پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ کا شور و غوغا اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ ہم نے جتنا نقصان بیرونی خطرات سے نہیں اٹھایا، اس سے کہیں زیادہ زخم ہمیں داخلی خلفشار، سیاسی محاذ آرائی اور مذہبی فرقہ واریت نے دیے ہیں۔ ان اختلافات نے نہ صرف ہماری سماجی بنیادوں کو کھوکھلا کیا بلکہ قوم کے اس نصب العین کو بھی دھندلا دیا جس کی خاطر لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا تھا۔ قرآنِ کریم نے اتحاد کے اسی سنہری اصول کو انسانیت کی بقا اور کامیابی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا" (ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو)۔
![]() |
| اتحاد کی ضرورت اور قرآنی نقطہ نظر |
یہ الٰہی حکم ہمیں بتاتا ہے کہ کسی بھی گروہ یا معاشرے کی طاقت اس کے اتفاق میں پوشیدہ ہے، جبکہ اختلاف انتشار زوال اور کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ آج ہم جس زوال کا شکار ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ وہ فکری اور نظریاتی بکھراؤ ہے جس نے ہمیں ایک متحد قوم کے بجائے مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کر دیا ہے، حالانکہ قرآن نے ہمیں واضح طور پر ایک امت بن کر رہنے کا درس دیا تھا۔
موجودہ پاکستان کی سیاسی، معاشرتی اور معاشی اصلاح کے لیے اس وقت ایسے قد آور لیڈر کی ضرورت ہے جو محض اقتدار کا بھوکا نہ ہو بلکہ ایک سچا مصلح ہو۔ میری نظر میں موجودہ عہد کا سب سے بڑا لیڈر وہی کہلانے کا حقدار ہوگا جو قوم کے سیاسی اور مذہبی اربابِ اختیار کو ایک دسترخوان پر بٹھا کر انہیں قومی مفاد کے ایک نکتے پر متحد کر لے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن نامکن نہیں، کیونکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قیامِ پاکستان سے پہلے بھی حالات کچھ مختلف نہ تھے۔ اس وقت بھی برصغیر کے مسلمان مسلکی، لسانی اور سیاسی تقسیم کا شکار تھے، لیکن پھر ایک 'میرِ کارواں' نمودار ہوا جس نے اپنی بے داغ شخصیت اور اخلاص سے منتشر گروہوں کو قرآن کے بتائے ہوئے 'بنیان مرصوص' (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کے تصور کے تحت ایک لڑی میں پرو دیا۔






