آج کا دور فکری انارکی اور نظریاتی کشمکش کا دور ہے۔ عالمگیر ایجادات اور سوشل میڈیا کے سیلاب نے جہاں معلومات تک رسائی آسان کی ہے، وہاں نوجوان نسل کے عقائد اور فکری بنیادوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کا ایک افسوسناک پہلو مسلم معاشروں میں "الحاد" کا ابھرتا ہوا وہ رجحان ہے، جو بظاہر خود کو "عقلیت پسندی" اور "علمیت" کے لبادے میں پیش کرتا ہے، لیکن اگر اس کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک سطحی اور نقالانہ فکر کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔
میرا یہ ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ ہمارے اردگرد موجود یہ "نام نہاد ملحدین"، جو مسلم گھرانوں میں پیدا ہوئے، اسی تہذیب اور روایات میں پلے بڑھے، وہ دراصل اسلام سے شدید قسم کی لاعلمی کا شکار ہیں۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے مذہب کا مطالعہ خود براہِ راست کرنے کے بجائے ہمیشہ ناقدین کی عینک سے کیا ہے۔ یہ لوگ مغربی فلسفے، مستشرقین کی تحریروں اور انٹرنیٹ پر موجود الحادی پروپیگنڈے سے اس حد تک مرعوب ہو چکے ہیں کہ اب یہ اسلام پر اعتراضات نہیں کرتے، بلکہ مغربی فلسفیوں کے اٹھائے ہوئے پرانے اور پامال سوالات کی محض "جگالی" کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اپنا کوئی ٹھوس علمی مقدمہ نہیں ہے، بلکہ یہ سنی سنائی باتوں اور ادھورے حقائق کے سہارے ایک پورا فکری محل کھڑا کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔











