کیا معاشی ترقی دین کے خلاف ہے؟

ہمارے معاشرے میں خصوصاً بعض دیندار حلقوں میں یہ تصور جڑ پکڑ چکا ہے کہ مالی آزادی، معاشی ترقی اور دنیاوی جدوجہد شاید دین کے منافی ہیں، یا کم از کم یہ کہ ان امور میں حد سے زیادہ دلچسپی روحانیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ سوچ بظاہر تقویٰ کے غلبے کا تاثر دیتی ہے، لیکن اگر قرآنِ حکیم کی تعلیمات کو سنجیدگی سے پڑھا جائے تو یہ تصور نہ صرف کمزور بلکہ صریحاً غلط ثابت ہوتا ہے۔

قرآن انسان کو محض عبادت گاہوں تک محدود مخلوق نہیں بناتا، بلکہ اسے زمین پر خلیفہ قرار دیتا ہے۔ خلافت کا مفہوم صرف اخلاقی یا روحانی نہیں بلکہ معاشی، تمدنی اور عملی ذمہ داریوں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے:

“هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ”
(الملک: 15)

“وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے تابع بنا دیا، پس اس کے راستوں میں چلو پھرو اور اللہ کا رزق کھاؤ۔”

یہ آیت اس بنیادی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رزق کے حصول کے لیے حرکت، جدوجہد اور اسباب اختیار کرنا عین مطلوبِ الٰہی ہے۔ قرآن کسی ایسے تصوف یا دینداری کی تائید نہیں کرتا جو انسان کو دنیا سے کاٹ دے، محنت سے روک دے یا معاشی ذمہ داریوں سے فرار کی ترغیب دے۔

درحقیقت، مالی جدوجہد انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ قرآن کہتا ہے:

“أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ”
(الملک: 22)

یعنی زندگی سیدھے راستے پر توازن کے ساتھ چلنے کا نام ہے، نہ کہ ایک پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کر دینا۔ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ اسباب کے بغیر زندگی گزار سکتا ہے، وہ دراصل اللہ کے بنائے ہوئے نظامِ اسباب سے بغاوت کرتا ہے۔ دنیا دارالاسباب ہے، اور اس حقیقت کو جھٹلانا تقدس نہیں بلکہ فطرت سے انکار ہے۔

نبی کریم ﷺ کی عملی زندگی بھی اس حقیقت کی سب سے روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ نے تجارت کی، صحابہؓ کو محنت کی ترغیب دی، اور یہ اصول دیا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ حضرت عمرؓ کا وہ مشہور قول بھی اسی ذہنیت کی اصلاح کرتا ہے کہ “میں اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں جو دین یا دنیا کے کام میں سست ہو۔”

اصل مسئلہ دولت نہیں، بلکہ دولت کا مقصد ہے۔ اسلام دولت جمع کرنے سے نہیں روکتا، بلکہ اسے ظلم، استحصال، غرور اور غفلت کا ذریعہ بنانے سے روکتا ہے۔ قرآن توازن سکھاتا ہے:

“وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا”
(القصص: 77)

یعنی آخرت کو مقصد بناؤ، مگر دنیا کے حصے کو مت بھولو۔ یہی اسلامی معاشی فکر کا خلاصہ ہے۔

آج امتِ مسلمہ جن بحرانوں سے دوچار ہے، ان میں ایک بڑی وجہ معاشی کمزوری بھی ہے۔ غربت، محتاجی اور مالی انحصار نہ صرف فرد کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں بلکہ اجتماعی سطح پر امت کو دوسروں کا محتاج بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں مالی خود کفالت اور ترقی کو دین کے خلاف سمجھنا ایک فکری خودکشی کے مترادف ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ دیندار ذہن یہ سمجھے کہ حلال ذرائع سے معاشی جدوجہد عبادت کے منافی نہیں بلکہ اس کا تسلسل ہے۔ مضبوط معیشت کے بغیر مضبوط اخلاق، آزاد فکر اور باوقار دین داری کا تصور ادھورا ہے۔

اسلام ہمیں ترکِ دنیا نہیں، تعمیرِ دنیا مع الآخرة سکھاتا ہے۔ یہی توازن اگر دوبارہ زندہ ہو جائے تو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی ایک باوقار، خودمختار اور باعمل مسلم معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔

ارادہ و مشیتِ الٰہی — قرآنی تصور اور ملحدانہ اعتراضات

جدید انسان کا سب سے بڑا فکری بحران یہ ہے کہ وہ ایک طرف سائنسی قوانین کی سختی میں جکڑا ہوا ہے اور دوسری طرف اخلاقی آزادی کا دعویٰ بھی رکھتا ہے۔ یہی کشمکش اسے اس سوال تک لے آتی ہے: اگر سب کچھ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے تو انسان کا اختیار محض ایک فریب کیوں نہ سمجھا جائے؟
ملحدانہ فکر اسی نکتے کو بنیاد بنا کر مذہب، خصوصاً اسلامی تصورِ تقدیر پر یہ اعتراض اٹھاتی ہے کہ یہ انسان کو جبری مخلوق بنا دیتا ہے۔

قرآن اس اشکال کو سرسری نہیں لیتا بلکہ اسے فکری گہرائی کے ساتھ حل کرتا ہے—اور یہ حل ارادہ اور مشیت کے فرق میں پوشیدہ ہے۔

مشیت: کائناتی قانون یا خدائی جبر؟ 
 
ملحدین کا پہلا اعتراض یہ ہے کہ اگر کوئی عمل اللہ کی مشیت کے بغیر ممکن نہیں تو پھر گناہ پر سزا اور نیکی پر جزا غیر منصفانہ ہے۔
قرآن اس اعتراض کا جواب یہ دے کر دیتا ہے کہ مشیت کا تعلق وقوع سے ہے، انتخاب سے نہیں۔

کوانٹم کمپیوٹنگ: سہولت، طاقت اور خدشات کا نیا دور

انسانی تاریخ میں ہر بڑی ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بھی بنایا اور خطرناک بھی۔ بھاپ کے انجن سے لے کر ایٹمی توانائی تک، ہر ایجاد نے ترقی کے ساتھ تباہی کے امکانات بھی پیدا کیے۔ آج کوانٹم کمپیوٹنگ اسی سلسلے کی ایک نئی اور کہیں زیادہ طاقتور کڑی کے طور پر ابھر رہی ہے۔ بظاہر یہ ٹیکنالوجی بیماریوں کے علاج، موسم کی پیش گوئی اور معاشی منصوبہ بندی میں انقلاب لا سکتی ہے، مگر اس کے سائے میں کچھ ایسے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں جو مستقبل کے نظامِ زندگی، بالخصوص مالیاتی نظام اور انسانی پرائیویسی کے لیے سنجیدہ خطرات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹر کی اصل طاقت اس کی غیر معمولی حسابی رفتار ہے۔ جو کام آج کے سپر کمپیوٹرز کو ہزاروں سال میں ممکن ہیں، وہ کوانٹم مشینیں چند منٹوں یا گھنٹوں میں انجام دے سکتی ہیں۔ یہی طاقت مالیاتی نظام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ دنیا کا موجودہ بینکاری اور ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام خفیہ کاری (Encryption) پر قائم ہے۔ یہ خفیہ کاری اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ بعض ریاضیاتی مسائل کو حل کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ لیکن کوانٹم الگورتھمز، خصوصاً بڑے نمبرز کو توڑنے کی صلاحیت، اس مفروضے کو متزلزل کر رہے ہیں۔ اگر کوانٹم کمپیوٹرز عام ہو گئے تو بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز اور حتیٰ کہ ریاستی مالیاتی خزانے بھی غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔

کوانٹم فزکس اور قرآن مجید : یقین، امکان اور حقیقت کے نئے افق

جدید سائنس نے جب مادّے کی تہہ میں جھانکنا شروع کیا تو وہاں کوئی ٹھوس یقین نہیں، بلکہ امکانات، احتمالات اور غیر یقینی کی ایک حیرت انگیز دنیا آباد ملی۔ کوانٹم فزکس نے انسان کے اس قدیم تصور کو چیلنج کر دیا کہ کائنات ایک سیدھی، سادہ اور مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی مشین ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ ذرّہ کہاں ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کہاں کہاں ہو سکتا ہے۔ یہی نکتہ وہ دروازہ ہے جہاں سے سائنس، فلسفہ اور قرآنی فکر کے درمیان ایک بامعنی مکالمہ شروع ہوتا ہے۔

قرآن انسان کو بار بار اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ حقیقت محض وہ نہیں جو آنکھ دیکھ لے یا ہاتھ چھو لے۔ “وما أوتيتم من العلم إلا قليلا”—تمہیں علم میں سے بہت ہی تھوڑا دیا گیا ہے۔ یہ آیت محض تواضعِ علم کی تلقین نہیں، بلکہ انسانی شعور کی حد بندی کا اعلان ہے۔ کوانٹم فزکس بھی اپنے تمام سائنسی جلال کے باوجود اسی نتیجے پر پہنچتی ہے کہ مشاہدہ کرنے والا خود حقیقت کا حصہ بن جاتا ہے، اور مکمل یقین محض ایک وہم ہے۔

کوانٹم نظریہ کہتا ہے کہ کسی ذرّے کی پوزیشن اور رفتار کو بیک وقت قطعی طور پر نہیں جانا جا سکتا۔ یہ غیر یقینی کوئی تکنیکی کمزوری نہیں، بلکہ فطرت کا بنیادی اصول ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنی تصورِ تقدیر اور انسانی اختیار ایک نئے مفہوم کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ قرآن انسان کو اختیار دیتا ہے، مگر اس اختیار کو خدا کی مشیت کے دائرے میں رکھتا ہے۔ یوں نہ تو انسان مکمل مجبور ہے اور نہ ہی مکمل مختار—بالکل اسی طرح جیسے کوانٹم ذرّہ نہ مکمل متعین ہے نہ مکمل آزاد۔
کوانٹم فزکس کا ایک اور حیران کن تصور سپرپوزیشن ہے، جس کے مطابق ایک ذرّہ بیک وقت کئی حالتوں میں موجود ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ مشاہدہ اسے ایک حالت پر “منجمد” کر دے۔ قرآن اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے کہ اللہ “کل یومٍ هو في شأن” ہے—ہر آن ایک نئی شان میں ہے۔ کائنات جامد نہیں، مسلسل تخلیق کے عمل میں ہے۔ گویا حقیقت کوئی ایک جامد تصویر نہیں، بلکہ ایک زندہ، متحرک داستان ہے جو ہر لمحہ نئے معنی اختیار کر رہی ہے۔

پاکستان کی معاشی صورتِ حال 2025–2026: استحکام سے پائیدار ترقی تک

( اصلاحات، سرمایہ کاری کے مواقع اور مضبوط معیشت کی جانب سفر)

کسی بھی ملک کی معیشت کی نبض اس کے کاروباری سیکٹرز اور کمپنیوں کی کارکردگی میں دھڑکتی ہے۔ کمپنیاں محض منافع کمانے والے ادارے نہیں ہوتیں؛ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں، ٹیکس ادا کرتی ہیں، اور قومی پیداوار (GDP) میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کی تشکیل، آپریشنل حکمت عملی، اور سرمایہ حاصل کرنے کے طریقے (جیسے شیئرز جاری کرنا اور شیئر ہولڈرز سے سرمایہ حاصل کرنا) معاشی ترقی کے پہیے کو متحرک رکھتے ہیں۔
تاہم، انفرادی کمپنیوں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ، ایک مضبوط معیشت کے لیے حکومت کی جانب سے مؤثر مالیاتی نظم و نسق ضروری ہے۔
مالیاتی پالیسیوں کا کردار
حکومتیں اپنی معیشت کو مالیاتی پالیسی (Fiscal Policy) اور زرِ مالیاتی پالیسی (Monetary Policy) کے ذریعے منظم کرتی ہیں۔ مالیاتی پالیسی حکومت کے محصولات (ٹیکس) اور اخراجات کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ زرِ مالیاتی پالیسی (جس کا انتظام مرکزی بینک کرتا ہے) شرح سود اور پیسوں کی رسد کو سنبھالتی ہے۔ یہ پالیسیاں معیشت میں استحکام لانے، مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

قرآن مجید : جدید معیشت اورتجارت

قرآن کی نظر میں دولت: صرف فتنہ نہیں، بلکہ خیر و فضل بھی ہے ۔

عام مذہبی بیانیے میں دولت کو اکثر روحانیت کے مقابل لا کھڑا کیا جاتا ہے، گویا غربت تقویٰ کی علامت اور خوشحالی دین کے منافی ہو۔ مگر جب ہم قرآن کو براہِ راست پڑھتے ہیں تو ایک بالکل مختلف، متوازن اور حقیقت پسندانہ تصور سامنے آتا ہے۔ قرآن دولت کو نہ صرف انسانی زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت مانتا ہے بلکہ کئی مقامات پر اسے خیر، فضل اور نعمت کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے۔
قرآن مجید اور جدید معیشت وتجارت 

سورۂ جمعہ میں نمازِ جمعہ کے بعد فرمایا جاتا ہے:
“جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو”۔
یہاں “فضل” سے مراد واضح طور پر رزق، تجارت اور معاشی جدوجہد ہے۔ غور کیجیے، قرآن عبادت اور معیشت کو آمنے سامنے نہیں بلکہ ایک ہی نظمِ زندگی کے دو پہلو قرار دیتا ہے۔

اسی طرح سورۂ عادیات میں انسان کی ایک نفسیاتی کمزوری بیان کی گئی ہے:
“اور بے شک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے”۔
یہاں بھی مال کو گناہ نہیں کہا گیا، بلکہ مال کی محبت میں شدت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گویا مسئلہ دولت نہیں، بلکہ اس کا دل پر قابض ہو جانا ہے۔

قرآن جگہ جگہ مال کو “خیر” کہتا ہے، جیسا کہ وراثت کے احکام میں:
“اگر وہ کچھ مال (خیر) چھوڑے”۔
یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ قرآن کی نظر میں مال بذاتِ خود شر نہیں بلکہ خیر ہے، بشرطیکہ وہ صحیح طریقے سے حاصل کیا جائے اور درست مصرف میں لایا جائے۔

معاشی جدوجہد کے حوالے سے قرآن کا لہجہ غیر معمولی طور پر مثبت ہے۔ وہ انسان کو زمین میں محنت کرنے، وسائل کو بروئے کار لانے اور رزق تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تجارت کو ناپسندیدہ مشغلہ نہیں بلکہ ایک فطری اور جائز سرگرمی قرار دیتا ہے، حتیٰ کہ حج جیسے عظیم روحانی عمل کے دوران بھی تجارت کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ دین، زندگی سے فرار نہیں بلکہ زندگی کی تنظیم ہے۔

وارن بفٹ: اپنے شیئر ہولڈز کو 61 لاکھ فیصد منافع دلانے والے ’دنیا کے بڑے سرمایہ کار‘ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

وارن بفٹ
فنانس کی دنیا کے ’لیجنڈ‘ وارن بفٹ 95 سال کی عمر میں ریٹائر ہو گئے ہیں۔

یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس نے صرف 11 سال کی عمر میں پہلی بار سرمایہ کاری کی اور 13 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے تھے۔

وارن بفٹ گذشتہ چھ دہائیوں تک اپنی کمپنی ’برکشائر ہیتھاوے‘ کے سی ای او رہے۔ اور اس دورانیے میں اُن کی اِس کمپنی کے شیئر ہولڈرز نے لگ بھگ 61 لاکھ فیصد منافع کمایا ہے۔

ریاست ’اوماہا‘ میں قائم اپنی کمپنی کے ذریعے انھوں نے امریکہ سمیت دنیا بھر کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی اور آج کی تاریخ میں اس کمپنی کی قدر 10 کھرب ڈالر ہے جبکہ بفٹ کو دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔
فاربز میگزین کی فہرست کے مطابق وہ سنہ 2025 میں دنیا کے چھٹے امیر ترین شخص ہیں جن کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 154 ارب ڈالر بنتی ہے۔

دنیا کے مشہور سرمایہ کاروں کے تجربات اور تجاویز مالیاتی کامیابی کا درست راستہ

سرمایہ کاری محض اعداد و شمار، گراف یا وقتی منافع کا کھیل نہیں بلکہ یہ دراصل سوچ، صبر، نظم و ضبط اور طویل المدتی وژن کا امتحان ہے۔ دنیا کے عظیم سرمایہ کاروں کی زندگیوں اور تجربات کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی مالیاتی کامیابی کسی خفیہ نسخے یا پیچیدہ ریاضیاتی فارمولے کا نتیجہ نہیں، بلکہ چند سادہ مگر مضبوط اصولوں پر مستقل مزاجی سے عمل کرنے کا ثمر ہے۔

وارن بفیٹ (Warren Buffett)، رے ڈالیو (Ray Dalio) اور جان بوگل (John Bogle) جیسے عالمی شہرت یافتہ سرمایہ کار مختلف پس منظر اور حکمتِ عملی کے حامل ہونے کے باوجود کچھ بنیادی اصولوں پر متفق نظر آتے ہیں۔ ان کے تجربات نئے سرمایہ کاروں کے لیے رہنمائی کا چراغ اور تجربہ کار سرمایہ کاروں کے لیے فکری تجدید کا ذریعہ ہیں۔

وارن بفیٹ: قدر، صبر اور فہمِ کاروبار کا امتزاج

وارن بفیٹ، جنہیں دنیا “Oracle of Omaha” کے نام سے جانتی ہے، قدر کی سرمایہ کاری (Value Investing) کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ ان کا فلسفہ اس تصور پر قائم ہے کہ اسٹاک دراصل کسی کاروبار میں شراکت داری ہے، محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں۔
1. طویل مدتی سوچ (Long-Term Vision)

بفیٹ کا مشہور قول ہے:

ٹیکنالوجی کی بلندی اور دولت کا ارتکاز: 2025 کی عالمی معیشت پر چند افراد اور خاندان کا راج

2025 میں عالمی معیشت پر نظر ڈالیں تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے: دولت کا ایک بڑا حصہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہو چکا ہے۔ بلومبرگ اور فوربز کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، دنیا کے دس امیر ترین افراد کی مجموعی دولت کھربوں ڈالرز میں ہے، اور ان میں سے اکثریت کا تعلق ٹیکنالوجی کی صنعت سے ہے۔ ان افراد کی دولت میں اکثر ان کی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے روزانہ نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

ٹیکنالوجی کا غلبہ:

2025 کی فہرست میں سرفہرست شخصیات میں ٹیکنالوجی سیکٹر کا غلبہ ہے۔ ایلون مسک، جیف بیزوس، مارک زکربرگ، لیری پیج، اور سرگے برن جیسی شخصیات نے اپنی اختراعات اور کاروباری سلطنتوں کے ذریعے بے پناہ دولت کمائی ہے۔ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک ایک بار پھر دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز رکھتے ہیں، جن کی دولت کا تخمینہ لگ بھگ 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ ان کی دولت میں اضافہ ٹیسلا کی روبوٹیکسی لانچ کی خبروں اور اسپیس ایکس کی قدر میں اضافے کا نتیجہ ہے۔

پاکستان کے امیر ترین خاندان: 2025 کا معاشی منظرنامہ اور طبقاتی خلیج

پاکستان میں معاشی منظرنامہ 2025 ء کو دیکھتے ہوئے، ایک اہم پہلو جو مسلسل زیر بحث ہے وہ دولت کی تقسیم اور طبقاتی خلیج ہے۔ مختلف معاشی رپورٹس اور تجزیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کی معاشی ترقی کے ثمرات تمام طبقات تک یکساں طور پر نہیں پہنچ رہے، بلکہ دولت کا ارتکاز چند مخصوص، طاقتور کاروباری خاندانوں کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔
2025  کے معاشی اشاریوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معیشت کے کچھ شعبوں میں نمو دیکھنے میں آئی ہے، لیکن اس نمو کا فائدہ معاشرے کے ایک محدود حصے تک ہی پہنچا ہے۔ اس وقت ملک کی معاشی نبض پر جن افراد اور گروہوں کا کنٹرول نمایاں ہے، ان میں سر انور پرویز (بیسٹ وے گروپ)، میاں محمد منشا (نشاط گروپ)، اور یونس برادرز جیسے نام سرفہرست ہیں۔ یہ گروہ ٹیکسٹائل، سیمنٹ، بینکنگ، اور توانائی جیسے بنیادی شعبوں پر حاوی ہیں۔

دولت کا ارتکاز اور استحکام:

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 2025 کی فہرستوں میں کوئی خاص "نئے" نام شامل نہیں ہوئے ہیں۔ جو لوگ امیر تھے، وہ مزید امیر ہوئے ہیں۔ پرانے اور مسلسل نمایاں رہنے والے خاندانوں میں حبیب فیملی، داؤد فیملی اور سید بابر علی (پیکجز گروپ) شامل ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی نژاد ارب پتی، جیسے شاہد خان (فلیکس-این-گیٹ)، بھی عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مستحکم کیے ہوئے ہیں۔