" آج دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو اخلاق اور مقاصد زندگی کی ، یہ صرف انبیاء کرام اور آسمانی کتب میں ہیں ۔ آج دنیا کی تعمیر نو صرف اس طرح ممکن ہے کہ جو وسائل و زرائع جدید دور میں انسانوں نے پیدا کرلیے ان کی مدد سے اور انبیاء اور آسمانی کتب میں موجود انسانیت کے اخلاق اور مقاصد زندگی کی مدد سے دنیا کی تعمیر نو کی جائے ۔" (مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )
عالمی نظام کی نئی کروٹ: کیا امریکی بالادستی کا دور ختم ہو چکا ہے؟
"طاقت کے بل پر" چلنے والی دنیا اور امریکہ، چین اور روس کے درمیان غلبہ حاصل کرنے کی دوڑ
امریکہ دنیا کو ’اپنی طاقت کے بل پر چلانا چاہتا ہے‘
چین اور امریکہ کی خارجہ پالیسی اور مستقبل کی عالمی قیادت کا امکان ایک جامع تجزیاتی رپورٹ
عالمی سیاست کی موجودہ ہئیت میں سب سے زیادہ توجہ دو عظیم طاقتوں—امریکہ اور چین—کے درمیان جاری کشمکش پر مرکوز ہے۔ یہ صرف دو ریاستوں کا ٹکراؤ نہیں بلکہ دو متضاد نظریات، تہذیبی رجحانات، معاشی ماڈلز، اور سفارتی حکمت عملیوں کا مقابلہ ہے۔ یہ رپورٹ ان دونوں ممالک کی خارجہ پالیسیوں، طاقت کے ذرائع، اور مستقبل میں عالمی قیادت کے امکانات کا تقابلی جائزہ فراہم کرتی ہے۔
1. نظریاتی بنیاد:
-
امریکہ:
-
جمہوریت، آزادی، انسانی حقوق، اور قوانین پر مبنی عالمی نظام کا داعی۔
-
"امریکہ فرسٹ" (America First) سے لے کر "اتحاد کی بحالی" (Restoring Alliances) تک پالیسی میں تسلسل کی کمی۔
-
-
چین:
-
عدم مداخلت، خودمختاری، اور باہمی مفاد پر مبنی اصولی موقف۔
-
مغربی بالا دستی کے متبادل کے طور پر کثیر قطبی دنیا (Multipolar World ) کا حامی۔
-
2. معاشی طاقت:
-
چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے اور 2040 تک PPP (Purchasing Power Parity) کے لحاظ سے اول بننے کی پیشگوئی ہے۔
-
امریکہ کا مالیاتی نظام، ڈالر کی بالادستی، اور ٹیکنالوجیکل اجارہ داری اب بھی قائم ہے۔
-
چین کی Belt and Road Initiative عالمی اثرورسوخ میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے۔
نتیجہ: چین کی معاشی بالا دستی کا رجحان واضح ہے، خاص طور پر ترقی پذیر دنیا میں۔
سلاوی ژیژک کے تصورات اور اسلامی نقطۂ نظر
سلاوی ژیژک (Slavoj Žižek) ایک مشہور فلسفی، ثقافتی نقاد، اور مارکسی مفکر ہیں۔ وہ 21ویں صدی کے اہم ترین فکری شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں، اور ان کی تحریریں اور تقریریں عالمی سطح پر علمی و فکری حلقوں میں اہمیت رکھتی ہیں۔ ژیژک کا تعلق سلووینیا سے ہے، اور ان کی شناخت مارکسی نظریات کے تناظر میں ثقافت، سیاست، نفسیات، اور فلسفہ کے امتزاج سے بنتی ہے۔
![]() |
| ژیژک (Slavoj Žižek) |
ژیژک کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ لاسک (Lacanian) نفسیات، ہگلی فلسفہ، اور مارکسزم کے مفاہیم کو آپس میں جوڑ کر موجودہ عالمی مسائل، سیاست، اور ثقافت پر گہری تنقید کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب نہ صرف مفہوم کے لحاظ سے پیچیدہ ہے بلکہ وہ اکثر ثقافتی مثالوں، فلموں، اور ادبیات کو اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ژیژک کی تحریریں اور خطابات اکثر عوامی سطح پر مختلف اہم مسائل جیسے کمیونزم، سرمایہ داری، گلوبلائزیشن، اور ثقافتی پس منظر پر روشنی ڈالتی ہیں۔
ژیژک نے اپنے کام میں مابعد جدیدیت کی مخالفت کی ہے اور مادی حقیقت اور طبقاتی جدوجہد پر زور دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ دور میں، جہاں فرد کی آزادی اور خودمختاری کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، وہاں سرمایہ داری اور گلوبلائزیشن نے انسانی زندگی کو ایک نئے نوعیت کے استحصال کا شکار بنا دیا ہے۔
اہم تصنیفات:
-
"The Sublime Object of Ideology"
-
"Violence: Six Sideways Reflections"
-
"Living in the End Times"
ژیژک کو ایک فکری چیلنج کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو موجودہ دنیا کے پیچیدہ مسائل اور تضادات کو نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ فلسفے، نفسیات، اور سماجیات کو جوڑ کر عالمی سیاست اور معاشرتی حقیقتوں کی پرتوں کو کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ذیل میں سلاوی ژیژک (Slavoj Žižek) کے بارے میں ایک خیالی فکری مکالمہ ترتیب دیا جا رہا ہے، یہ مکالمہ فکری، فلسفیانہ، اور تہذیبی سوالات پر مبنی ہے۔
عنوان : سرمایہ داری، تہذیب اور مستقبل
سوال: ژیژک صاحب، آپ کو ایک "مارکسی تہذیبی نقاد" کہا جاتا ہے، آپ کے نزدیک سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی خامی کیا ہے؟
سلاوی ژیژک:
سرمایہ داری محض ایک معاشی نظام نہیں بلکہ یہ انسانی تعلقات، اخلاقیات اور خوابوں کی تشکیل نو کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ ہر چیز کو بازار میں بیچنے کے قابل بناتا ہے—even our desires. اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان "آزاد" نظر آتا ہے، مگر درحقیقت وہ نظام کی سب سے زیادہ جکڑ میں ہوتا ہے۔
انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے وہ اقدامات جنھوں نے انڈیا کو بدل کر رکھ دیا
عہدہ,بی بی سی ہندی، نئی دہلی
سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر منموہن سنگھ سنہ 2004 سے 2014 تک انڈیا کے وزیر اعظم رہے۔ انھیں اگر دنیا بھر میں اقتصادی ماہر کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو انڈیا میں انھیں اقتصادی لبرلائزیشن کے ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
منموہن سنگھ کو سنہ 1991 میں اس وقت کے وزیر وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت والی کانگریس پارٹی کی حکومت میں وزیر خزانہ بنایا گیا تھا۔
سنہ 1999 اور 2004 میں انھوں نے لوک سبھا کے انتخابات میں بطور کانگریس امیدوار شرکت کی لیکن انھیں کامیابی نہ مل سکی تاہم جب اکثریت حاصل کرنے والی کانگریس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی نے وزیر اعظم بننے کی دوڑ سے کنارہ کشی اختیار کر لی تو یہ ذمہ داری ڈاکٹر منموہن سنگھ کو سونپی گئی۔
ان کے دس سالہ دور میں کئی بڑے فیصلے کیے گئے جو سنگ میل ثابت ہوئے۔ ہم یہاں ان کے سات اہم کاموں کا ذکر کر رہے ہیں۔
1۔ معلومات کا حق
معلومات کا حق یعنی رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں 12 اکتوبر سنہ 2005 کو ملک میں نافذ کیا گیا۔
اس قانون کے تحت انڈین شہریوں کو سرکاری اہلکاروں اور اداروں سے معلومات حاصل کرنے کا حق ملا۔
یہ وہ حق ہے جو شہریوں کو باخبر فیصلے کرنے اور مرضی کے مطابق طاقت استعمال کرنے والوں سے سوال کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
آر ٹی آئی کا اثر پنچائیت سے لے کر پارلیمنٹ تک ثابت ہو چکا ہے۔ اس سے نہ صرف افسر شاہی کو ہٹانے میں مدد ملی بلکہ بیوروکریسی کے تاخیر کرنے والے رویے کو بھی دور کرنے میں مدد ملی۔
اسلامی احیاء کا مسئلہ ۔ ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر | ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن ، اگست ۲۰۲۴ | مذاکرہ: اسلامی احیاء کا مسئلہ
الف: اسلامی احیاء کے لیے مسلم اکثریتی ملکوں میں ممکنہ فکری اور عملی اقدامات۔
ب: مسلم اقلیتی ممالک میں اسلامی احیاء کے لیے ممکنہ فکری اور عملی اقدامات۔
کیا روس، یوکرین جنگ دنیا پر امریکہ کی بالادستی اور موجودہ عالمی نظام کے خاتمے کا آغاز ہے؟
فری میسنز سے جڑی تنظیم نائٹس ٹیمپلر کی تاریخ اور فرانس میں ان کی باقیات
![]() |
| تنظیم کی علامتی نشان |
لینن کون تھے ؟
لینن
لیون ٹراٹسکی
ترجمہ: حسن جان
انقلابِ روس کے قائد ولادیمیر لینن کی 152 ویں
سالگرہ کے موقع پر اُن کی مختصر سوانح حیات، جو لیون ٹراٹسکی نے 1929ء میں تحریر
کی، قارئین کے لئے خصوصی طور پر شائع کی
جا رہی ہے۔
![]() |
| لینن کون تھے ؟ |
سوویت جمہوریہ اور کمیونسٹ انٹرنیشنل کے بانی اور
روح رواں، مارکس کے شاگرد، بالشویک پارٹی کے رہنما اور روس میں اکتوبر انقلاب کے
منتظم ولادیمیر لینن 9 اپریل 1870ء کو سمبرسک کے قصبے (موجودہ الیانوسک) میں پیدا
ہوئے۔ ان کے والد الیانکولاوچ ایک سکول ماسٹر تھے۔ اس کی والدہ ماریہ الیگزنڈرانوا
برگ نامی ایک ڈاکٹر کی بیٹی تھی۔ بڑا بھائی ایک انقلابی دہشت گرد تنظیم میں شامل
ہوا اور الیگزنڈر دوئم کی زندگی پر ناکام حملوں میں حصہ لیا۔ اسے 1891ء میں پھانسی
دے دی گئی۔ یہ لینن کی زندگی میں فیصلہ کن عنصر ثابت ہوا۔
ابتدائی زندگی
چھ افراد کے خاندان میں تیسرے لینن نے 1887ء میں سمبرسک جمنازیم سے گولڈ میڈل جیت کر اپنا کورس مکمل کیا۔ اس نے قانون کی تعلیم کے لیے کازان یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن طلبہ کے اجتماعات میں حصہ لینے کی پاداش میں اُسی سال یونیورسٹی سے نکال دیا گیا اور مضافاتی علاقے میں بھیج دیا گیا۔ 1889ء کے موسم خزاں میں اسے کازان واپس آنے کی اجازت دی گئی۔ جہاں اس نے مارکس کا باقاعدہ مطالعہ شروع کیا اور مقامی مارکسی سرکل کے ممبران سے ملاقات کی۔ 1891ء میں لینن نے سینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی سے قانون کا امتحان پاس کیا اور 1892ء میں سمارا میں ایک بیرسٹر کی حیثیت سے پریکٹس شروع کی اور کئی مقدمات میں وکیل صفائی کے طور پر پیش ہوا۔ لیکن وہ مارکسزم کے مطالعے، روس اور بعد ازاں پوری دنیا کے معاشی اور سیاسی ارتقا پر اس کے اطلاق میں مصروف رہا۔







