اسم پاک محمدﷺ ، مولنا عبدالرحمن ندوی نگرامی ؒ


 حضور کا نام نامی آپ کے دادا ’’ عبدالمطلب‘‘ نے رکھا تھا۔ عام طور پر اس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ" رجاء ان یحمد" عبدالمطلب نے آثار نیک دیکھ کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نام رکھا کہ مستقبل میں یہ مولود سعید آقائے مجموعہ محامد اور مرجع خلائق بنے۔ ارباب تصوف موشگافی کی انتہاکردیتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لفظ ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)‘‘ خدا کے نام ’’ احد‘‘ سے مشتق ہے ۔

اگرچہ عام طور پر نام کی صرف اس قدر ضرورت سمجھی جاتی ہے کہ چندچیزوں میں باہم امتیاز قائم رہے لیکن نام کی صحیح اور حقیقی غرض یہ نہیں۔ اسم کو اپنے مسمی کے صفات، خواص اور حالات کا آئینہ ہونا چاہیے۔ افراد کے نام رکھنے میں تو اس کا کم لحاظ کیا جاتا ہے۔ لیکن عموما انواع واجناس کے نام اسی مقصد کو پورا کرتے ہیں، مثلا انسان، مسلم، قوم۔ شاذونادر طریقہ پر افراد واشخاص کے ناموں میں بھی اس کا لحاظ کرلیا جاتا ہے۔ جیسے ’’ مسیح‘‘ اور ’’ بدھ‘‘ یہ دونوں نام اپنے مسمی کے اوصاف اور خواص کو بتلاتے ہیں۔


یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جیسا کہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے عرب میں کہیں اس نام کا پتہ نہیں چلتا۔ مؤرخین اکثر لکھتے ہیں۔ ولم یکن شائعا بین العرب ھذا الاسم اس حالت کو تسلیم کرتے ہوئے دیکھا جائے تو اتفاقی طور سے ’’ نام مبارک‘‘ کا ’’ عبدالمطلب‘‘ کے ذہن میں آنا منشاء خداوندی معلوم ہوتا ہے کہ جب اس نام کا محل کامل دنیا کو اپنے وجود گرامی سے مشرف کرچکا تو پھر اسم بھی فطری طور سے نام رکھنے والے کے ذہن میں وارد ہوا ۔


نام مبارک کا عام اور سادہ ترجمہ یہی کیا جاتا ہے کہ ’’ وہ ذات جس کی تعریف کی گئی‘‘ اس ترجمہ کی صحت میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن اس جامعیت کبری، برزخ کامل اور مقصود آفرینش کے فضائل وکمالات کے سامنے ترجمہ ہیچ ہے خدا کے تمام نبی اس کے نزدیک موجب توصیف ہیں۔ دنیا کے تمام حکیم، فاتح عام انسانوں کی نظروں میں لائق مدح وستائش ہیں اس لیے اس ترجمہ کی صحت کو پورے طور پر تسلیم کرتے ہوئے تفحص کو اور زیادہ وسعت دیں، صاحب مفردات ’’ محمد‘‘ کے معنی لکھتے ہیں الذی اجمعت فیہ الخصال المحمودۃ یعنی مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ لفظ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معنی مجموعہ خوبی کے ہیں ۔


ع : اے کہ تو مجمویہ خوبی بچہ نامت خوانم ۔


کار ساز قدرت کی وسعت لامحدود اس کے کرشمے ناقابل شمار اس کی خلقت کادروازہ ہمیشہ کے لیے وا ہے، غور کرنے سے ہم اپنی عقل کے مطابق اس فیصلہ پر پہنچتے ہیں کہ قدرت نے تخلیق انواع کے لیے ایک معیار مقرر کیا ہے، مخلوقات کی ہر نوع کا ایک درجہ کمال ہے، کہ جس کے آگے اس کا قدم نہیں بڑھتا ’’ حیوانات‘‘ ’’ نباتات‘‘ اور ’’ جمادات‘‘ تک میں اس کے شواہد مل سکتے ہیں، صورتیں ایک ہیں شکلیں متحد ہیں، اوصاف مختلف ہیں، لیکن ان مختلف اوصاف کی ایک انتہا ہے جسے جنس اعلی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ کہ جس کے آگے کوئی درجہ نہیں، ہرنوع میں جنس اعلی کو جس پر اوصاف جامعیت کے ساتھ جاکر ختم ہوتے ہیں ہم مقصود فطرت اور نقطہ تخلیق کہہ سکتے ہیں۔ اس نقطہ تخلیق کی اصطلاح کو پوری تشریح کے ساتھ ذہن میں رکھنا چاہیے یہ بات تھوڑے سے غور اور مشورے سے بہ آسانی سمجھ میں آسکتی ہے، تفحص اور تفتیش کے بعد تمام انواع مخلوقات کے اوصاف کا ایک درجہ اعلی پاتے ہیں کہ جس کے آگے انسانی معلومات میں کوئی درجہ نہیں۔


دوسرے تمام انواع کی طرف اس مقصود فطرت کو انسانوں کی جماعت میں بھی تلاش کرنا ضروری ہے دوسری مخلوقات اور انسانوں میں ایک عام اور بین فرق یہ ہے کہ وہاں نوع کے سینکڑوں افراد ہیں اور یہاں اوصاف وخصوصیات کے اعتبار سے ہر ہر فرد اپنے مقام پر نوع مستقل ہے۔ آفرینش انسان کی مجمل یا مفصل تاریخ پر ایک اجمالی نظر بتلا سکتی ہے کہ آج بھی انسان کی شکل وشباہت اس کے اعضاء وجوارح اس کا ڈھانچہ جسمانی ساخت ٹھیک وہی ہے سب چیزیں وہی ہیں جودنیا کے پہلے انسان کی تھیں، لیکن دماغی کیفیتوں کا حال ان سے جداگانہ ہے۔ ان میں برابر ارتقاء واختلاف جاری ہے۔ اب اگر انسان کی اس ارتقائے دماغی پر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ماقبل وما بعد ادبوں، زبانوں کی تاریخ میں ارتقائے دماغی کی آخر ترین سر حد اگر کوئی معلوم ہوسکتی ہے تو وہ ذات قدسی صفات آقائے نامدار رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہے لغات قاموس نے لفظ ’’ حمد‘‘ کے ایک معنی قضاء الحق کے بھی بتلائے ہیں پس لفظ ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)‘‘ کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ جس کا حق پورا دیا گیا ہو یعنی قدرت کی جانب سے نوع انسان کو جس سرحد کمال تک پہنچانا مقصود تھا اور انسان کا اپنے خالق پر جو حق تخلیق مقرر تھا وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پورا کردیا گیا، علم وعمل، خلق وخلق، دماغ وکیرکڑارتقائے ذہنی وارتقائے عملی یہی دو چیزیں انسان کا خلاصہ اور اس کی کائنات تخلیق کا لب لباب ہیں اول ثانی کے لیے بنیاد ہے عمل علمپر، کیرکٹر دماغ پر، خلق خلق پر قائم ہے، یہ ایک عجیب نکتہ ہے جس کی تشریح کسی دوسرے مقام پر آئے گی کہ جتنی ہی کسی انسان کی حالت مکمل ہوگی اسی قدر اس کی خلقی کیفیت راسخ ومستحکم ہوگی ایک کا کمال دوسرے کے کمال کی علامت اور ایک کا نقصان دوسرے کے نقصان کی نشانی ہے، تاریخی طور پر یہ امر ثابت ہے کہ کیرکٹر اور اخلاق کی جملہ شاخوں کی پختگی اور تکمیل کا جو نمونہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مبارک نے پیش کیا عالم انسانی اس کی نظیر سے عاجز ہے حتی کہ خود دشمنوں کے اقرار سے اس کو فرمادیا گیا۔ (آیت) ’’ انک لعلی خلق عظیم ‘‘۔ محاورات عرب سے حمد کے یہ بھی معنی معلوم ہوتے ہیں کہ کسی کام کو اپنی قدرت کے مطابق انجام دینا حماسیات میں نیزہ کے بھرپور پڑنے کے وقت، حمدت بلاء ہ ،(میں نے وار پورا کیا) کا محاورہ بہت مشہور ہے۔

 اس معنی کو سامنے رکھتے ہوئے اور اوپر کے مضمون کو پیش نظر رکھ کربے تامل کہا جاسکتا ہے کہ لفظ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معنی مخلوق کامل کے بھی ہیں۔ منجملہ دیگر کمالات نبوت ومعجزات رسالت کے ایک معجزہ گرامی حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام نامی بھی ہے۔ یہ زندہ جاوید معجزہ بعثت کے وقت سے تاہنوز اپنے فضائل کی شہادتیں پیش کررہا ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ محمد الذی یحمد مرۃ بعد مرۃ جس کی تعریف کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو، تعریف کے بعد تعریف اور توصیف پر توصیف ہوتی رہے۔ زمانہ جوں جوں بڑھتا جاتا ہے اور انسان اپنی سعی وکوشش کے مطابق جس درجہ ترقی کرتاجاتا ہے محض اعتقادا نہیں بلکہ واقعۃ رسالتماب روحی فداہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کمالات سے پردہ اٹھتا جاتا ہے۔ علماء وفضلاء یورپ کی اکثریت تاریخ اسلام کے ماتحت اپنا مطالعہ جس قدر گہرا کرتی جاتی ہے دنیا کی مختلف پریشانیوں اور بےقراریوں کو معدوم کرنے کی ضرورت جتنی ہی ان کے نزدیک بڑھتی جاتی ہے، بادل ناخواستہ انہیں اسی راہ کی طرف آنا پڑتا ہے اور زبان اعتراف کھولنا پڑتا ہے کہ بےشبہ پیغمبر عرب کے قانون دنیا کی ضرورتوں کے کفیل اور ان کے زندگی عالم انسان کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ اہل ایشیا کارجحان طبعی جتنا روحانیت اور سادگی کی طرف بڑھ رہا ہے اسی قدر وہ پیغمبر عالم محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قریب تر ہوتا جاتا ہے ‘‘۔ یہ دنیا کا صرف واحد معجزہ ہے کہ نام مبارک تیرہ سوبرس پہلے سے اس آنے والی حالت کا پتہ دے رہا ہے مستقبل میں دنیا کی عمر جس قدر دراز ہوگی خواہ وہ اپنی موجودہ حالت میں ترقی کرے جس کی بظاہر امید نہیں اور خواہ اپنے پچھلے سبق دہرائے، دونوں حالتوں میں اسے کمالات نبوت کے اعتراف سے چارہ نہ ہوگا اس حیثیت سے نام مبارک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاترجمہ سلسلہ اوصاف ومحامد ہوگا۔


جیسا اوپر کہا گیا ہے عام طور سے اشخاص کے نام اور اوصاف باہم کوئی نسبت نہیں رکھتے شاذ ونادراتفاقی حیثیت سے تناسب بھی مل جاتا ہے اور ایسا تو کبھی نہیں ہوا کہ کسی انسان کا وہ نام رکھا گیا ہو جو اس کی تمام زندگی کا آئینہ اور اس کے شعبہائے حیات کی تفصیل ہو۔ مگر نام نامی آقائے نامدار اس سے مستثنی ہے۔ اسی مطابقت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس خاص نام کے رکھنے کے متعلق ضرور عبدالمطلب کو ایک غیبی تحریک ہوئی، اب غور کیا جائے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کا خلاصہ دوست ودشمن کی یکساں تنقید حاضر وغائب کی رائے زنی کا محاصل اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ علم وعمل، ظاہر وباطن، خلق وخلق ہر حیثیت سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی قابل تعریف تھی اور اسی خلاصہ حیات کا ترجمہ ہے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔


اس سے بھی زیادہ عجیب امر یہ ہے کہ نام مبارک حضور کے نہ صرف نبی بلکہ خاتم النبیین ہونے کی دلیل بھی ہے۔ کمال علم وکمال اخلاق بھی انبیاء علیہم السلام کی مخصوص اور ممتاز صفات میں سے ہیں، دوسرے انبیاء علیہم السلام کا کمال علمی وعملی کسی ایک خاص صفت میں مخصوص تھا لیکن حضور کی جامعیت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سوانح وتعلیمات سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ لفظ ’’ محمد‘‘ کے معنی مجموعہ خوبی اور ’’ مخلوق کامل‘‘ کے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں۔


اس کے آگے کوئی نقطہ ہی نہیں۔ اسی حالت پر کمال کلی کی انتہا اور معارف کا اختتام ہے جس کے بعد نہ کسی نبی کی حاجت نہ کسی نبی کا وجود ممکن ہے۔ مستشرقین یورپ میں سے جن لوگوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا ہے وہ باوجود ہزار سعی تنقیص اعتراف کمال پر مجبور ہوئے ہیں۔ سرولیم میور اور مارگولیٹ جیسے سخت لوگوں کو بھی کھلے اور چھپے لفظوں میں اس کا اقرار کرنا پڑا کہ پیغمبر اسلام کی تعلیم انتہائی سچائی اور حقیقی صداقت پر منبی نظر آتی ہے۔ عہد نبوت میں بھی اسی قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں کہ بعض سخت ترین منکر ایک توجہ نظر اقدس کی تاب نہ لاسکے۔ عبداللہ بن سلام جونامور علماء یہود میں سے تھے وہ جس طرح اسلام لائے معلوم ہے۔ بعثت کے حالات سیرت طیبہ تعلیم وتلقین اپنے اندر کچھ ایسی کشش رکھتی ہے کہ مخالف سے مخالف اور سخت سے سخت حریف اعتراف پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اسی خاصیت اور بےاختیار انہ کشش کو نام مبارک میں بیان کیا گیا لفظ ’’ محمد‘‘ عربی زبان میں تحمید سے مشتق ہے جو باب تفعیل کا مصدر ہے اس باب کے معنی کے خواص میں سے ہے کہ کسی کام کا وجود میں آنا اس طور پر مانا جائے کہ گویا کسی مخفی یا ظاہر طاقت نے اس کو وجود میں آنے کے لیے مجبور کیا جیسے صرف (پھیر دیا)۔ یعنی کسی طاقت نے بےاختیار کرکے پھیر دیا اسی طرح ’’ محمد‘‘ کے معنی ہیں وہ جس کی تعریف بےاختیار کی گئی ہو۔ اس معنی سے اسی قوت جاذبہ اور کشش اصلی کی طرف اشارہ ہے۔ عبداللہ (رض) بن سلام کے متعلق مروی ہے کہ وہ چہرہ اقدس کو دیکھتے ہی پکار اٹھے ’’ ھذا لیس بوجہ کذاب‘‘ یورپ میں بڑی ہوشیار انہ تدبیر سے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بدترین پیرایوں میں دکھلانے کی کوشش کی گئی ہیں لیکن اب آج کل بعض جماعتوں اور خدا ترس بندوں کی طرف سے جو مساعی جمیلہ کی جارہی ہیں انہیں نے تجربہ کرادیا کہ جب کبھی اصل صورت ان کی سامنے پیش کی گئی ہے تو انہوں نے یہی کہا کہ یہی تو ہمارا کعبہ مقصود ہے ۔


اس باب کی دوسری خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ کسی کام کے اس طور پر ہونے کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے تمام پہلوؤں کا استقصاء کئے ہوئے ہے کوئی جزء اس سے چھوٹا ہوا نہیں استعمال میں آتا ہے قتلہ تقتیلا یعنی خوب خوب قتل کیا اس خاصیت کا لحاظ رکھتے ہوئے نام مبارک کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ ’’ محمد‘‘ یعنی جس کا جزء جزء قابل تعریف ہے ’’ اصلاح نفس‘‘ تدبیر منزل اور تدبیر مدن کی وہ کونسی شاخ ہے جس کا عملی نمونہ ذات قدسی صفات محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیش نہیں کردیا۔ انبیاء علیہم السلام کا تمامتر سلسلہ عالم میں ایک خاص ترتیب ونظام کے ساتھ آیا اور ہر ایک اپنے اندر کوئی نہ کوئی کمال اخلاقی یا عرفانی یا انتظامی لایا یہ بابرکت سلسلہ جب اپنی حدکو نہایت کو پہنچا تو ضرورت ہوئی کہ عالم انسان کے سامنے ایک ایسا نمونہ کامل پیش کیا جائے۔ جو ان تمام صفات کا مجمع اور فضائل کا آئینہ ہو۔ جس کی زندگی کو سامنے رکھنے سے موسویانہ مستی، مسیحانہ اخلاق، ابراہیمی محبت بیک وقت نظر کے سامنے آجائے، اور پھر ان تمام اوصاف میں وہ اپنے متقدمین سے بالا ترہو، وہ ہستی کا جامع اور برزخ کامل ذات پاک حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے اسی لیے حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اپنی بشارت میں لفظ ’’ احمد‘‘ فرمایا۔ یعنی وہ آئے گا جو اپنے تمام پہلے آنے والوں کا سردار اور سب پر فائق ہوگا۔ دنیا کے تمام بڑے بڑے مذاہب نے اپنی کامل نشوونما جب ہی پائی ہے جب وہ معرفت وروحانیت کی آغوش سے نکل کر سلطنت اور حکومت کی گود میں چلے گئے ہیں۔ مسیحی مذہب کی ترقی رومی بادشاہوں کی رہین احسان ہے۔ بودھ نے بہت کچھ تبلیغ کی لیکن اس کا عالمگیرمذہب بھی اسی وقت اپنی تکمیل کرسکا جب وہ اشوک خاندان کی سرپرستی میں آگیا۔ لیکن اسلام میں بالکل علیحدہ ہے وہ جن جن ملکوں میں گیا اور جن جماعتوں میں پھیلا اخلاق وروحانیت سے گیا غریب تلوار اسلام میں روحانیت اور مذہب کے داخلہ کے بعد گئی ہے۔ افریقہ اور ہندوستان کی نظیریں اس بارہ میں بہت صاف ہیں۔ اس خاص نعمت تبلیغ کو بھی نام مبارک میں ظاہر کردیا گیا ہے۔ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العالمین بظاہر اسباب مفاسد کے مٹنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی لیکن فطرت کی تدبیریں اندر اندر جاری رہتی ہیں اور ایک وقت معین پر ظاہر ہوجاتی ہیں، فطرت کی رفتار ہوا کی طرح تیز اور سیلاب کی طرح نرم ہوتی ہے۔ خوش تدبیری اور حسن اسلوب کے موقع پر بھی حمد کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے پس لفظ ’’ محمد‘‘ کے ایک بھی معنی قرار دیئے جاسکتے ہیں کہ وہ جس کے ساتھ خوش تدبیری نے ترقی کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم کا انتشار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لایا ہوا دین خدا کی خاص مرضی اور خاص تدبیر سے عالم میں پھیل گیا جس کی سرعت اور بغیر جدوجہدو رفتار ترقی سے اس وقت بھی دنیا متحیر ہے ۔


الغرض اسلام کی تمام معنوی خوبیوں کے ساتھ ساتھ پیغمبر اسلام کا نام مبارک بھی اپنے معانی کے لحا ظ سے مختلف خوبیوں کا مرقع بہترے فضائل کا خلاصہ ہے ایک طرف وہ اپنے مسمی کے کام اور کام کے انجام کی پیشن گوئی ہے دوسری طرف اس کے کاموں کی تاریخ اور اس کی تعلیم کا لب لباب ہے ۔

پاک ہے وہ اللہ جس نے اپنے نبی کا ایسا پاک نام رکھا اور پاکیزہ ہے وہ نبی جسے اس کے معبود نے ایسی فضیلتوں سے آراستہ کیا ۔ والحمد للہ رب العالمین. 

--------------------

یہ بھی پڑھیں !

محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت
عید میلاد النبی، ایک غلطی کی نشاندہی۔۔۔۔۔!!
ہم جشن عید میلاد النبی کیوں نہیں مناتے؟ شیخ الاسلام - مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
عید میلاد النبی ﷺ اور صحابہ کرام کا عمل - مفتی محمد تقی عثمانی
کیا نبی ﷺ یا صحابہؓ یہود کے مذہبی تہواروں میں شرکت کرتے تھے؟ جاوید احمد غامدی
سیرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ
غزوہ ٔ احزاب (جنگ خندق
محمد رسول اللہ ﷺ کی 9 تلواریں اور ان کی تصاویر -
اسلام کے قلب اور جگر پر حملے - سید ابوالحسن علی ندوی ؒ
معرکہ احد کا منظر
جنگ بدر کے تین سبق آموز واقعات - سید ابوالاعلی مودودیؒ
نبی ﷺ کا مقام اور مرتبہ - جاوید احمد غامدی
تعلیماتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نفسیاتی پہلو ـ شفاقت علی شیخ
معراج النبی ﷺ کے بارے میں نظریات ۔ مفتی منیب الرحمن
سیرت کے مصادر و مآخذ
تاریخی روایات کو پرکھنے کا معیار- ڈاکٹر حافظ محمد زبیر
سید ابوالاعلٰی مودودی ؒ کا ایک نادر خطاب (مکہ مکرمہ میں حج کے دوران)
میں اور میرے رسولﷺ
اسلام کے بین الاقوامی سفیر ڈاکٹر محمد حمیداللہؒ - ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
حقوقِ انسانی: سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں ۔ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
منشورانسانیت : نبی اکرم ﷺکا خطبۂ حجۃ الوداع ، مولانا زاہد الراشدی
مولانا مودودی کا تصور حدیث و سنت
توہین رسالت کا مسئلہ
توہین رسالت کی سزا
صحابہ کرام کی ہجرت حبشہ کا واقعہ
روضۂ نبویؐ پرسید ابوالاعلی مودودی ؒ
بعثت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم - مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندویؒ
بعثت محمد ﷺ سے پہلے بدھ مت کے اثرات اور تغیرات - مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ
بعثت محمد ﷺ سے پہلے ایران کے سیاسی اور معاشرتی حالات - مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ
بعثت محمد ﷺ سے پہلے یہویوں اور عیسائیوں کی باہم منافرت - مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندویؒ
بعثت محمد ﷺ سے پہلے رومی سلطنت کے سیاسی اور معاشرتی حالات - مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ
بعثت محمد ﷺ سے پہلے ہندوستان کے حالات - مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ ("")
دین مسیحیت چھٹی صدی عیسوی میں - مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ (1)
قرآن اور حدیث کا باہمی تعلق اور تدوین حدیث - مولانا سید سلیمان ندویؒ
بعثت محمد ﷺ سے پہلے دنیا کے مذھبی اور سیاسی حالات - مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی ؒ
عہد رسالت میں مثالی اسلامی معاشرے کی تشکیل
رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں - ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
محمد عربی کی نبوت - جاوید احمد غامدی
اور آپ ﷺ ہنس پڑے !! (قسط دوم )
اور آپ ﷺ ہنس پڑے !! (قسط اول )
اصحاب رسول اللہ ﷺ - مولانا وحید الدین خاں
معراج النبی ﷺ ۔۔۔عظیم معجزہ (ماہ رجب 13 نبوی )
خطوط نبوی (ﷺ)کی تحقیق
سیرت کا پیغام
رخصتی کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر
رحمۃٌ للعالمینؐ، سیّد ابوالاعلیٰ مودودی
اسوۂ حسنہ انتقام نہیں، عفوودرگزر
مطالعۂ سیرت النبی ﷺ
آپ ﷺ کی خلوت نشینی اور پہلی وحی:
نقوش نمبر: سیرت النبی ﷺ (مجلد: 1-12)

مدیر۔۔محمد طفیل صاحب ادارہ فروغ اردو ۔۔۔لاہور
(اس خاص نمبر میں اردوزبان کے مستند سیرت نگاروں کے مضامین اور تحقیقات شامل ہیں ۔ )