آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں آنکھ کھولتا ہے جہاں سب کچھ ہے، مگر زندگی کا جواب نہیں۔ اس کے ہاتھ میں موبائل ہے، ذہن میں معلومات کا سمندر ہے، مگر دل میں یہ سوال مستقل سر اٹھائے کھڑا ہے کہ آخر یہ سب کس لیے ہے؟ تعلیم، نوکری، کامیابی، محبت، آزادی — سب ہیں، مگر ان سب کے پیچھے کوئی واضح مقصد دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وہ فکری بحران ہے جس نے جدید انسان، خصوصاً نوجوان نسل کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔
جدید مادی اور الحادی فلسفۂ حیات نوجوان کو یہ بتاتا ہے کہ کائنات کسی منصوبے کا نتیجہ نہیں، زندگی ایک حادثہ ہے، اور انسان محض ارتقائی عمل کی پیداوار ہے۔ ایسے میں زندگی کا مقصد خود انسان کو گھڑنا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جو وجود خود بے مقصد ہو، وہ مقصد کہاں سے تراشے؟ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے نام پر بے سمتی، اور خود اختیاری کے نام پر ذہنی انتشار بڑھتا جا رہا ہے۔
قرآن اس فکری تاریکی میں زندگی کی ایک بالکل مختلف تعبیر پیش کرتا ہے۔ وہ انسان کو یہ نہیں کہتا کہ تم خود ساختہ وجود ہو، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ تم ارادۂ الٰہی کے تحت وجود میں آئے ہو۔ تمہاری زندگی کھیل یا اتفاق نہیں، بلکہ ایک امتحان ہے۔ یہاں ہر قدم، ہر نیت اور ہر جدوجہد معنی رکھتی ہے۔ یہی تصور انسان کے وجود کو وزن، وقار اور سمت عطا کرتا ہے۔
سورۂ الاسراء کی آیات (18 تا 21) میں قرآن نہایت سادہ مگر فیصلہ کن انداز میں دو طرزِ حیات سامنے رکھتا ہے۔ ایک وہ جو صرف العاجلہ کا طالب ہے، یعنی فوری فائدہ، فوری لذت اور فوری کامیابی۔ ایسا انسان بھی دنیا میں کچھ حاصل کر لیتا ہے، مگر قرآن واضح کر دیتا ہے کہ یہ عطا نہ مکمل ہے، نہ مستقل، اور نہ ہی کسی قدر و قیمت کی ضمانت۔ دوسری طرف وہ شخص ہے جو آخرت کو مقصد بنا کر جیتا ہے، ایمان کے ساتھ جدوجہد کرتا ہے، اور جس کی محنت کو خود اللہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہاں کامیابی کا معیار بدل جاتا ہے۔






