رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی اور موجودہ مشرق وسطی کی سنگین صورت حال

حدیثِ جبریل کے آئینے میں جب ہم آج کے عرب معاشرے اور مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، تو چودہ سو سال پہلے کی گئی پیش گوئیاں جیتی جاگتی حقیقت بن کر سامنے آتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ننگے پاؤں بکریاں چرانے والوں کے بلند و بالا عمارتوں میں مقابلے کا ذکر فرمایا تھا، تو یہ محض مادی ترقی کی خبر نہ تھی بلکہ ایک ایسی اخلاقی اور فکری تبدیلی کی طرف اشارہ تھا جہاں ترجیحات بدل جانی تھیں۔ آج دبئی، ابوظہبی اور سعودی عرب کے صحراؤں میں آسمان سے باتیں کرتے برج اور پرتعیش منصوبے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ وہ بدوی قوم جس کی پہچان سادگی اور فقر تھی، آج مادی ہوس کی اس دوڑ میں سب سے آگے نکل چکی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جیسے جیسے عمارتوں کی بلندی بڑھی، کردار کی بلندی میں اتنی ہی پستی آتی گئی۔ امارات جیسے ممالک میں جدیدیت اور سیاحت کے نام پر جس طرح عریانی، فحاشی اور نائٹ کلبز کو جگہ دی گئی، اس نے اس خطے کے اس اسلامی تشخص کو بری طرح مجروح کیا ہے جو کبھی پوری دنیا کے لیے حیا اور غیرت کا استعارہ تھا۔

یہ اخلاقی بگاڑ محض داخلی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس "الٰہی قانون" کو دعوت دے رہا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے جواب میں کیا گیا کہ اللہ کا عہد ظالموں اور نافرمانوں کو نہیں پہنچے گا۔ جب مرکزِ اسلام کی سرزمین پر اللہ کی حدود پامال ہونے لگیں، حرمین کے پاس تفریحی میلے سجنے لگیں اور مظلوم فلسطینیوں کے خون پر مصلحت پسندی کی چادر تان کر ظالم قوتوں سے پینگیں بڑھائی جانے لگیں، تو پھر قدرت کا تازیانہ حرکت میں آتا ہے۔ موجودہ دور میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور عرب دنیا کا اس بھنور میں پھنسنا بظاہر ایک سیاسی بحران نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہی "عذاب کا کوڑا" محسوس ہوتا ہے جس کا ذکر قرآن کی مختلف آیات میں نافرمان قوموں کے لیے کیا گیا ہے۔

جب پوپ، پادری اور ہم سب ایک جیسے نکلے!

کہتے ہیں تاریخ خود کو دہراتی ہے، مگر کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ تاریخ صرف کردار بدلتی ہے، کہانی وہی رہتی ہے۔ 31 اکتوبر 1517 کو مارٹن لوتھر (Martin Luther) نے جب جرمنی کے ایک گرجے کی دیوار پر اپنے اعتراضات چسپاں کیے تو شاید اسے خود بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ صرف ایک کاغذ نہیں لگا رہا بلکہ یورپ کے سکون کو کیلوں سے ٹھوک رہا ہے۔ ادھر( Pope Leo X ) پوپ لیو دہم (1521-1475) بیٹھے سوچ رہے تھے کہ یہ نوجوان کچھ زیادہ ہی پڑھ لکھ گیا ہے، اور ادھر لوتھر صاحب فرماتے تھے کہ جناب! نجات کا ٹھیکہ آپ کے پاس کیسے آگیا؟
مارٹن لوتھر(1483-1546)

بات یہیں ختم ہو جاتی تو اچھا تھا، مگر انسان کی ایک پرانی عادت ہے: اختلاف کو مکالمہ نہیں بلکہ میدانِ جنگ بنا دینا۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے مسیحیت دو بڑے خانوں میں تقسیم ہوگئی—کیتھولک اور پروٹسٹنٹ—اور پھر ہر فریق نے دوسرے کو ایسا سمجھا جیسے وہ جنت کے دروازے پر کھڑا چوکیدار ہو اور باقی سب کو اندر جانے سے روکنا اس کی ڈیوٹی ہو۔ نتیجہ؟ وہی جو ہونا تھا: (1618-1648) تیس سال تک لوگ ایک دوسرے کو یہ سمجھانے میں لگے رہے کہ “تم غلط ہو”، اور دلیل کے طور پر تلوار استعمال کی جاتی رہی۔

اب ذرا آئینہ ادھر بھی گھمائیں۔ ہمارے ہاں بھی معاملہ کچھ مختلف نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نے گرجوں کی جگہ مساجد لے لی ہیں، لاطینی کی جگہ عربی و اردو آگئی ہے، مگر بحث وہی ہے: حق کس کے پاس ہے؟ ہر مسلک کے پاس اپنے اپنے دلائل، اپنے اپنے علما، اور اپنے اپنے “مصدقہ” جنتی افراد کی فہرست موجود ہے۔ اگر کبھی آپ کو فرصت ملے تو کسی چائے خانے میں بیٹھ کر دو مختلف مسالک کے افراد کی گفتگو سن لیں—آپ کو فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ مارٹن لوتھر بیچارہ اکیلا نہیں تھا، اس کی روح آج بھی کئی جگہوں پر گھوم رہی ہے!

فرقہ واریت کا کمال یہ ہے کہ یہ انسان کو اتنا مصروف رکھتی ہے کہ وہ اصل کام بھول جاتا ہے۔ یورپ نے بھی ایک لمبا عرصہ اسی مشغلے میں گزارا، حتیٰ کہ تنگ آ کر اس نے کہا: “بھئی بس کرو، ہمیں کچھ اور بھی کرنا ہے!” چنانچہ انہوں نے مذہب کو ایک طرف رکھ کر سائنس، تحقیق اور سیاست کے نئے راستے نکال لیے۔ اور ہم؟ ہم ابھی تک یہ طے کرنے میں لگے ہیں کہ کون سیدھا ہے اور کون الٹا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم سب قرآن کو ہدایت کی کتاب مانتے ہیں، مگر اس کو سمجھنے کے بجائے اکثر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے “پسندیدہ عالم” نے اس کے بارے میں کیا فرمایا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے کبھی یورپ میں لوگ بائبل کم اور پوپ زیادہ پڑھتے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نے پوپ کا لفظ بدل دیا ہے، کردار وہی رکھا ہے۔

اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ اختلاف کیوں ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اختلاف کو سنبھالتے کیسے ہیں۔ یورپ نے بڑی قیمت دے کر یہ سیکھا کہ اگر ہر شخص خود کو حق کا آخری نمائندہ سمجھے گا تو نتیجہ جنگ ہی ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم یہ سبق بغیر جنگ کے سیکھ سکتے ہیں؟

ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والی نسلیں ہماری تاریخ پڑھ کر یہ کہیں: “یہ لوگ بھی بڑے دلچسپ تھے—ہر وقت جنت کے نقشے بناتے رہے، مگر دنیا کو جہنم بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی!”

تعلیم وتربیت کا قرآنی تصور

برصغیر کی تعلیمی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ یہاں کے مسلم اہلِ فکر نے ہر دور میں بدلتے ہوئے حالات کے مقابلے کے لیے تعلیمی میدان میں نئی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ کبھی جدید مغربی علوم کے ساتھ ہم آہنگی کا تجربہ ہوا، کبھی روایت کے تحفظ کے ساتھ اصلاح کا منصوبہ سامنے آیا، اور کبھی دینی مدارس کی ساخت کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس سب کے باوجود آج بھی امت مسلمہ ایک ایسے تعلیمی بحران سے دوچار ہے جو محض نصاب یا اداروں کی تبدیلی سے حل ہوتا نظر نہیں آتا۔

اس صورت حال کا بنیادی سبب یہ ہے کہ تعلیم کو اس کے اصل مقصد سے جدا کر دیا گیا ہے۔ تعلیم کا مقصد انسان کو محض تعلیم یافتہ یا معاشی جدوجہد کا آلہ بنانا نہیں بلکہ اسے ایک صاحبِ ایمان، صاحبِ کردار اور صاحبِ بصیرت انسان بنانا ہے۔ جب تک تعلیم کا سرچشمہ وحی اور اس کا مرکز اللہ کی بندگی نہ ہو، اس وقت تک وہ انسان کو کامل معنوں میں ترقی نہیں دے سکتی۔ یہی وہ نقطۂ نظر ہے جسے سید ابوالاعلی مودودی نے اپنی تحریروں میں بار بار واضح کیا کہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے، اور اس کے بغیر تعلیم کا کوئی بھی تصور ادھورا ہے۔

آج کی جدید یونیورسٹیاں ذہن کو معلومات سے بھر رہی ہیں مگر روح کو خالی چھوڑ رہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان ترقی کی بلند ترین منازل طے کرنے کے باوجود اضطراب، بے معنویت اور اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم تعلیم کے اس اصل منبع کی طرف رجوع کریں جس نے تاریخ میں ایک ایسی تہذیب کو جنم دیا تھا جو علم، عدل اور روحانیت کا حسین امتزاج تھی۔

تہران میں نئے عہد کا آغاز: کیا مجتبیٰ خامنہ ای ایران کو بحران سے نکال پائیں گے؟


ایران کی مجلسِ خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے 8 مارچ 2026 کو باضابطہ طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک مشترکہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملے میں شہادت کے تقریباً ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی شخصیت ہمیشہ سے تہران کے سیاسی حلقوں میں ایک پرسرار اہمیت کی حامل رہی ہے۔ 1969 میں مشہد کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے مجتبیٰ نے اگرچہ کبھی کوئی باضابطہ حکومتی یا عوامی عہدہ نہیں سنبھالا، لیکن وہ پسِ پردہ اپنے والد کے دفتر کے سب سے بااثر مہرے کے طور پر ابھرے۔ قم کے مدارس سے فارغ التحصیل یہ عالمِ دین صرف مذہبی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ ایران عراق جنگ کے دوران محاذِ جنگ پر ان کی موجودگی نے انہیں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے طاقتور جرنیلوں کے قریب کر دیا۔ یہی وہ تعلق ہے جو آج کے مشکل حالات میں ان کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آیا ہے، کیونکہ ایران کے موجودہ دفاعی ڈھانچے میں فوج اور قیادت کا ہم آہنگ ہونا بقا کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔

موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اس وقت ایک ایسی سیکیورٹی صورتحال سے دوچار ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ایک طرف اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم کی لہر ہے تو دوسری طرف معاشی پابندیوں نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے کندھوں پر اب صرف ایک ملک کو چلانے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ اس 'مزاحمتی بلاک' کی قیادت کا بوجھ بھی ہے جو تہران سے لے کر بیروت اور دمشق تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کا انتخاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ فی الحال مغرب کے ساتھ کسی بڑے سمجھوتے یا پالیسی میں نرمی کے حق میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسی قیادت چاہتی ہے جو سخت گیر نظریات پر کاربند رہتے ہوئے نظام کا دفاع کر سکے۔

ایران، اسرائیل، امریکہ جنگ اور مغربی میڈیا کا منافقانہ رویہ


مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کی بو میں لپٹا ہوا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ہو یا اس کے پس منظر میں موجود امریکہ کی پالیسی—یہ سب کچھ کسی اچانک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل استعماری تسلسل کی کڑیاں ہیں۔ اور اس پورے منظرنامے میں مغربی میڈیا کا کردار سوالیہ نشان بن چکا ہے؛ وہی میڈیا جو انسانی حقوق کا علَم بردار بن کر دنیا کو درس دیتا ہے، لیکن جب مظلوم کا تعلق مشرق سے ہو تو اس کی زبان گنگ اور آنکھ اندھی ہوجاتی ہے۔

غزہ کے حالیہ واقعات نے دنیا کے سامنے مغرب کے دوہرے معیار کو بے نقاب کردیا۔ غزہ میں بچوں، عورتوں اور نہتے شہریوں کی ہلاکتوں کو “دفاعِ خود” کا نام دیا جاتا ہے، جبکہ کسی بھی مزاحمت کو “دہشت گردی” قرار دے کر عالمی ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وہ بیانیہ ہے جو مغربی میڈیا مسلسل دہراتا ہے—الفاظ کا ایسا کھیل جس میں قاتل مظلوم اور مظلوم مجرم بنا دیا جاتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم سے لے کر آج تک عالمی طاقتوں کی سیاسی و معاشی بنیاد طاقت کے عدم توازن اور وسائل پر قبضے کی پالیسی پر کھڑی نظر آتی ہے۔ نوآبادیاتی نظام نے ایشیا اور افریقہ کو لوٹا، ان کی معیشتوں کو تباہ کیا اور مصنوعی سرحدیں کھینچ کر مستقل تنازعات کی بنیاد رکھ دی۔ آج اگر مشرقِ وسطیٰ آگ میں جل رہا ہے تو اس آگ کے شعلے ماضی کی انہی پالیسیوں سے بلند ہوئے ہیں۔

عہدِ رفتہ کا اختتام: آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ایک نئے دور کا آغاز


ایران کی تاریخ میں 28 فروری 2026 کا دن ایک بڑے موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب دارالحکومت تہران میں ان کے دفتر (لیڈرشپ ہاؤس) پر ہونے والے حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح (یکم مارچ) اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے ملک میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

 علی حسینی خامنہ ای 19 اپریل 1939 کو مشہد کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
تعلیم و جدوجہد: انہوں نے قم اور مشہد کے مدارس سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی اور شاہِ ایران کے خلاف تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس کی پاداش میں انہیں کئی بار جیل بھی جانا پڑا۔
سیاسی سفر: 1979 کے انقلاب کے بعد وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اہم ستون بن کر ابھرے۔ وہ 1981 سے 1989 تک ایران کے صدر رہے۔

 1989 میں بانیِ انقلاب امام خمینی کی وفات کے بعد وہ ایران کے دوسرے 'رہبرِ اعلیٰ' (سپریم لیڈر) منتخب ہوئے اور اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔

مصنوعی ذہانت: انسانی وژن کی نئی معراج


ٹیکنالوجی کی تاریخ میں جب بھی کسی بڑی تبدیلی نے جنم لیا، انسانی ذہن نے اسے ہمیشہ اپنے متبادل کے طور پر دیکھا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ مشینیں انسانی جسم کی مشقت تو کم کر سکتی ہیں مگر انسانی وژن کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔ آج جب ہم مصنوعی ذہانت (AI) کے عہد میں جی رہے ہیں، تو یہ تاثر عام ہے کہ شاید اب انسانی ضرورت ختم ہو رہی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اے آئی نے درحقیقت انسانی قدر میں وہ اضافہ کر دیا ہے جس کا تصور اس سے پہلے ممکن نہ تھا۔ اس ٹیکنالوجی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مختلف پیچیدہ پراجیکٹس کی تکمیل میں ایک طاقتور معاون تو بن سکتی ہے، لیکن اس معاون کو چلانے کے لیے جس اعلیٰ درجے کی ذہانت، بصیرت اور وژن کی ضرورت ہے، وہ صرف انسان کے پاس ہے۔

اس کی زندہ مثال مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیا نڈیلا ہیں۔ جب انہوں نے کمپنی کی باگ ڈور سنبھالی تو مائیکروسافٹ اپنی پرانی مصنوعات میں گھری ہوئی تھی، لیکن نڈیلا نے اپنے وژن سے بھانپ لیا کہ مستقبل "کلاؤڈ" اور "اے آئی" کا ہے۔ انہوں نے اے آئی کو محض ایک فیچر کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے کمپنی کے ہر پراجیکٹ کا مرکز بنا دیا۔ آج مائیکروسافٹ کا ہر ملازم اے آئی کو ایک اوزار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، لیکن اس کامیابی کے پیچھے وہ وژنری سوچ تھی جس نے ٹیکنالوجی کو صحیح رخ دیا۔ مستقبل کا منظرنامہ اب تکنیکی مہارت سے ہٹ کر اسی طرح کی "ذہانت کے درست استعمال" کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اب اہمیت اس بات کی نہیں رہی کہ آپ کو کتنا ڈیٹا یاد ہے، بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ اس ڈیٹا سے کیا نیا تخلیق کر سکتے ہیں۔

قیامِ لیل سے قیامِ امت

ابتدا میں جب کائنات کی خاموشی میں پہلی وحی کی بازگشت سنائی دی تو انسانیت کی تقدیر بدلنے والی تھی—مگر اس تبدیلی کی بنیاد شور و ہنگامے میں نہیں، رات کی خاموشی میں رکھی گئی۔ سورۃ المزمل نے ایک لرزتے دل کو پکارا: قُمِ اللَّيْلَ—اٹھو، رات میں کھڑے ہو جاؤ۔ یہ محض نماز کا حکم نہ تھا، یہ روح کی تعمیر تھی۔ گویا پیغامِ حق اٹھانے سے پہلے حاملِ پیغام کو رب کے حضور کھڑا ہونا سکھایا گیا۔ إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا—ایک بھاری کلام آنے والا ہے؛ اور بھاری امانتیں کمزور کندھوں پر نہیں رکھی جاتیں، انہیں راتوں کی ریاضت مضبوط بناتی ہے۔

پھر اسی سلسلے کی اگلی صدا سورۃ المدثر میں گونجی: قُمْ فَأَنذِرْ—اٹھو اور خبردار کرو۔ اب خلوت کی آگ سے گزر کر جلنے والا چراغ لوگوں کے بیچ روشنی بانٹنے کو تھا۔ پہلے اندر کو روشن کیا گیا، پھر باہر کی تاریکی کو چیرنے کا حکم ملا۔ مزمل کی رات نے جو سکون، یقین اور بصیرت دی، مدثر کے دن نے اسے حرکت، اعلان اور جدوجہد میں ڈھال دیا۔

اور جب دعوت کی راہیں سنگلاخ ہوئیں، تو سورۃ الإسراء نے اس تسلسل کو دائمی بنا دیا: وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ—رات کا یہ رشتہ کبھی نہ ٹوٹے۔ گویا قیامِ لیل صرف ابتدا کی تربیت نہیں، قیادت کی بقا کا راز بھی ہے۔ اسی خلوت سے مَقَامًا مَّحْمُودًا کی بشارت پھوٹتی ہے؛ وہ مقام جس تک رسائی دن کی ہنگامہ خیزی سے نہیں، رات کی سجدہ ریزی سے ہوتی ہے۔

یوں تاریخ نے دیکھا کہ ایک امت کی تعمیر جلسوں سے پہلے سجدوں میں ہوئی، نعروں سے پہلے آہوں میں، اور میدانوں سے پہلے محرابوں میں۔ قیامِ لیل سے قیامِ امت تک کا یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ جس تحریک کی جڑیں رات کی نمی میں پیوست ہوں، اسے دن کی دھوپ مرجھا نہیں سکتی۔

فلسفہ رواقیت اور قرآنی تعلیمات: ایک تقابلی مطالعہ

فلسفہ رواقیت (Stoicism) قدیم یونانی و رومی تاریخ کا ایک اہم ترین فلسفہ ہے جس نے صدیوں تک انسانی اخلاقیات اور طرزِ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔رواقیت کا آغاز تیسری صدی قبل مسیح (تقریباً 300 ق م) میں ایتھنز سے ہوا۔ اس کے بانی زینو (Zeno of Citium) تھے۔ زینو ایک جہاز راں تھے جن کا سامان ایک بحری حادثے میں تباہ ہو گیا تھا۔ اس نقصان نے انہیں فلسفے کی طرف مائل کیا۔ زینو ایتھنز میں ایک عوامی مقام پر درس دیا کرتے تھے جسے "Stoa Poikile" (رنگین برآمدہ) کہا جاتا تھا۔ اسی "Stoa" کی نسبت سے اس مکتبہ فکر کا نام "Stoicism" یا "رواقیت" پڑا۔ یہ فلسفہ یونان سے ہوتا ہوا سلطنتِ روما تک پہنچا، جہاں اسے بے پناہ مقبولیت ملی۔ اس کے مشہور ترین پیروکاروں میں سینیکا (Seneca)، اپیکٹیٹس (Epictetus) اور عظیم رومی بادشاہ مارکس اوریلیئس (Marcus Aurelius) شامل ہیں۔
رواقیت صرف نظریاتی فلسفہ نہیں بلکہ " انسان کے لے جینے کا ایک فن" ہے۔ اس کے بنیادی مباحث درج ذیل ہیں:

1. ضبطِ نفس اور منطق (Logic over Emotion) رواقیوں کا ماننا ہے کہ دکھ اور پریشانی کی اصل وجہ بیرونی حالات نہیں، بلکہ ان حالات کے بارے میں ہمارا اپنا ردِعمل ہے۔ اگر ہم اپنے جذبات پر قابو پا لیں اور منطق یعنی علم و حکمت سے کام لیں، تو ہم ذہنی سکون حاصل کر سکتے ہیں۔

شوپن ہاور اور فلسفہ قنوطیت

آرتھر شوپن ہاؤر (Arthur Schopenhauer) (1788–1860) انیسویں صدی کے ایک ممتاز مگر قنوطی (Pessimistic) جرمن فلسفی تھے، جن کے افکار پر یورپ کے سیاسی اور سماجی انتشار کے گہرے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ انقلابِ فرانس اور نپولین کی جنگوں نے پورے یورپ کو بے یقینی، قتل و غارت اور مایوسی کی فضا میں دھکیل دیا تھا۔ نوجوان نسل کے خواب بکھر چکے تھے؛ کہیں فنکار اور ادیب ناامیدی کا شکار تھے، کہیں مفکرین فطرت، ماضی یا تخیلات میں پناہ تلاش کر رہے تھے۔ اسی ماحول نے شوپن ہاؤر کے اس فلسفے کو جنم دیا جس میں زندگی ایک ایسی جدوجہد نظر آتی ہے جو دکھ، بے معنویت اور مسلسل خواہشات سے عبارت ہے۔
شوپن ہاؤر

شوپن ہاؤر نے اپنے بنیادی نظریات شہرۂ آفاق کتاب “The World as Will and Idea” (جسے عموماً “The World as Will and Representation” بھی کہا جاتا ہے) میں پیش کیے۔ ان کے نزدیک کائنات کی اصل حقیقت “ارادہ” ہے—ایک اندھی قوت جو انسان کو مسلسل خواہشات میں مبتلا رکھتی ہے اور یوں مکمل سکون کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ اسی سبب وہ زندگی کو بنیادی طور پر تکلیف دہ اور غیر مطمئن سمجھتے تھے۔

ان کی ولادت 22 فروری 1788ء کو جرمن شہر ڈانزگ میں ہوئی۔ ان کے والد ایک مالدار تاجر تھے، جو تیز مزاج مگر آزادی پسند انسان کے طور پر معروف تھے۔ جب ڈانزگ پر غیر ملکی تسلط قائم ہوا تو اس خوددار خاندان نے شہر چھوڑ دیا۔ کچھ عرصے بعد ان کے والد کا انتقال ہوگیا، جس نے شوپن ہاؤر کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس مزید گہرا کر دیا۔ ان کی والدہ ایک معروف ناول نگار تھیں، مگر ماں بیٹے کے تعلقات خوشگوار نہ رہے اور بالآخر دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ روایت ہے کہ جدائی کے وقت شوپن ہاؤر نے کہا کہ “آنے والا زمانہ تمہیں میری وجہ سے پہچانے گا”، اور جرمن شاعر و مفکر گوئٹے نے بھی اس بات کی تائید کی۔

شوپن ہاؤر کی ذاتی زندگی میں تنہائی ایک مستقل سایے کی طرح موجود رہی۔ نہ ان کے سر پر باپ کا سایہ رہا، نہ ماں سے قلبی تعلق قائم ہو سکا، اور نہ ہی انہوں نے شادی کی یا اولاد ہوئی۔ یہی شدید تنہائی اور باطنی کرب ان کے فلسفے میں جھلکتا ہے، جہاں انسان ایک ایسے مسافر کے طور پر دکھائی دیتا ہے جو خواہشات کے صحرا میں بھٹکتا رہتا ہے۔

عظیم سرمایہ کاروں کا فلسفہ: دولت کی تخلیق اور مارکیٹ کی نفسیات

 


دنیا کے عظیم ترین سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں اور ان کے مالیاتی فلسفے پر مبنی ایک جامع مضمون درج ذیل ہے:

اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں جن سرمایہ کاروں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی، ان کے پیچھے محض اتفاق یا خوش قسمتی نہیں، بلکہ ایک گہرا مالیاتی فلسفہ اور نظم و ضبط کارفرما تھا۔ اگر ہم دنیا کے دس مشہور سرمایہ کاروں، جیسے وارن بفٹ، بینجمن گراہم، پیٹر لنچ اور جان بوگل کی حکمت عملیوں کا مجموعی جائزہ لیں، تو چند بنیادی اصول ابھر کر سامنے آتے ہیں جو کسی بھی دور میں سرمایہ کاری کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
1. قدر کی تلاش (Value Investing) اور تحفظ کا مارجن
اسٹاک مارکیٹ کے فلسفے کی سب سے مضبوط بنیاد "ویلیو انویسٹنگ" ہے، جس کے بانی بینجمن گراہم تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اسٹاک محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک زندہ کاروبار کا حصہ ہے۔ ان کا مشہور فلسفہ "Margin of Safety" یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی حصص کو اس کی اصل قیمت (Intrinsic Value) سے بہت کم قیمت پر خریدنا چاہیے تاکہ نقصان کا خطرہ کم سے کم ہو۔ وارن بفٹ نے اسی نظریے کو اپنایا اور یہ ثابت کیا کہ "قیمت وہ ہے جو آپ ادا کرتے ہیں، اور قدر وہ ہے جو آپ حاصل کرتے ہیں۔"

آبنائے ہرمز: طاقت کا مظاہرہ یا عالمی توازن کا امتحان


آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور بین الاقوامی کشیدگی کے مرکز میں آ کھڑی ہوئی ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حساس سمندری گزرگاہ میں جنگی مشقیں کی جائیں گی۔ اسی تناظر میں عالمی خبر رساں اداروں نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ایران نے شپنگ کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کر کے آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیاں متوقع ہیں۔ اگرچہ بعض غیر مصدقہ ذرائع روس اور چین کی ممکنہ شمولیت کا ذکر کر رہے ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس خاموشی نے خود اس اعلان کو مزید معنی خیز بنا دیا ہے۔

یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک بار پھر شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ جوہری معاہدے کے تعطل، امریکی پابندیوں، خطے میں امریکی بحری موجودگی اور اسرائیل-غزہ جنگ کے اثرات نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نازک مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے خلیج اور اس کے اطراف میں بحری بیڑوں کی موجودگی ایران کے لیے محض ایک عسکری چیلنج نہیں بلکہ ایک مسلسل سیاسی دباؤ بھی ہے۔ ایسے ماحول میں آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا اعلان دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے تیار ہے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو آمادہ نہیں۔

نئے عالمی اتحاد اور امریکی پسپائی


بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے فیصلے محض وقتی ردِعمل نہیں ہوتے، بلکہ وہ ماضی کے تجربات اور مستقبل کے خدشات کے امتزاج سے جنم لیتے ہیں۔ آج عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ، جو کبھی واحد سپر پاور کے طور پر دنیا کی سمت متعین کرتا تھا، اب اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ دوسری جانب چین، روس، یورپی یونین، ہندوستان اور متعدد علاقائی قوتیں ایک نئے کثیر قطبی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔

یہ کہنا سادہ لوحی ہوگا کہ امریکہ عالمی سیاست سے مکمل طور پر دستبردار ہو رہا ہے۔ درحقیقت ماہرین کے مطابق یہ ایک اسٹریٹجک ری ایڈجسٹمنٹ ہے، نہ کہ مکمل انخلا۔

معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ امریکہ کو چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے صنعتی اور تکنیکی اثر و رسوخ کا سامنا ہے۔ اس چیلنج کے پیشِ نظر امریکی پالیسی ساز اب بیرونی مداخلت کے بجائے انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مینوفیکچرنگ کی بحالی کو قومی سلامتی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

عالمی نظام کی نئی کروٹ: کیا امریکی بالادستی کا دور ختم ہو چکا ہے؟

اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں کے اختتام اور تیسرے عشرے کے نصف میں داخل ہونے کے ساتھ ہی، بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اور دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ نے "واحد سپر پاور" کے طور پر جو حیثیت حاصل کی تھی، اب وہ بتدریج کمزور پڑ رہی ہے اور دنیا ایک زیادہ پیچیدہ، کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

 اس تبدیلی کی کئی واضح نشانیاں موجود ہیں، یورپی ممالک، خاص طور پر یورپی یونین (EU)، اب امریکی پالیسیوں کی آنکھ بند کر کے پیروی کرنے کے بجائے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری (strategic autonomy) پر زور دے رہے ہیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ہونے والا تاریخی آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) ہے، جسے "تمام معاہدوں کی ماں" قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ سابق صدر ٹرمپ کی "امریکہ سب سے پہلے" پالیسی کے تحت بھارت پر ٹیرف بڑھا رہا تھا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ یورپ اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے واشنگٹن سے ہٹ کر فیصلے کرنے پر آمادہ ہے۔

چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ: کینیڈا اور کئی دیگر یورپی ممالک نے چین کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سیاسی روابط کو مضبوط کیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم کی جانب سے حال ہی میں چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں پیش رفت کو "زیادہ پیش قیاسی کے قابل" قرار دینا، امریکی دباؤ کے باوجود اقتصادی حقیقت پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور اس کے عالمی تجارتی حجم نے دنیا کے دیگر ممالک کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ امریکی دائرہ اثر سے باہر نکل کر بھی اہم شراکت داریاں قائم کر سکتے ہیں۔

نیکی کا معیار اور مسلم دنیا کی گمشدہ روح

سورۃ البقرہ کی آیت 177 قرآن مجید کی اُن جامع ترین آیات میں سے ہے جو دین کو محض عبادات، ظاہری علامات اور سمتوں تک محدود کرنے کے بجائے ایک مکمل فکری، اخلاقی، سماجی اور معاشی نظام کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ آیت اُس پس منظر میں نازل ہوئی جب قبلہ کی تبدیلی کو بنیاد بنا کر دین کی اصل روح کو پس منظر میں دھکیلا جا رہا تھا۔ قرآن نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ نیکی مشرق و مغرب کی طرف رخ کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ، آخرت، وحی اور نبوت پر ایمان، اس ایمان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سماجی احساس، مالی ایثار، اخلاقی دیانت اور مشکل حالات میں ثابت قدمی کا نام ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے آج کی مسلم دنیا کا بحران سمجھ میں آتا ہے۔

آج کی مسلم ریاستیں کاغذوں میں اسلامی ہیں، آئین میں اسلام درج ہے، جمعے کی تعطیل ہے، مساجد آباد ہیں، مگر ریاستی سطح پر عدل ناپید، امانت مفقود اور جواب دہی کا تصور کمزور ہے۔ اقتدار کو غنیمت، وسائل کو ذاتی ملکیت اور عوام کو محض رعایا سمجھا جاتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان محض عقیدہ نہیں بلکہ وہ اخلاقی قوت ہے جو حکمران کو ظالم بننے سے روکتی ہے، اداروں کو دیانت سکھاتی ہے اور ریاست کو عوام کی خدمت پر مجبور کرتی ہے۔ جہاں عدل نہ ہو وہاں قبلہ درست ہونے کے باوجود نیکی کا دعویٰ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔

اسی آیت میں نیکی کا دوسرا بڑا معیار مال کا درست مصرف ہے۔ قرآن رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور محروم طبقات کا ذکر کر کے دراصل ایک معاشی فلسفہ پیش کرتا ہے، جس کی بنیاد دولت کی گردش اور سماجی توازن پر ہے۔ مگر آج مسلم معاشروں میں دولت چند خاندانوں اور طبقوں میں سمٹ چکی ہے، جبکہ اکثریت مہنگائی، بے روزگاری اور قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ زکوٰۃ موجود ہے مگر نظام نہیں، صدقات ہیں مگر ریاستی سطح پر سماجی انصاف کا کوئی مضبوط ڈھانچہ نظر نہیں آتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ عبادت گاہوں کے سائے میں بھوک، افلاس اور محرومی پل رہی ہے، جو قرآن کے تصورِ نیکی سے صریح انحراف ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم (WEF) 2026: مکالمے کی روح یا عالمی تضادات کی نمائش؟

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں 19 سے 23 جنوری 2026 تک منعقد ہونے والا ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کا 56 واں سالانہ اجلاس بظاہر ایک نہایت خوش آئند نعرے—“مکالمے کی روح” (A Spirit of Dialogue)—کے ساتھ عالمی رہنماؤں، کارپوریٹ ایگزیکٹوز اور پالیسی سازوں کو ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ عالمی حالات میں یہ روح واقعی سانس لے سکتی ہے، یا یہ محض ایک خوش نما تصور بن کر رہ گئی ہے؟

دنیا اس وقت جس شدت کے سیاسی، عسکری اور معاشی خلفشار سے گزر رہی ہے، اس کے تناظر میں ڈیووس کے بلند بانگ مقاصد حقیقت سے زیادہ خواہشات کا عکس دکھائی دیتے ہیں۔

فورم کے پروگرام کو پانچ بڑے عالمی چیلنجوں کے گرد ترتیب دیا گیا، جن میں بلاشبہ انسانی مستقبل سے جڑے بنیادی سوالات شامل تھے۔

جغرافیائی کشیدگی کے باوجود تعاون، معاشی ترقی کے نئے ذرائع، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز کا ذمہ دارانہ استعمال، اور ماحولیاتی حدود کے اندر خوشحالی—یہ سب ایسے موضوعات ہیں جن پر عالمی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔

پردے کے اُس پار۔۔۔۔

وہ دروازہ جسے کھولا نہیں گیا— بس دکھا دیا گیا۔ فضا رک سی گئی۔ آگ نظر نہ آتی تھی، مگر اس کی موجودگی روح پر وزن بن کر اتر رہی تھی۔

یہاں کوئی اعلان نہ تھا، کوئی شور نہیں— صرف انجام اپنی پوری سچائی کے ساتھ موجود تھا۔

پہلے وہ لوگ دکھائی دیے جن کی زبانیں ان کے وجود سے الگ ہو کر لٹک رہی تھیں۔

وہ بول نہیں رہے تھے، کیونکہ ان کے لفظ اب ان کے خلاف گواہی بن چکے تھے۔

ان کے چہرے مانوس تھے— جیسے وہ زمین پر ہر روز ملتے ہوں۔

پھر ایک اور گروہ نظر آیا— پیٹوں میں بوجھ بھرے، ہاتھوں میں وہی کچھ اٹھائے جو وہ دنیا میں جمع کرتے رہے تھے۔

وہ کھا رہے تھے، اور وہی اندر آگ بن جاتا تھا۔
کوئی ان پر ظلم نہ کر رہا تھا—وہ خود اپنے عمل میں قید تھے۔

ذرا آگےایک اور منظر تھا— جہاں آگ نہیں، شرمندگی جل رہی تھی۔

نگاہیں جھکی ہوئی، جسم بے ترتیب، قربت بھی عذاب بن چکی تھی۔

یہ وہ تھے جنہوں نے حد کو بوجھ سمجھا، اور خواہش کو قانون۔

پھر چند اور چہرے اجمال میں دکھائے گئے—کسی کے سرپتھروں سے کچلے جا رہے تھے
کیونکہ سجدہ ان پر بھاری تھا۔

کسی کے ہونٹوں میں انگارے ڈالے جا رہے تھے کیونکہ وہ کمزور کا حق نگل گئے تھے۔

کسی کے سامنے پاک گوشت رکھا تھا، مگر وہ سڑا ہوا چن رہے تھے— کیونکہ عادت ذوق بن چکی تھی۔

یہ سب ناموں کے بغیر تھا، کیونکہ یہاں نام نہیں کردار بولتے تھے۔

اور اس سب کے سامنے نبی ﷺ کھڑے تھے— نہ فیصلے سناتے ہوئے، نہ سوال اٹھاتے ہوئے—صرف گواہ۔

یہ سب اندر جانے کے لیے نہیں تھا، بلکہ زمین پر رک جانے کے لیے تھا۔

دروازہ بند رہا، مگر پیغام کھل چکا تھا— کہ جہنم اچانک نہیں آتی، وہ انسان کے ساتھ آہستہ آہستہ تیار ہوتی ہے۔

اور جو وقت پر رک جائے— اس کے لیے یہ سب صرف ایک منظر رہتا ہے۔

زندگی کیوں؟ — قرآنی فلسفۂ حیات اور جدید نوجوان کا فکری بحران

آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں آنکھ کھولتا ہے جہاں سب کچھ ہے، مگر زندگی کا جواب نہیں۔ اس کے ہاتھ میں موبائل ہے، ذہن میں معلومات کا سمندر ہے، مگر دل میں یہ سوال مستقل سر اٹھائے کھڑا ہے کہ آخر یہ سب کس لیے ہے؟ تعلیم، نوکری، کامیابی، محبت، آزادی — سب ہیں، مگر ان سب کے پیچھے کوئی واضح مقصد دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وہ فکری بحران ہے جس نے جدید انسان، خصوصاً نوجوان نسل کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔

جدید مادی اور الحادی فلسفۂ حیات نوجوان کو یہ بتاتا ہے کہ کائنات کسی منصوبے کا نتیجہ نہیں، زندگی ایک حادثہ ہے، اور انسان محض ارتقائی عمل کی پیداوار ہے۔ ایسے میں زندگی کا مقصد خود انسان کو گھڑنا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جو وجود خود بے مقصد ہو، وہ مقصد کہاں سے تراشے؟ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے نام پر بے سمتی، اور خود اختیاری کے نام پر ذہنی انتشار بڑھتا جا رہا ہے۔

قرآن اس فکری تاریکی میں زندگی کی ایک بالکل مختلف تعبیر پیش کرتا ہے۔ وہ انسان کو یہ نہیں کہتا کہ تم خود ساختہ وجود ہو، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ تم ارادۂ الٰہی کے تحت وجود میں آئے ہو۔ تمہاری زندگی کھیل یا اتفاق نہیں، بلکہ ایک امتحان ہے۔ یہاں ہر قدم، ہر نیت اور ہر جدوجہد معنی رکھتی ہے۔ یہی تصور انسان کے وجود کو وزن، وقار اور سمت عطا کرتا ہے۔

سورۂ الاسراء کی آیات (18 تا 21) میں قرآن نہایت سادہ مگر فیصلہ کن انداز میں دو طرزِ حیات سامنے رکھتا ہے۔ ایک وہ جو صرف العاجلہ کا طالب ہے، یعنی فوری فائدہ، فوری لذت اور فوری کامیابی۔ ایسا انسان بھی دنیا میں کچھ حاصل کر لیتا ہے، مگر قرآن واضح کر دیتا ہے کہ یہ عطا نہ مکمل ہے، نہ مستقل، اور نہ ہی کسی قدر و قیمت کی ضمانت۔ دوسری طرف وہ شخص ہے جو آخرت کو مقصد بنا کر جیتا ہے، ایمان کے ساتھ جدوجہد کرتا ہے، اور جس کی محنت کو خود اللہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہاں کامیابی کا معیار بدل جاتا ہے۔

"طاقت کے بل پر" چلنے والی دنیا اور امریکہ، چین اور روس کے درمیان غلبہ حاصل کرنے کی دوڑ

انتھنی زرچر، لورا بکر اور واٹیلی شوچنکو
عہدہ,بی بی سی 17 جنوری 2026


امریکی فورسز کی جانب سے کاراکس میں وینزویلا کے معزول صدر مادورو کو پکڑنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ’آج کے بعد مغربی کرہ میں امریکی برتری پر کوئی بھی سوال نہیں اٹھائے گا۔‘

اور ایسے میں جب ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن کی طاقت کا دعویٰ کر رہے ہیں، روس اور چین بھی اپنا حلقہ اثر پھیلانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کئی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تینوں ممالک ایک نیا عالمی نظام (گلوبل آرڈر) لانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا یورپ اور دیگر عالمی طاقتوں پر گہرا اثر پڑے گا۔

اس مضمون میں ہم یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیسے امریکہ، چین اور روس نہ صرف اپنے ہمسایوں بلکہ اپنی سرحدوں سے کہیں دور واقع ممالک پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے فوجی، معاشی اور سیاسی ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔

امریکہ دنیا کو ’اپنی طاقت کے بل پر چلانا چاہتا ہے‘


ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی حکمت عملیوں کو ایک نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے جس کا محور مغربی کرہ ہے۔

ٹرمپ کی یہ حکمتِ عملی ڈیموکریٹ اور ریپبلکن دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے حالیہ امریکی صدور سے یکسر مختلف ہے، جنھوں نے امریکی طاقت اور اختیار کے بارے میں زیادہ عالمی نظریہ اپنایا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کے مطابق یہ ایسی خارجہ پالیسی ہے جو ’سب سے پہلے امریکہ‘ کے نظریے کے گرد گھومتی ہے اور یہ ایسے مسائل پر زیادہ توجہ دیتی ہے جن سے امریکی عوام براہِ راست متاثر ہوتے ہیں، جیسے کہ امیگریشن، جرائم اور منشیات کی سمگلنگ۔

حال ہی میں ٹرمپ کے سینیئر مشیر سٹیفن ملر نے کہا ہے کہ یہ ایک ایسی دنیا ہے جو کہ طاقت کے بل پر چلتی ہے۔ ان کے اِس بیان کا موازنہ ہنری کسنجر اور رچرڈ نکسن کی 1960 اور 1970 کی دہائی کی عملی، غیر نظریاتی خارجہ پالیسی سے کی جا سکتا ہے۔

کیا معاشی ترقی دین کے خلاف ہے؟

ہمارے معاشرے میں خصوصاً بعض دیندار حلقوں میں یہ تصور جڑ پکڑ چکا ہے کہ مالی آزادی، معاشی ترقی اور دنیاوی جدوجہد شاید دین کے منافی ہیں، یا کم از کم یہ کہ ان امور میں حد سے زیادہ دلچسپی روحانیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ سوچ بظاہر تقویٰ کے غلبے کا تاثر دیتی ہے، لیکن اگر قرآنِ حکیم کی تعلیمات کو سنجیدگی سے پڑھا جائے تو یہ تصور نہ صرف کمزور بلکہ صریحاً غلط ثابت ہوتا ہے۔

قرآن انسان کو محض عبادت گاہوں تک محدود مخلوق نہیں بناتا، بلکہ اسے زمین پر خلیفہ قرار دیتا ہے۔ خلافت کا مفہوم صرف اخلاقی یا روحانی نہیں بلکہ معاشی، تمدنی اور عملی ذمہ داریوں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے:

“هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ”
(الملک: 15)

“وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے تابع بنا دیا، پس اس کے راستوں میں چلو پھرو اور اللہ کا رزق کھاؤ۔”

یہ آیت اس بنیادی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رزق کے حصول کے لیے حرکت، جدوجہد اور اسباب اختیار کرنا عین مطلوبِ الٰہی ہے۔ قرآن کسی ایسے تصوف یا دینداری کی تائید نہیں کرتا جو انسان کو دنیا سے کاٹ دے، محنت سے روک دے یا معاشی ذمہ داریوں سے فرار کی ترغیب دے۔

درحقیقت، مالی جدوجہد انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ قرآن کہتا ہے:

“أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ”
(الملک: 22)

یعنی زندگی سیدھے راستے پر توازن کے ساتھ چلنے کا نام ہے، نہ کہ ایک پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کر دینا۔ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ اسباب کے بغیر زندگی گزار سکتا ہے، وہ دراصل اللہ کے بنائے ہوئے نظامِ اسباب سے بغاوت کرتا ہے۔ دنیا دارالاسباب ہے، اور اس حقیقت کو جھٹلانا تقدس نہیں بلکہ فطرت سے انکار ہے۔

نبی کریم ﷺ کی عملی زندگی بھی اس حقیقت کی سب سے روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ نے تجارت کی، صحابہؓ کو محنت کی ترغیب دی، اور یہ اصول دیا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ حضرت عمرؓ کا وہ مشہور قول بھی اسی ذہنیت کی اصلاح کرتا ہے کہ “میں اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں جو دین یا دنیا کے کام میں سست ہو۔”

اصل مسئلہ دولت نہیں، بلکہ دولت کا مقصد ہے۔ اسلام دولت جمع کرنے سے نہیں روکتا، بلکہ اسے ظلم، استحصال، غرور اور غفلت کا ذریعہ بنانے سے روکتا ہے۔ قرآن توازن سکھاتا ہے:

“وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا”
(القصص: 77)

یعنی آخرت کو مقصد بناؤ، مگر دنیا کے حصے کو مت بھولو۔ یہی اسلامی معاشی فکر کا خلاصہ ہے۔

آج امتِ مسلمہ جن بحرانوں سے دوچار ہے، ان میں ایک بڑی وجہ معاشی کمزوری بھی ہے۔ غربت، محتاجی اور مالی انحصار نہ صرف فرد کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں بلکہ اجتماعی سطح پر امت کو دوسروں کا محتاج بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں مالی خود کفالت اور ترقی کو دین کے خلاف سمجھنا ایک فکری خودکشی کے مترادف ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ دیندار ذہن یہ سمجھے کہ حلال ذرائع سے معاشی جدوجہد عبادت کے منافی نہیں بلکہ اس کا تسلسل ہے۔ مضبوط معیشت کے بغیر مضبوط اخلاق، آزاد فکر اور باوقار دین داری کا تصور ادھورا ہے۔

اسلام ہمیں ترکِ دنیا نہیں، تعمیرِ دنیا مع الآخرة سکھاتا ہے۔ یہی توازن اگر دوبارہ زندہ ہو جائے تو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی ایک باوقار، خودمختار اور باعمل مسلم معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔