
مولانا ندوی نے اپنی دوسری مایہ ناز کتاب "مسلم دنیا میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش" میں ترکی، مصر اور پاکستان کا خاص طور پر ذکر کیا تھا۔ انہوں نے بڑی باریک بینی سے یہ نکتہ واضح کیا تھا کہ یہ تینوں ممالک مسلم دنیا کے فکری اور سیاسی اعصاب ہیں۔ ترکی جہاں خلافت کا مرکز رہا اور بعد میں مغربیت کی شدید ترین لہر (اتاترک ازم) کا شکار ہوا؛ مصر جو علمی و سیاسی تحریکوں کا گہوارہ رہا؛ اور پاکستان جو اسلام کے نام پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ مولانا کے نزدیک ان ممالک میں جاری اسلامیت اور مغربیت کی یہ کشمکش محض نظریاتی نہیں، بلکہ امہ کے مستقبل کے رخ کا تعین کرنے والی ہے۔ وہ اپنی تحریروں اور خطبات میں ہمیشہ اس بات کے داعی رہے کہ مسلم دنیا کو مغرب کی فکری گداگری اور سیاسی مغلوبیت چھوڑ کر ایک ایسے مضبوط تزویراتی (Strategic) اور ایمانی اتحاد کی طرف بڑھنا چاہیے جو عالمی طاقتوں کے سامنے اپنا وزن رکھ سکے۔
مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لیں تو مولانا ندوی کی پیشگوئیاں اور ان کا خواب سچ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طویل عرصے تک مغرب کی فکری غلامی اور بلاک پولیٹکس پر انحصار کرنے کے بعد، اب مسلم دنیا کے بڑے مراکز میں ایک نئی بیداری اور تزویراتی خود مختاری (Strategic Autonomy) کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ اس وقت سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین مکہ معاہدہ اور سفارتی ہم آہنگی اسی فکرِ ندوی کا عملی مظہر ہے۔ سعودی عرب اپنی روایتی اور تزویراتی قیادت کے ساتھ، ترکی اپنی فوجی و صنعتی قوت اور تاریخی تشخص کے ساتھ، اور پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت، سٹریٹجک لوکیشن اور افرادی قوت کے ساتھ مل کر مسلم امہ کے لیے ایک مضبوط تکون (Triangle) تشکیل دے رہے ہیں۔
یہ اتحاد اس لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ "مسلم دنیا میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش" اب اپنے آخری اور نازک ترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایک طرف خلیجی ممالک اور مصر میں ترقی اور "روشن خیالی" کے نام پر تیز رفتار مغرب زدگی (Westernization) کا چیلنج ہے، تو دوسری طرف مسلم عوام میں اپنے اسلامی تشخص، غزہ و فلسطین کے مسائل پر غیرتِ ایمانی اور خودمختاری کا شدید جذبہ پایا جاتا ہے۔ موجودہ حالات ثابت کر رہے ہیں کہ مصر کا سیاسی جمود ہو یا ترکی اور پاکستان کی معاشی و سیاسی آزمائشیں، ان کا حل مغرب کے آگے گھٹنے ٹیکنے میں نہیں، بلکہ اپنے وسائل اور فکری بنیادوں پر اکٹھے ہونے میں ہے۔
آج جب مشرقِ وسطیٰ ایک نئے جغرافیائی اور سیاسی موڑ پر کھڑا ہے، تو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین یہ اتحاد محض وقت کی ضرورت نہیں، بلکہ فکرِ ندوی کا وہ ادھورا ایجنڈا ہے جسے حاصل کیے بغیر مسلم دنیا عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقامِ قیادت حاصل نہیں کر سکتی۔ وقت آ گیا ہے کہ ان ممالک کے دانشور اور حکمران مولانا علی میاں ندوی کی اس صدا پر کان دھریں کہ مسلمانوں کی بقا مغرب کے سیاسی و فکری الحاق میں نہیں، بلکہ اپنی روح کی بازیافت اور آپس کے مضبوط اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے بھی اس اتحاد کی دعوت دی ہے ۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نِیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر