیٹو پی این ٹی' (Alt-PNT) یعنی متبادل نظاموں پر کام شروع ہو چکا ہے۔ زمین پر بڑے ریڈیو اسٹیشنز کی واپسی ہو رہی ہے اور ایسی کوانٹم ٹیکنالوجی تیار کی جا رہی ہے جو سیٹلائٹ کے بغیر بھی زمین کی مقناطیسی فیلڈ کو دیکھ کر وقت اور راستے کا درست تعین کر سکے۔
یہ صورتحال ہمیں بتاتی ہے کہ ہم نے سہولت کے نام پر اپنی بقا کو جس نازک دھاگے سے باندھ رکھا ہے، اس کی حفاظت زمین پر نہیں، بلکہ خلا کی وسعتوں میں ہے۔ جدید دنیا جتنی تیز رفتار اور چمکدار نظر آتی ہے، اندر سے وہ اتنی ہی نازک اور حساس بھی ہے۔
حکومتوں اور پالیسی سازوں کو اب روایتی دفاع سے ہٹ کر اس پوشیدہ مگر ناگزیر نظامِ وقت و مکان کی سیکیورٹی پر توجہ دینی ہوگی، ورنہ کسی بھی دن ایک سستا سا ڈیجیٹل حملہ پوری انسانیت کو مفلوج کر سکتا ہے۔