اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں کے اختتام اور تیسرے عشرے کے نصف میں داخل ہونے کے ساتھ ہی، بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اور دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ نے "واحد سپر پاور" کے طور پر جو حیثیت حاصل کی تھی، اب وہ بتدریج کمزور پڑ رہی ہے اور دنیا ایک زیادہ پیچیدہ، کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اس تبدیلی کی کئی واضح نشانیاں موجود ہیں، یورپی ممالک، خاص طور پر یورپی یونین (EU)، اب امریکی پالیسیوں کی آنکھ بند کر کے پیروی کرنے کے بجائے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری (strategic autonomy) پر زور دے رہے ہیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ہونے والا تاریخی آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) ہے، جسے "تمام معاہدوں کی ماں" قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ سابق صدر ٹرمپ کی "امریکہ سب سے پہلے" پالیسی کے تحت بھارت پر ٹیرف بڑھا رہا تھا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ یورپ اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے واشنگٹن سے ہٹ کر فیصلے کرنے پر آمادہ ہے۔
چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ: کینیڈا اور کئی دیگر یورپی ممالک نے چین کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سیاسی روابط کو مضبوط کیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم کی جانب سے حال ہی میں چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں پیش رفت کو "زیادہ پیش قیاسی کے قابل" قرار دینا، امریکی دباؤ کے باوجود اقتصادی حقیقت پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور اس کے عالمی تجارتی حجم نے دنیا کے دیگر ممالک کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ امریکی دائرہ اثر سے باہر نکل کر بھی اہم شراکت داریاں قائم کر سکتے ہیں۔





