الحاد کا فکری بحران اور قرآنی دعوتِ تدبر

آج کا دور فکری انارکی اور نظریاتی کشمکش کا دور ہے۔ عالمگیر ایجادات اور سوشل میڈیا کے سیلاب نے جہاں معلومات تک رسائی آسان کی ہے، وہاں نوجوان نسل کے عقائد اور فکری بنیادوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کا ایک افسوسناک پہلو مسلم معاشروں میں "الحاد"  کا ابھرتا ہوا وہ رجحان ہے، جو بظاہر خود کو "عقلیت پسندی" اور "علمیت" کے لبادے میں پیش کرتا ہے، لیکن اگر اس کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک سطحی اور نقالانہ فکر کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔

میرا یہ ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ ہمارے اردگرد موجود یہ "نام نہاد ملحدین"، جو مسلم گھرانوں میں پیدا ہوئے، اسی تہذیب اور روایات میں پلے بڑھے، وہ دراصل اسلام سے شدید قسم کی لاعلمی کا شکار ہیں۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے مذہب کا مطالعہ خود براہِ راست کرنے کے بجائے ہمیشہ ناقدین کی عینک سے کیا ہے۔ یہ لوگ مغربی فلسفے، مستشرقین  کی تحریروں اور انٹرنیٹ پر موجود الحادی پروپیگنڈے سے اس حد تک مرعوب ہو چکے ہیں کہ اب یہ اسلام پر اعتراضات نہیں کرتے، بلکہ مغربی فلسفیوں کے اٹھائے ہوئے پرانے اور پامال سوالات کی محض "جگالی" کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اپنا کوئی ٹھوس علمی مقدمہ نہیں ہے، بلکہ یہ سنی سنائی باتوں اور ادھورے حقائق کے سہارے ایک پورا فکری محل کھڑا کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

مکہ معاہدہ اور فکر ندوی (علی میاںؒ)

یسویں صدی کے وسط میں جب مسلم امہ نوآبادیاتی غلامی کے سائے سے نکل رہی تھی، تب برصغیر کے عظیم مفکر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (علی میاں) نے اپنی معرکہ آرا تصنیف "انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر"  ( اصل کتاب عربی زبان  میں  ہے جس کا عنوان ہے "ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین")  کے ذریعے عالمی افق پر ایک فکری زلزلہ برپا کیا تھا۔ انہوں نے مسلم دنیا، بالخصوص عرب حکمرانوں اور دانشوروں کو جرات مندانہ دعوتِ فکر دی کہ مسلمانوں کا زوال محض ایک خطے کی تنزلی نہیں، بلکہ اخلاقی و روحانی طور پر پوری انسانیت کی خودکشی کا سبب بن رہا ہے۔ آج اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں، جب مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا ایک نئی سیاسی الٹ پھیر اور فکری بحران سے گزر رہی ہے، فکرِ ندوی کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

مولانا ندوی نے اپنی دوسری مایہ ناز کتاب "مسلم دنیا میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش" میں ترکی، مصر اور پاکستان کا خاص طور پر ذکر کیا تھا۔ انہوں نے بڑی باریک بینی سے یہ نکتہ واضح کیا تھا کہ یہ تینوں ممالک مسلم دنیا کے فکری اور سیاسی اعصاب ہیں۔ ترکی جہاں خلافت کا مرکز رہا اور بعد میں مغربیت کی شدید ترین لہر (اتاترک ازم) کا شکار ہوا؛ مصر جو علمی و سیاسی تحریکوں کا گہوارہ رہا؛ اور پاکستان جو اسلام کے نام پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ مولانا کے نزدیک ان ممالک میں جاری اسلامیت اور مغربیت کی یہ کشمکش محض نظریاتی نہیں، بلکہ امہ کے مستقبل کے رخ کا تعین کرنے والی ہے۔ وہ اپنی تحریروں اور خطبات میں ہمیشہ اس بات کے داعی رہے کہ مسلم دنیا کو مغرب کی فکری گداگری اور سیاسی مغلوبیت چھوڑ کر ایک ایسے مضبوط تزویراتی (Strategic) اور ایمانی اتحاد کی طرف بڑھنا چاہیے جو عالمی طاقتوں کے سامنے اپنا وزن رکھ سکے۔

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لیں تو مولانا ندوی کی پیشگوئیاں اور ان کا خواب سچ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طویل عرصے تک مغرب کی فکری غلامی اور بلاک پولیٹکس پر انحصار کرنے کے بعد، اب مسلم دنیا کے بڑے مراکز میں ایک نئی بیداری اور تزویراتی خود مختاری (Strategic Autonomy) کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ اس وقت سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین مکہ معاہدہ  اور سفارتی ہم آہنگی اسی فکرِ ندوی کا عملی مظہر ہے۔ سعودی عرب اپنی روایتی اور تزویراتی قیادت کے ساتھ، ترکی اپنی فوجی و صنعتی قوت اور تاریخی تشخص کے ساتھ، اور پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت، سٹریٹجک لوکیشن اور افرادی قوت کے ساتھ مل کر مسلم امہ کے لیے ایک مضبوط تکون (Triangle) تشکیل دے رہے ہیں۔

یہ اتحاد اس لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ "مسلم دنیا میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش" اب اپنے آخری اور نازک ترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایک طرف خلیجی ممالک اور مصر میں ترقی اور "روشن خیالی" کے نام پر تیز رفتار مغرب زدگی (Westernization) کا چیلنج ہے، تو دوسری طرف مسلم عوام میں اپنے اسلامی تشخص، غزہ و فلسطین کے مسائل پر غیرتِ ایمانی اور خودمختاری کا شدید جذبہ پایا جاتا ہے۔ موجودہ حالات ثابت کر رہے ہیں کہ مصر کا سیاسی جمود ہو یا ترکی اور پاکستان کی معاشی و سیاسی آزمائشیں، ان کا حل مغرب کے آگے گھٹنے ٹیکنے میں نہیں، بلکہ اپنے وسائل اور فکری بنیادوں پر اکٹھے ہونے میں ہے۔

آج جب مشرقِ وسطیٰ ایک نئے جغرافیائی اور سیاسی موڑ پر کھڑا ہے، تو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین یہ اتحاد محض وقت کی ضرورت نہیں، بلکہ فکرِ ندوی کا وہ ادھورا ایجنڈا ہے جسے حاصل کیے بغیر مسلم دنیا عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقامِ قیادت حاصل نہیں کر سکتی۔ وقت آ گیا ہے کہ ان ممالک کے دانشور اور حکمران مولانا علی میاں ندوی کی اس صدا پر کان دھریں کہ مسلمانوں کی بقا مغرب کے سیاسی و فکری الحاق میں نہیں، بلکہ اپنی روح کی بازیافت اور آپس کے مضبوط اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے بھی اس اتحاد کی دعوت دی ہے ۔ 

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نِیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر

تقسیم وراثت کے قانون میں جاوید احمد غامدی صاحب کا نقطہ نظر


یہ ویڈیو علم الفرائض کے ایک پیچیدہ اور تاریخی مسئلے کا علمی جائزہ پیش کرتی ہے جس میں قرآن میں بیان کردہ وراثت کے حصوں کی تعبیر اور ان کی عملی تطبیق میں امت کے عمومی فہم اور ایک مختلف فکری موقف کا تقابلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس گفتگو میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک علمی تجزیہ اجتماعی اجماع سے مختلف نتیجہ اخذ کر سکتا ہے اور تقسیم وراثت کے اصولوں کو قرآن کے عین مطابق سمجھا جا سکتا ہے۔

خلیج فارس کا سلگتا سمندر: تزویراتی توازن کی تلاش یا ناگزیر تباہی؟

عشروں پر محیط ایران امریکہ دشمنی کا کینوس آج ایک بار پھر بارود کی بو اور میزائلوں کی روشنی سے سرخ ہو چکا ہے۔ جون 2026 میں اسلام آباد کے افق پر جس عبوری مفاہمتی یادداشت (MoU) نے امن کی ایک موہم سی امید جگائی تھی، وہ اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تند و تیز بیانات اور تہران کے جارحانہ ردعمل کی نذر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری موجودہ تنازع محض دو ریاستوں کی عسکری آنکھ مچولی نہیں، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی تزویراتی (Strategic) منظرنامے کی ازسرنو تشکیل کا ایک خطرناک مرحلہ ہے۔

موجودہ بحران کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دونوں فریقین "میکسی مم پریشر" (زیادہ سے زیادہ دباؤ) کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ ایک طرف امریکہ نے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی اور فضائی حملوں کے ذریعے ایران کو معاشی اور عسکری طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی روایتی حکمتِ عملی اپنا رکھی ہے۔ دوسری طرف، ایران نے اس بار اپنی دفاعی لائن کو وسیع کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں (بشمول بحرین میں ففتھ فلیٹ اور کویت کے مراکز) کو نشانہ بنا کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر ایران غیر محفوظ ہوگا، تو خطے میں کوئی بھی امریکی اثاثہ محفوظ نہیں رہے گا۔ ایران کا یہ جوابی اقدام اس کی تزویراتی گہرائی (Strategic Depth) اور خطے میں اس کے نیٹ ورک کی طاقت کا مظہر ہے۔

15 جولائی 2016 کے بعد ترکی: ناکام فوجی بغاوت سے صدارتی ریاست تک

15 جولائی 2016 ترکی کی جدید سیاسی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس رات فوج کے ایک دھڑے نے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی، مگر چند ہی گھنٹوں میں یہ بغاوت ناکام بنا دی گئی۔ اگرچہ یہ واقعہ مختصر دورانیے کا تھا، لیکن اس کے اثرات نے ترکی کے سیاسی، آئینی، عسکری، عدالتی اور خارجہ پالیسی کے ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ اس کے بعد ترکی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوا جہاں ریاستی سلامتی، مضبوط صدارتی نظام اور قومی خودمختاری کو حکومتی پالیسی کا بنیادی محور بنا دیا گیا، جبکہ ناقدین کے نزدیک اسی عرصے میں جمہوری اداروں، شہری آزادیوں اور سیاسی توازن کو شدید نقصان پہنچا۔

 ناکام فوجی بغاوت: ایک غیر معمولی واقعہ

ترکی کی تاریخ فوجی مداخلتوں سے خالی نہیں۔ 1960، 1971، 1980 اور بعد کے ادوار میں فوج کئی مرتبہ سیاست میں مداخلت کر چکی تھی، لیکن 15 جولائی 2016 کا واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد تھا۔ پہلی مرتبہ ترک پارلیمنٹ پر فضائی حملہ کیا گیا، استنبول اور انقرہ کی سڑکوں پر ٹینک نمودار ہوئے، جنگی طیاروں نے نچلی پروازیں کیں اور ریاستی اداروں پر قبضے کی کوشش کی گئی۔

صدر رجب طیب اردوغان نے ایک موبائل فون کے ذریعے براہِ راست ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔ مساجد سے بھی عوام کو مزاحمت کے لیے پکارا گیا۔ نتیجتاً ہزاروں شہری فوجی بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور صبح تک بغاوت ناکام ہو گئی۔ اس واقعے میں دو سو سے زائد افراد جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے۔ شاعر: امام احمد رضا خان بریلوی ، آواز : حسیب خان



عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے


وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

جان ہیں وہ جہان کی ، جان ہے تو جہان ہے


عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دھام

کان جدھر لگا ئیے تیری ہی داستان ہے


تجھ سا سیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں

پھر وہ تجھی کو بھول جائیں دل یہ تِرا گمان ہے


اِک تِرے رخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی

اِنس کا اُنس اُسی سے ہے جان کی وہ ہی جان ہے


خوف نہ رکھ رضؔا ذرا تو تو ہے عبدِ مصطفیٰ

تیرے لیے امان ہے تیرے لیے امان ہے 


شاعر : امام احمد رضا خان بریلوی
کتاب : حدائق بخشش

سیمی کنڈکٹر چِپس بنانے والی کمپنی اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ کون ہیں ؟

مصنوعی ذہانت (AI) کے موجودہ عالمی انقلاب کے روحِ رواں اور اینویڈیا (NVIDIA) کے بانی جینسن ہوانگ اس وقت دنیا کے ساتویں امیر ترین شخص بن چکے ہیں، جن کے اثاثوں کی مالیت 191.5 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ حال ہی میں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ خصوصی طیارے 'ایئرفورس ون' پر بیجنگ کے تاریخی دورے کے لیے روانہ ہوئے، جو عالمی سیاست اور ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ان کے غیر معمولی اثر و رسوخ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ کالم ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے برتن دھونے سے لے کر دنیا کی سب سے قیمتی سیمی کنڈکٹر چپس بنانے تک کا سفر اپنی انتھک محنت سے طے کیا۔

تائیوان میں پیدا ہونے والے جینسن ہوانگ بچپن میں فلپائن اور پھر امریکہ ہجرت کر گئے۔ انہوں نے اپنی طالب علمی کے زمانے میں 'ڈینی' (Denny's) نامی ریستوران میں برتن دھونے اور ویٹر کے طور پر کام کیا۔ ہوانگ خود اعتراف کرتے ہیں کہ اس نوکری نے ان کی شرمیلی طبیعت کو بدلا اور انہیں لوگوں سے بات چیت کرنے کا ہنر سکھایا۔

جمالِ مصطفیٰ ﷺ: جب شعراء وجد میں آ گئے

انسانی تاریخ میں حسن و جمال پر بہت کچھ کہا اور لکھا گیا، لیکن کائنات کی وہ ہستی جس کے حسن کی گواہی خود خالقِ کائنات نے دی، ان کا سراپا بیان کرنا کسی بھی شاعر و ادیب کے لیے ایک کٹھن امتحان سے کم نہیں۔ صحابہ کرام اور شعراءِ اسلام نے جب بھی آپ ﷺ کے جمالِ جہاں آرا کی طرف نظر کی، تو الفاظ نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور قافیے وجد میں آ گئے۔

عربی ادب اور سیرتِ طیبہ کے اوراق میں ایک ایسا ہی روح پرور واقعہ ملتا ہے جس کا مرکز سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی محبت اور ایک قدیم عربی شعر ہے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ جب حضور اکرم ﷺ اپنے کسی دستی کام میں مصروف تھے اور آپ ﷺ کی جبینِ انور سے پسینے کے قطرے نور بن کر ڈھلک رہے تھے، تو سیدہ عائشہؓ اس منظر کی تاب نہ لاتے ہوئے پکار اٹھیں:

وإذا نظرت إلى أسرة وجهه ... برقت كبرق العارض المتهلل

یہ شعر اگرچہ ابو کبیر الہذلی کا ہے، لیکن سیدہ عائشہؓ کا اسے آپ ﷺ کے حق میں پڑھنا اس کے معنی کو لافانی کر گیا۔ اس شعر کی لغوی تشریح ہمیں اس جمال کے قریب لے جاتی ہے:

أسِرّة وجهه: "اسِرّہ" سے مراد چہرے کی وہ لطیف لکیریں ہیں جو انسان کے ماتھے یا آنکھوں کے گرد مسکراتے وقت یا خوشی کی حالت میں نمایاں ہوتی ہیں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کا چہرہ محض سادہ نہیں تھا، بلکہ اس کی ایک ایک لکیر سے انوارِ الٰہیہ پھوٹتے تھے۔

العارض المتهلل: عربی میں "عارض" اس بادل کو کہتے ہیں جو افق پر پھیل کر چھا جائے، اور "متهلل" اس بادل کو کہتے ہیں جو بارش برسانے کے لیے اس طرح تیار ہو کہ بجلی مسلسل چمک رہی ہو۔

کیا ہم مرغی کے پنجے کھا سکتے ہیں اور یہ چکن کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں خاص کیوں ہیں؟

بی بی سی تامل
10 مئ 2026

جب ہم مرغی خریدنے جاتے ہیں تو بہت سے لوگ شاید کہتے ہوں گے کہ کلیجی، گردن، جگر نہیں چاہیے اور لیگ پیس یا سینہ ہی چاہیے لیکن دکاندار سے اس مکالمے میں ہم مرغی کے پنجوں کو سرے سے نظر انداز ہی کر دیتے ہیں۔

کیا ہم نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ مرغی کے پنجے کتنے فائدہ مند ہیں؟

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرغی کے پنجے اس کی کھال کی طرح فضول چیز ہیں لیکن سنگا پور میں مرغی کے پنجے چار سنگا پورین ڈالر فی کلو فروخت ہوتے ہیں۔ پاکستانی کرنسی میں یہ 900 روپے فی کلو بنتے ہیں۔

یہ جنوبی افریقہ اور میکسیکو میں مرغی کے گوشت سے بھی مہنگے ہیں۔

دنیا بھر میں چکن کے پنجوں کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ ویتنام، چین اور ازبکستان جیسے ممالک اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں چکن کے پنجے درآمد کرتے ہیں۔ سال 2022 میں امریکہ نے چین کو تقریباً ایک لاکھ 33 ہزار میٹرک ٹن چکن کے پنجے برآمد کیے تھے۔
چکن کے پنجے، جنھیں اکثر فضول سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے، دنیا کے دوسرے حصوں میں اتنے قیمتی کیوں ہیں؟ ان میں کون کون سے غذائی اجزا پائے جاتے ہیں؟

چکن کے پنجوں میں پائے جانے والے غذائی اجزا

اگرچہ کئی ممالک میں چکن کے پنجوں کو فضول سمجھا جاتا ہے لیکن امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق ان میں کئی ضروری غذائی اجزا اور صحت کے لیے فائدہ مند خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

سانحہ ارتحال: وارثِ علومِ نبویؐ، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریسؒ کی شہادت

"موتُ العالمِ موتُ العالم" (ایک عالم کی موت، گویا پورے عالم کی موت ہے)
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت 

علم و عرفان کی بزم آج سوگوار ہے اور قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صدائیں بلند کرنے والا ایک عظیم لہجہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔ ۵ مئی کی صبح، جب سورج اپنی کرنوں سے دنیا کو منور کر رہا تھا، چارسدہ کی زمین ایک ایسے جید عالم اور پیکرِ اخلاص کے خون سے رنگین ہو گئی جس نے اپنی پوری زندگی مسندِ تدریس اور خدمتِ دین کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب (رحمہ اللہ) محض ایک فرد کا نام نہیں تھا، بلکہ وہ دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک جیسے عظیم علمی مراکز کے مابین ایک معتبر کڑی تھے۔ ان کا وجود ان ہزاروں تشنگانِ علم کے لیے بادل کی طرح تھا جو دور دور سے حدیثِ نبویؐ کی پیاس بجھانے ان کے پاس آتے تھے۔ وہ جب مسندِ حدیث پر بیٹھتے تو علم کے موتی لٹاتے، اور جب ایوانِ سیاست میں قدم رکھتے تو حق گوئی و بے باکی کا استعارہ بن جاتے۔

عربی لسانیات اور مدارسِ دینیہ

تحریر: ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب

ہمارے مدارسِ دینیہ صدیوں سے علومِ عربیہ کے امین رہے ہیں۔ نحو، صرف اور بلاغت کی جو تعلیم مدارس کے نصاب میں شامل ہے ، وہ کسی اورعصری درسگاہوںکو نصیب نہیں۔ لیکن آج کے بدلتے ہوئے سائنسی تناظر میں ہمیں ایک سنجیدہ سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے: کیا ہمارا عربی نصاب اور طریقۂ تدریس ان جدید لسانی تحقیقات سے ہم آہنگ ہے جو آج کی دنیا میں ایک باقاعدہ "سائنس" بن چکی ہیں؟

آج دنیا "علم اللسان" (Linguistics) کو ایک تجرباتی سائنس کے طور پر پڑھ رہی ہے۔ عالمِ عرب کے نامور شخصیتوں نے اس میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں مثلاً ڈاکٹر ابراہیم انیس، ڈاکٹر تمام حسان اور ڈاکٹر کمال بشر نے اپنی زندگیاں اس کام کے لیے وقف کر دیں کہ وہ عربی زبان کو قدیم خشک اورجامد قواعد کے ڈھانچے سے نکال کر ایک متحرک اور سائنسی علم کے طور پر پیش کریں۔ جن سے ہمارے اہل علم خاص کر مدارس دینیہ کے علماء کرام کا واقف ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

عربی زبان محض ایک ذریعہِ ابلاغ نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ معجزہ ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالیٰ نے لیا ہے۔ ہمارے مدارس اور جامعات میں صدیوں سے لغت، نحو اور صرف کے اماموں، جیسے خلیل، سیبویہ، ابنِ جنی اور زمخشری کے کام کو مشعلِ راہ مانا جاتا رہا ہے۔ بلا شبہ، ان اسلاف کا کام عربی زبان کی بنیاد ہے۔ لیکن بیسویں صدی میں مصر اور دیگر عرب ممالک میں علمِ زبان (Linguistics) کے افق پر چند ایسے علماء نمودار ہوئے جنہوں نے اس قدیم ورثے کو جدید سائنسی اصولوں کی روشنی میں پرکھا اور دنیا کو بتایا کہ عربی زبان کے اسرار صرف قواعد کی کتابوں تک محدود نہیں ہیں۔

ان میں سب سے پہلا اور بڑا نام ڈاکٹر ابراہیم انیس کا ہے۔ وہ "امامِ لسانیاتِ جدید" کہلاتے ہیں۔ انہوں نے روایتی نحو کی منطقی بحثوں سے ہٹ کر زبان کا 'صوتیاتی' (Phonetic) جائزہ لیا۔ ان کی تصانیف جیسے "الأصوات اللغوية" اور "من أسرار اللغة" ہمارے علماء کے لیے مطالعہ کے نئے گوشے وا کرتی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اعراب صرف معنی بدلنے کے لیے ہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم انیس نے یہ انقلابی نظریہ پیش کیا کہ اعراب کا ایک بڑا مقصد کلام میں صوتی نغمگی اور روانی پیدا کرنا ہے۔

ان کے بعد ڈاکٹر تمام حسان کا نام آتا ہے۔ ان کی کتاب "اللغة العربية: معناها ومبناها" عربی زبان کے طالب علموں کے لیے ایک ایسی بصیرت فراہم کرتی ہے جو روایتی شرحوں میں مفقود ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عربی جملے کی تفہیم صرف 'عامل' پر موقوف نہیں، بلکہ اس کے پیچھے صوتی، معنوی اور نحوی قرائن کا ایک پورا نظام کارفرما ہے۔

اسی طرح ڈاکٹر کمال بشر اور ڈاکٹر عبد الصبور شاہین نے قرآن کریم کی قراتوں کا جو سائنسی اور صوتی مطالعہ پیش کیا، وہ ہمارے قراء اور مفسرین کے لیے علم کا ایک نیا خزانہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لہجوں کا اختلاف محض تلفظ کا فرق نہیں بلکہ اس کے پیچھے لسانی ارتقاء کی ایک طویل تاریخ ہے۔

ہمارے علماء کرام کے لیے یہ بات لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا ہم صرف "کافیہ" اور "شرح جامی" کی منطقی بحثوں تک محدود رہیں گے؟ جبکہ جدید دنیا عربی کے صوتیاتی نظام (Phonetics)، نفسیاتی لسانیات (Psycholinguistics) اور کمپیوٹیشنل لسانیات (Computational Linguistics) پر کام کر رہی ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں جانیں گے کہ زبان ایک سماجی اور نفسیاتی مظہر ہے، ہم جدید ذہن کو قرآن و سنت کی زبان سے متاثر نہیں کر پائیں گے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے دینی اور علمی حلقوں میں ابھی تک ان جدید عرب ماہرینِ لسانیات کے کام کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق تھے۔ ہمارے علماء، جو عربی زبان سے عشق کی حد تک شغف رکھتے ہیں، اگر ان جدید سائنسی نظریات سے واقف ہو جائیں تو وہ نہ صرف عربی زبان کی زیادہ بہتر خدمت کر سکیں گے بلکہ جدید دنیا کے سامنے عربی کے معجزاتی پہلوؤں کو ایک نئے اور علمی انداز میں پیش کرنے کے قابل ہوں گے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب دنیا کمپیوٹر کو عربی سکھا رہی ہے، ہمیں صرف "کافیہ" اور "شرح جامی" کی قدیم شرحوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے نصاب میں قدیم معتبر مصادر کے ساتھ ان جدید تحقیقات کو بھی جگہ دینی ہوگی۔ یہ جدید علوم ہمیں قرآن و سنت کے اعجاز کو سائنسی انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مدد دیں گے۔

مصنوعی ذہانت (AI) اور عربی زبان کی 'ڈیجیٹل' ساخت

تحریر: ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب

آج جب دنیا مصنوعی ذہانت (AI) کے سحر میں ہے اور کمپیوٹر انسانی زبانوں کے پیچیدہ نظام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لسانیات کی دنیا میں ایک نئی اور دلچسپ بحث چھڑ گئی ہے۔ اس بحث کا ایک اہم سنگِ میل سال 2003 میں جامعہ لندن (SOAS) میں منعقدہ وہ عالمی کانفرنس تھی جس میں "یونیورسل لنگویج" کے مستقبل پر غور کیا گیا۔ اس کانفرنس میں مصر سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرِ لسانیات اور محقق ڈاکٹر سعید شربینی نے ایک ایسا علمی نظریہ پیش کیا جس نے ماہرینِ لسانیات کو حیران کر دیا۔

ڈاکٹر سعید شربینی، جو عربی زبان کی سائنسی اور ریاضیاتی ساخت پر گہری نظر رکھنے کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتے ہیں، نے اپنے مقالے میں یہ ثابت کیا کہ عربی محض ایک قدیم یا مذہبی زبان نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے قواعد اور فطری ڈھانچے کے اعتبار سے ایک مکمل "عالمی کوڈ" ہے۔ ان کے نزدیک عربی وہ تمام لسانیاتی خصوصیات رکھتی ہے جو ایک آئیڈیل "یونیورسل لنگویج" کا خاصہ ہونی چاہئیں۔

عربی کی سب سے بڑی طاقت اس کا "اشتقاقی نظام" (Root System) ہے۔ انگریزی یا دیگر مغربی زبانوں کے برعکس، عربی کا ڈھانچہ کسی جدید کمپیوٹر سافٹ ویئر کی طرح کام کرتا ہے۔ اس میں ایک تین حرفی مادہ (Root) ایک "بیس فائل" کی طرح ہوتا ہے، جس سے مخصوص اوزان کے ذریعے سینکڑوں نئے الفاظ تخلیق کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 'ک-ت-ب' کے ایک ہی مادے سے کتاب، مکتبہ، کاتب اور مکتوب جیسے الفاظ ایک منطقی ترتیب سے نکلتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے لیے ایسی زبان کو سمجھنا اور اس کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنا نہایت آسان ہوتا ہے کیونکہ اس میں بے ترتیبی کم اور ریاضیاتی نظم زیادہ ہے۔

کیا عربی زبان واقعی یونیورسل لنگوئج ہے ؟

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدانوں میں جہاں حیران کن پیش رفت ہو رہی ہے، وہیں ایک خاموش بحران بھی جنم لے رہا ہے—زبانوں کا خاتمہ۔ ماہرینِ لسانیات کے مطابق دنیا کی ہزاروں زبانیں بتدریج معدوم ہو رہی ہیں۔ ایسے میں ایک سوال پوری شدت سے ابھرتا ہے: آخر کون سی زبانیں وقت کی اس کڑی آزمائش میں باقی رہیں گی؟

اسی تناظر میں گزشتہ چند دہائیوں میں ایک نیا علمی میدان سامنے آیا جسے Universal Science of Linguistics کہا جاتا ہے۔ اس علم کا باقاعدہ اعلان 2003 میں University of London میں کیا گیا، اور بعد ازاں امریکی جامعات نے بھی اس پر تحقیق شروع کی۔ اس علم کا مقصد دنیا کی تمام زبانوں کا ایک ساتھ مطالعہ کرنا، ان کے نحوی نظام (افعال، اسماء، ضمائر، صفات) کو سمجھنا اور ان کے باہمی “جینیاتی تعلق” کو جانچنا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سی زبان کس ماخذ سے نکلی ہے۔

ماہرِ لسانیات David Crystal کے مطابق انسانیت کی ابتدا ایک “مادری زبان” سے ہوئی تھی، جو کسی نہ کسی صورت میں آج بھی زندہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ زبان کون سی ہے؟ اس کا جواب ابھی تحقیق کے مراحل میں ہے، تاہم بعض ماہرین عربی کو اس کے قریب ترین قرار دیتے ہیں۔
اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں۔ دنیا میں بولی جانے والی ہزاروں زبانوں میں سے سینکڑوں ختم ہو چکی ہیں، اور ہر ہفتے ایک زبان کے مرنے کی خبر سامنے آتی ہے۔ زبان کے مرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے الفاظ مٹ جاتے ہیں، بلکہ یہ کہ وہ عوامی استعمال سے نکل کر صرف کتابوں یا چند ماہرین تک محدود ہو جاتی ہے—جیسے Latin یا حالیہ مثال Nubian language۔

زبانوں کے زوال کی کئی وجوہات ہیں:

مختصر اور تیز رفتار اظہار کی ضرورت، پیچیدہ صرف و نحو سے اجتناب، اور جدید تقاضوں کو پورا نہ کر پانا۔ جب کوئی زبان اپنے زمانوں (ماضی، حال، مستقبل)، ضمائر اور اظہار کی وسعت کھو دیتی ہے تو وہ “معذور” ہو جاتی ہے۔

یہاں عربی زبان ایک منفرد مثال کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ زبان نہ صرف اپنے تمام نحوی نظام کے ساتھ برقرار ہے بلکہ اس میں اظہار کی حیرت انگیز وسعت بھی موجود ہے۔ اندازہ ہے کہ عربی کے الفاظ کی تعداد لاکھوں بلکہ ملینز میں ہے، جب کہ دیگر بڑی زبانیں اس کے مقابلے میں کہیں کم ذخیرہ الفاظ رکھتی ہیں۔

اقبال اور رومی، ڈاکٹر سید عبد اللہ ؒ

اقبال اور رومی
اقبال نے رومی سے کیاکچھ لیا؟ اس کا جواب دینے کے لیے ہمیں صرف اس قدر سمجھنا ہوگا کہ رومی اور اقبال کے درمیان فکری طور پر کن کن باتوں میں مماثلت موجود ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی ماننا ہوگا کہ اس فکری مماثلت کے ساتھ ان دونوں بزرگوں کی نفسی ساخت اور ماحول میں کس حد تک یک رنگی پائی جاتی ہے؟ میرے خیال میں ان دو سوالات کا جواب میرے آج کے موضوع کا ضروری پہلو ہے۔
اقبال نے رومی سے جو خیالات لیے، ان کے تذکرے سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ خاص افکار، رومی کے علاوہ کہیں اور موجود نہیں یا اقبال نے رومی کے سوا کسی اور ماخذسے فیض حاصل ہی نہیں کیا۔ ایسا سمجھنا یقینا غلط ہوگا کیونکہ اقبال و رومی کے بیش تر مشترکہ خیا لات علیحدہ علیحدہ صورت میں بعض دوسرے صوفیوں اور فلسفیوں کے ہاں بھی ملتے ہیں، کچھ فرق ہے تو صرف اس قدر کہ اقبال اور رومی اپنے مجموعی نظامِ فکر کے اعتبار سے ایک دوسرے کے بے حد قریب ہیں اور استفادہ اور کسبِ فیض کے لحاظ سے مجموعی طور پر اقبال نے رومی سے اس درجہ اثر قبول کیا ہے کہ ہم اقبال اور رومی کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتے۔
اقبال کے ماحول کے متعلق صرف اس قدر بتانا کافی ہے کہ جب اقبال نے فکر کی دُنیا میں آنکھ کھولی، اور کائنات اور اس کے مسائل پر نظر ڈالی تو اس وقت مغربی حکمت اور سائنس کا مادہ پر ستانہ نظریۂ علم و عمل کے ہر ہر پہلو پر غالب آچکا تھا۔ طبعی علوم کے انکشافات اور سائنس کی ایجادات کے زیرِ اثر مذہب،اخلاق اور رُوحانیت کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی تھیں۔ کانٹ، سپنسر اور مل کے ـ’’ایں جہانی‘‘ تصورات اور ہیگل کی جدلی منطق نے ما بعدالموت اور اس کے متعلقہ خیالات کے بارے میں شکوک پیدا کرتے ہوئے الحاد، دہریت اور حیوانیت کے لیے ذہن انسانی کے دروازے کھول دیے تھے۔ اس پر ڈارون کے نظریۂ ارتقا، فرائڈ کے نظریۂ جنس اور مارکس کے نظریۂ اِقتصاد نے مذہب اور قدیم تمدّن کا رہا سہاوقار بھی ختم کر دیا، اور چند ے یہ نظر آنے لگا کہ انسانی زندگی کا سارا نظام درہم برہم ہونے کو ہے،اور اس دنیائے کون و فساد میں خود غرضی، جدل اور ہوا و ہوس نے خلوص، ایمان داری اور صلح و آشتی کی جگہ لے لی ہے۔ اس کے علاوہ کل کی ایجاد نے انسان کو گوشت، پوست اور ہڈیوں کا بے روح مجموعہ قرار دے کر بدبخت انسان کو روٹی اور غذا تک سے محروم کرنے کی ٹھان لی ہے۔ زندگی مشکل تو تھی، مرنا بھی مشکل ہو گیا۔ دُنیا جیتے جی جہنم کی آگ میں جلنے لگی۔
ضعفِ ایمان اور بے اطمینانی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اقبال کی حیرت زدہ آنکھوں نے مغربی علُوم پر نظر ڈالی، اور چاہا کہ اطمینان اور سکون کی کوئی ایسی شعاع دکھائی دے جس سے دل کے اندھیرے اور ظلمت کو دور کیا جا سکے مگر فلسفہ و دانش کے ان مغربی ضیا خانوں سے اسے وہ نُور کی کِرن نہ ملی جس کی اُسے تلاش تھی۔ ان حالات میں اقبال نے محسوس کیا کہ مغربی تہذیب سوز یقین سے محروم ہے۔ اہلِ مغرب کی حیات اجتماعی تاجرانہ، عیارا نہ اور بے سوز ہے۔ عالمِ انسانیت نظامِ مغربی کے استیلا اور اس کے ایں جہانی تصور سے جگر چاک ہے۔ اس کے امن کی قبا پارہ پارہ اور اس کے سکون کا خرقہ تار تار ہے۔ اور اسے یقین ہو گیا کہ یورپ کی تہذیب ہی انسانی تہذیب کے صالح اور خوش گوار ارتقا کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کو ایمان اور یقین کی مدد سے راستے سے ہٹانا بنی نوع انسان کا سب سے بڑا فرض ہے۔ اقبال نے اس نصب العین کی طرف بار بار اپنی شاعری اور نثری تصانیف میں اِشارہ کیا ہے۔ اُنھوں نے مقالاتِ مدراس میں بڑی وضاحت کے ساتھ لکھا ہے: کہ اس وقت دُنیا کو سب سے زیادہ جس بات کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ انسانی تہذیب کو پھر سے رُوحانیت سے رُوشناس کرایا جائے۔ اور اس بات کا یقین پیدا کیا جائے کہ ذاتِ خداوندی موجود ہے۔ اور ان ستاروں کے پیچھے کئی ’عوالم‘ اور بھی ہیں جن کا ادراک عقل کی ظاہر بیں آنکھوں سے نہیں بلکہ کشف اور تجلّی کی روشنی سے ہو سکتا ہے۔
اس دشوار اور عظیم الشان کام کی تکمیل کے لیے اقبال نے مولانا جلال الدین رومی کو اپنا رہنما بنایا۔ وہ اقبال کے مُرشد ہی نہیں بلکہ محبوب بھی تھے۔ اقبال کو رومی سے محض نطشے،برگساں وکانٹ کی طرح کی فکری وابستگی ہی نہ تھی بلکہ دونوں کے درمیان روحانی اور عاشقانہ رشتہ نظر آتا ہے۔ اسرارِ خودی سے لے کر ارمغانِ حجاز تک رومی ہی اقبال کے خضرِراہ بنتے ہیں۔ وہی جاوید نامہ کے زندہ رودکو آسمانوں کی طلسماتی فضا میں لے جاتے ہیں اور ملاء ِاعلیٰ کے مکینوں سے ان کا تعارف کراتے ہیں اور جب یہ مرید ہندی مقصدِ زندگی کی تکمیل کر چکنے کے بعد اقوامِ مشرق کو آخری پیغام دیتا ہے تو اس وقت بھی یہی رومی ہاتف بن کر مژدۂ اِنقلاب سناتے ہیں۔ رومی اقبال کی نظر میں کلیم بھی ہیں اور حکیم بھی، مجدد بھی ہیں اور مصلح بھی، شریعت کے علم بردار بھی ہیں اور طریقت کے اسرار کشا بھی۔ غرض سب کچھ جن کی ہدایت سے عصرِحاضر اپنی گم گشتہ روشنی اور تابانی کو دوبارہ حاصل کر سکتا ہے، اقبال کے اپنے الفاظ میں:
علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن
اسی کے فیض سے میری سبو میں ہے جیحوں

گسستہ تار ہے تری خودی کا ساز اب تک
کہ تو ہے نغمۂ رومی سے بے نیاز اب تک
اقبال نے اپنے مرشد رومی سے بڑے بڑے افکار کے بارے میں جو استفادہ کیا، اس کے ذکر سے پہلے یہ سن لینا چاہیے کہ اقبال کے لیے رومی کی داستان حیات بھی بے حد جنوں انگیز اور ولولہ خیز ثابت ہوئی۔ علی الخصوص اس کا وہ باب جس کا تعلق شمس تبریز کے عشق سے ہے۔ مولانا روم کی زندگی کا نمایاں امتیازی وصف ان کا جذبۂ عشق، درد مندی اور سوزو گداز تھا۔ مولانا روم کو شمس تبریز سے مجنونانہ محبت تھی، اور اس حد تک تھی کہ ایک پل ان کے بغیر نہ رَہ سکتے تھے۔
کہتے ہیں کہ جب ایک دفعہ شمس کسی بات پر ناراض ہو کر قونیہ سے تبریز چلے گئے تو مولانا پر کھانا پینا حرام ہو گیا۔ آخر خود تبریز گئے اور منا کر لائے۔ شمس تبریز نے مولانا کی زندگی میں اِنقلاب پیدا کیا۔ وہ پہلے ایک خشک اُصولی اور منطقی تھے لیکن شمس تبریز کی ملاقات نے انھیں روحانی اور باطنی کمالات سے آگاہ کیا۔ بقول علامہ شبلی: ’’شمس کی ملاقات سے پہلے مولانا روم کے شاعرانہ جذبات اسی طرح ان کی طبیعت میں پنہاں تھے، جس طرح پتھر میں آگ ہوتی ہے۔ شمس کی جدائی گویا چقماق تھی اور شرارے ان کی پر جوش غزلیں‘‘۔ رومی نے بہت سی نظمیں شمس تبریز کے فراق میں لکھیں جن میں اِنتہائی درد اور بے قراری پائی جاتی ہے۔ مثلاً وہ نظم جس کے تین اشعار یہ ہیں:
ساربانا! بار بکشا ز اشتراں
شورِ تبریز است و کوے دلبراں

فرِّ فردوس است ایں پالیز را
شعشعۂ عرش است ایں تبریز را

ہر زمانے فوج روح انگیز جاں
از فرازِ عرش بر تبریزیاں
جب شمس تبریز کا انتقال ہوا تو مولانا پر قیامت گزر گئی۔ مریدان با اخلاص اپنے مرشد کے غم میں ہلاک اور خود مولانا صحرائے جنوں میں آوارہ وپریشاں! دراصل محبت بھرے دل کو کسی اور محبوب کی تلاش تھی، اس لیے کہ بے کیمیائے مستی تبدیل غم محال است۔
آخر ایک اور بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ جن کا نام صلاح الدین زرکوب تھا۔ ان کی محبت میں مولانا کو تسلی ملی۔ چنانچہ دیوان میں ان کی شان میں بھی غزلیں موجود ہیں جن میں سے ایک غزل کے تین اشعار یہ ہیں:
مطربا اِسرار ما را باز گو
قصہ ہائے جاں فزا را باز گو

ما دہاں بربستہ ایم از ذکرِ اُو
تو حدیثِ دل کشا را باز گو

چوں صلاح الدیں صلاحِ جانِ ماست
آں صلاحِ جان ہا را باز گو
نو سال کے بعد صلاح الدین زرکوب کا بھی انتقال ہو گیا اور رومی کی جانِ دردمند کو پھر وہی قضیہ پیش آیا۔ یعنی وہی جنون و بے قراری! آخر ان کے دوست اور مرید حسام الدین چلپی ان کے لیے باعث تسلّی بنے ۔ یہی وہ بزرگ ہیں جن کا ذکر مثنوی میں بار بار آتا ہے۔ غرض رومی کی زندگی میں دردمندی اور عشق کی جو فراوانی ہے اس سے کون متاثر نہ ہوگا؟ رومی کی اس مجذوبیت سے اقبال بھی بے حد متاثر ہوئے۔
دوسری چیز جس نے اقبال کو اپنے مرشد کا گرویدہ بنایا وہ عقل پرستی کے خلاف رومی کا جہاد اور جذبۂ عشق و ایمان کی طرف ان کی پر زور دعوت ہے۔ اسلام میں عقل پرستی کا مرض فلسفۂ یونان کے ذریعے پیدا ہوا۔ سقراط اور افلاطون کے ’’ایں جہانی‘‘ خیالات نے حکماے اسلام کو اس قدر متاثر کیا کہ ایک عرصے تک خود قرآن پر فلسفۂ یونان کی روشنی میں نظر ڈالی جاتی رہی۔ اِ س میں شک نہیں کہ فلسفہ کے عام ہو جانے سے فکر اور دماغ کے آزاد انہ عمل کو ترقی ہوئی لیکن اس کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ قرآن نے مشاہدے، تجربے اور زندگی میں ہر ساعت تغیّر اور انقلاب کی اہمیّت پر جتنا زور دیا تھا، وہ کمزور ہو گیا۔ اسلام نے روح اور ایما ن کو ساری زندگی کی بنیا د قرار دیا تھا اور اس ایک اُصول کی حفاظت کے ساتھ ساتھ تسخیر کائنات کا جو سبق سکھایا تھا،وہ سب کچھ سقراط کے علمی اور مجردحقائق کے غوروفکر میں گم ہو کر رَہ گیا۔ ان عقل پرستوں کی تائید معتزلہ نے کی جس سے خود مذہب اور خدا کی حقیقت معرض بحث میں آگئی ۔ عقل پرستی کی اس یورش کا مقابلہ اشعریوں نے کیا۔ لیکن اُنھوں نے عقلِ انسانی کے کمالات سے ہی انکار کرنا شروع کر دیا۔ رومی سے پہلے امام غزالی نے عقل پرستی کا کامیاب مقابلہ کیا۔ اور تصوف کو دین کے نظام میں داخل کرتے ہوئے مذہب کی وجدانی بنیاد کو مستحکم کیا۔ لیکن اُنھیں صوفیوں کی زندگی کے بعض پہلوئوں سے کچھ رغبت نہ تھی۔
رومی نے اس عقل پرستی کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ اور اگرچہ غزالی اور دوسرے متکلمین عقل پرستوں کو کئی میدانوں میں شکست دے چکے تھے۔ لیکن چونکہ علم کلام کی بنیاد بھی بیش تر استدلال اور عقلی قیاس پر تھی، اس لیے متکلمین سے عقل پرستی کا کامیاب دفعیہ نہ ہو سکا۔ رومی عقلِ جزوی کے سرے سے مخالف ہیں، وہ عقل کی متعدد اقسام میں سے صرف عقلِ کل اورعقلِ ایمانی کے قائل ہیں، باقی سارے نظام کے منکر اور اس سے بے زار!۔ ان کے نزدیک عقلِ جزوی کی رسائی اصل حقیقت تک نہیں ہو سکتی کیونکہ عقلِ جزوی سراپاوہم ،ظن اور شک میں ڈوبا ہوا ہے۔ عقلِ جزوی انتشار،بدگمانی، خود غرضی اور نفسانیت کا مورث ہے۔ مگرجذبۂ ایمان، جمعیت، اطمینان اور محبت کا خالق۔ رومی استدلالی اور عقلی کیفیتوں پر وجدان اور جذبے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک عرفان اور ایمان کا مرکز دل ہے نہ کہ دماغ۔ ان کے خیال میں زیر کی ابلیس کا خاصہ ہے اور عشق آدم کا زیور۔ ان کے نزدیک اہلِ تن کے علوم بے حقیقت مگر اہلِ دل کا علم یار مونس ہے۔ مجذوبیت کے بعد رومی کے فکر کا یہی پہلو اقبال کے لیے سب سے زیادہ جاذب توجہ ثابت ہوا۔ اور سب سے زیادہ انھی افکار کے بارے میں اقبال نے رومی کی خوشہ چینی کی ہے۔
تیسری چیز جسے ہم فکر رومی میں بہت نمایاں پاتے ہیں وہ رومی کا نظریۂ فقر ہے۔ اسلام میں تصوف کے عناصر ابتدا ہی سے موجود چلے آتے ہیں۔ اور گو کہ ابتدائی زمانہ کے صوفی بہت ہی برگزیدہ لوگ تھے۔ اور ان کی تعلیم کسی طرح مذہب اور عملی زندگی کے متخالف نہ تھی مگر رفتہ رفتہ نوافلاطونی خیالات اور بعض دوسرے نظام ہائے فکر کی آمیزش سے، تصوف میں دُنیا سے بیزاری کا عنصر، بطور ایک سیاسی عقیدے کے شامل ہو گیا۔ جس سے توکّل، تقدیر، فنا اور ترکِ دُنیا کی طرح کے مسائل کی غلط تعبیر پیدا ہوئی۔ یہ فلسفۂ زندگی جس قدر جذبۂ حیات کا قاتل ہے، اسی قدر اسلام کی عملی تعلیم کے منافی بھی ہے۔مولانا جلال الدین رومی نے خود صوفی ہونے کے باوجود اس طرزِ زندگی بلکہ اس نظریۂ زندگی کے خلاف پُر زور آواز بلند کی۔ اور توکّل، جبر، کسب اور دین و دُنیا کے باہمی تعلق پر پیہم اور مسلسل، نہایت مؤثر اور دل نشین پیرائے میں اپنے خیالات کا اِظہار کیا۔
اگرچہ مثنوی رومی کا مطالعہ صدیوں سے جاری تھا اور اب تک ہے مگر رومی کے خیالات کی روح رومی کی وفات کے بعد غائب ہو گئی۔یہ شرف اور خوش بختی اقبال کے نصیب میں تھی کہ اس کی بدولت رومی کے فکر کو دوبارہ زندگی نصیب ہوئی۔ اور پھر سے اس راہبانہ تصور کے خلاف ردّعمل ہوا جس کا سب سے بڑا عقیدہ یہ ہے کہ زندگی ترکِ زندگی کا نام ہے۔
اقبال نے رومی فقر غیور کو اپنی جدیداجتماعی زندگی کی ضرورتوں کے لیے بہترین کیمیاے سعادت پایا۔ چنانچہ سلطانی اور خدمت گری، سروری اور چاکری دونوں حالتوں میں ان کے نزدیک یہ فقر تو ازن اور اعتدال کا ترازوئے مستقیم بن سکتا ہے۔
اِن عناصر سہ گانہ کے بعد میں مختصر اً رومی اور اقبال کےIdealism بنی نوع آدم کے ممکن عروج اور ’مردِ کامل‘ کے متعلق دونوں کے مشترکہ خیالات کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔ اقبال آدم خاکی کے ارتقائی عروج کے قائل ہیں۔ رومی بھی انسان کو ارتقائی مخلوق قرار دیتے ہیں۔ اقبال اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ آخر کار انسان ماہِ کامل بن کر رہے گا۔ اور خاکیوں کا فروغ نوریوں سے زیادہ ہو جائے گا۔ نہیں نہیں اس سے بھی آگے گزر کر خدائی فضا کے حریمِ قدس میں داخل ہو جائے گا بلکہ اپنی اصل سے جا ملے گا۔رومی کے نزدیک روح کو بقاے دائمی حاصل ہے۔ پیکرِخاکی کی شکست انسانی تکمیل کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی یہی اقبال کے خیالات ہیں۔ رومی موت کو زندگی کا دروازہ خیال کرتے ہیں، اقبال بھی موت کو نئی زندگی کی صبح قرار دیتے ہیں۔ رومی انسان کے شخصی بقا کو ممکن خیال کرتے ہیں، اقبال بھی یہی استدلال کرتے ہیں۔
غرض یہ اور اس قسم کے بیسیوں مسائل ہیں جو اقبال اور رومی میں مشترک ہیں۔ جن کی پختگی کے لیے ممکن ہے کہ اقبال کے سامنے بعض دوسرے مآخذ بھی ہوں لیکن مجموعی نظام فکر کے اعتبار سے اقبال نے رومی ہی کے سر چشمۂ فیض سے استفادہ کیا ہے۔
اقبال اور رومی کی مماثلتوں کے اس تذکرے کے بعد کچھ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کے بعض اختلافی پہلوئوں کا تذکرہ بھی کیا جائے۔ میرے خیال میں اقبال اور رومی کے درمیان سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ اقبال کا نقطۂ نظر اپنے دعوے اور تعلیم کے برعکس ، محض علمی اور نظری ہے یعنی رومی کے نزدیک جو بات حق الیقین کا درجہ رکھتی ہے۔ اقبال کے نزدیک وہ زیادہ سے زیادہ علم الیقین کی سطح تک آسکتی ہے۔ رومی اور اقبال کی عملی زندگیوں میں جو فرق نظر آتا ہے، وہی فرق ان دونوں کے نقطۂ نظر میں بھی ہے۔ اقبال کو جو شکایت رازی اور غزالی سے ہے وہی شکایت ہم کمتر درجے پر اقبال سے کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اقبال سارے دعوے کے باوجود استیلا، جوش، قوت اور تخلیق کا شاعر ہے۔ اقبال کے نزدیک تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب بڑی چیز ہے،مگر اس قدر نہیں جس قدر جنگ و پیکار اور خودی کی نمود۔
یہی وجہ ہے کہ ہم اس کے ابلیس کو بعض اوقات یزداں سے کاندھا ملاتے اور چشمک زنی کرتے دیکھتے ہیں۔ اقبال کا جذباتی اور فکری پہلو مضبوط ہے مگر رومی جذباتی اور جمالیاتی کیفیتوں کے مالک ِکل ہیں۔ اقبال کی خودی کا تصور انفرادی اور اجتماعی ہے،مگر رومی کے نزدیک خودی کا مفہوم تصوف کے عام معانی کے قریب قریب ہے۔ میں نے اس موقع پر رومی اور اقبال کے جو اختلافات نمایاں کیے ہیں، ان سے مقصود صرف اسی قدر ہے کہ اقبال فکرِ رومی کے سمندر کا شناور ہونے کے باوجود اپنے ماحول کے مرعوب کن تصورات سے یکسر بے نیا ز نہیں ہو سکے۔ کیونکہ زندگی اپنے حوالی اور گرد و پیش سے کلیتہً منقطع نہیں ہو سکتی۔ یہ حضرت اقبال کے رُوحانی کمالات کا کرشمہ تھا کہ اُنھوں نے شک اور ضعف ِاِیمان کی اس خوفناک فضا سے نکل کر آج سے سات سو سال پہلے کی ہوائوں میں سانس لینے کی کوشش کی اور انسانیت کی تکمیل کے لیے ماضی کو حال کے ساتھ پیوند دے کر مستقبل کی دیواریں کھڑی کردیں۔
میں خیال کرتا ہوں کہ رومی کی ایمانی حکمت کے سمندر میں ابھی بے شمار موتی موجود ہیں جن کے حصول کے لیے غواصی کا طریقہ رومی کے مرید مگر ہمارے مرشد اقبال نے ہمیں سکھا دیا ہے۔
مآخذ
۱-         اقبال کے منظوم کلام کے علاوہSix Lectures
۲-        Dr. Abdulhakim, Metaphysics of Roomi
۳-        مضمون :اقبال ،رومی-اور نطشے
۴-        عبدالمالک آروی:اقبال کی شاعری
۵-        میر ولی اللہ کا منتخب مثنوی[کذا]
۶-        قاضی تلمذ حسینمراۃ المثنوی
۷-        شبلی: سوانح مولانا روم
۸-        حکمت ِاقبال مرتبہ: غلام دستگیر رشید۔ نفیس اکیڈیمی، حیدر آباد دکن، ۱۹۴۵ء


علامہ اقبال کی آخری رات - از ڈاکٹر جاوید اقبال

20 اپریل 1938ء کی صبح کو ان کی طبیعت کچھ سنبھل گئی تھی۔ انھوں نے معمول کے مطابق دلیے کے ساتھ چائے کی پیالی پی۔ میاں محمد شفیع سے اخبار پڑھوا کر سنے اور رشید حجّام سے شیو بنوائی۔ دوپہر کو ڈاک میں جنوبی افریقہ کے کسی اخبار میں ترشے وصول ہوئے، خبر یہ تھی کہ وہاں کے مسلمانوں نے نمازِ جمعہ کے بعد اقبال، مصطفٰی کمال اور محمد علی جناح کی صحت اور عمر درازی کے لیے دعا کی ہے۔ کوئی ساڑھے چار بجے بیرن فان والتھائم انھیں ملنے کے لیےآگئے۔ بیرن فان والتھائم نے جرمنی میں اقبال کی طالب علمی کے زمانے میں ان کے ساتھ کچھ وقت گزارا تھا اور اب وہ جرمنی کے نازی لیڈر ہٹلر کے نمائندے کی حیثیت سے ہندوستان اور افغانستان کا سفر کر کے شاید ان ممالک کے حالات کا جائزہ لے رہے تھے۔ ہندوستان کا دورہ مکمل کر چکنے کے بعد وہ کابل جا رہے تھے۔ اقبال اور بیرن فان والتھائم دونوں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ہائیڈل برگ یا میونخ میں اپنی لینڈ لیڈی، احباب اور اساتذہ کی باتیں کرتے رہے۔ پھر اقبال نے انھیں سفر افغانستان کے متعلق معلومات فراہم کیں۔ جب بیرن فان والتھائم جانے لگے تو اقبال نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ مصافحہ کر کے انھیں رخصت کیا۔ 

شام کی فضا میں موسم بہار کے سبب پھولوں کی مہک تھی اس لیے پلنگ خواب گاہ سے اٹھوا کر دالان میں بچھوایا اور گھنٹہ بھر کے لیے وہیں لیٹے رہے پھر جب خنکی بڑھ گئی تو پلنگ گول کمرے میں لانے کا حکم دیا۔ گول کمرے میں ساڑھے سات سالہ منیرہ آپا جان کے ساتھ ان کے پاس گئی۔ منیرہ ان کے بستر میں گھس کر ان سے لپٹ گئی اور ہنسی مذاق کی باتیں کرنے لگی۔ منیرہ عموماً دن میں دو تین بار اقبال کے کمرے میں جاتی تھی۔ صبح اسکول جانے سے پہلے، دوپہر کو اسکول سے واپس آنے پر اور شام کو سونے سے قبل۔ لیکن اس شام وہ ان کے پہلو سے نہ اٹھتی تھی۔ دو تین بار آپا جان سے انگیریزی میں کہا، اسے اس کی حس آگاہ کر رہی ہے کہ شاید باپ سے یہ آخری ملاقات ہے۔ منیرہ اور آپاجان کے اندر چلے جانے کے بعد فاطمہ بیگم، پرنسپل اسلامیہ کالج برائے خواتین گھنٹے آدھ گھنٹے کے لیے آ بیٹھیں اوران سے کالج میں درسِ قرآن کے انتظامات کے متعلق باتیں کرتی رہیں۔

رات کو آٹھ ساڑھے آٹھ بجے چوہدری محمد حسین، سید نذیر نیازی، سید سلامت اللہ شاہ، حکیم محمد حسن قرشی اور راجہ حسن اختر آگئے۔ ان ایام میں میاں محمد شفیع اور ڈاکٹر عبد القیوم تو جاوید منزل میں ہی مقیم تھے۔ اقبال کے بلغم میں ابھی تک خون آرہا تھا اور اسی بناء پر چوہدری محمد حسین نے ڈاکٹروں کے ایک بورڈ کی میٹنگ کا انتظام جاوید منزل میں کیا تھا۔ اس زمانے کے معروف ڈاکٹر کرنل امیر چند، الہٰی بخش، محمد یوسف، یار محمد، جمعیت سنگھ وغیرہ سبھی موجود تھے اور انھوں نے مل کر اقبال کا معائنہ کیا۔ گھر میں ہر کوئی ہراساں دکھائی دیتا تھا، کیوں کہ ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ اگر رات خیریت سے گزر گئی تو اگلے روز نیا طریق علاج شروع کیا جائے گا۔ کوٹھی کے صحن میں مختلف جگہوں پر اقبال کے اصحاب دو دو تین تین کی ٹولیوں میں کھڑے باہم سرگوشیاں کر رہے تھے۔ اقبال سے ڈاکٹروں کی رائے مخفی رکھی گئی، لیکن وہ بڑے تیز فہم تھے۔ احباب کا بکھرا ہوا شیرازہ دیکھ کر انھیں یقین ہو گیا تھا کہ ان کی موت کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔ چند یوم پیشتر جب کسی نے ان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا تو فرمایا: میں موت سے نہیں ڈرتا۔ بعد ازاں اپنا یہ شعر پڑھا تھا:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کی "ڈیل" اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل


ڈونلڈ ٹرمپ کی 1987 کی مشہور زمانہ کتاب "دی آرٹ آف دی ڈیل" محض ایک کاروباری سوانح عمری نہیں بلکہ یہ ان کی اس مخصوص نفسیات کا آئینہ ہے جو ریاست کو ایک منافع بخش کارپوریشن اور سفارت کاری کو محض ایک تجارتی لین دین کے طور پر دیکھتی ہے۔ ٹرمپ صاحب کا فلسفہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریئل اسٹیٹ کی دنیا میں جو ہتھکنڈے کسی بلڈنگ کی خریداری میں کامیاب ثابت ہو سکتے ہیں، عالمی سیاست اور بالخصوص ایران جیسے پیچیدہ معاملے میں وہی طریقے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ سیاست کو کاروبار کی عینک سے دیکھنا اس لیے خطرناک ہے کیونکہ ایک تاجر کا حتمی مقصد صرف اور صرف اپنا فائدہ یا "جیت" ہوتا ہے، جبکہ ایک مدبر سیاست دان کا مقصد عالمی استحکام، انسانی جانوں کا تحفظ اور طویل مدتی امن ہوتا ہے۔

ٹرمپ صاحب کا ایران کے ساتھ مذاکرات کا انداز ان کی کتاب کے اسی فلسفے پر مبنی ہے جہاں وہ حریف کو معاشی دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے دیوار سے لگا کر اسے اپنی شرائط پر سودا کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں بحری ناکہ بندیوں کی باتیں اور تزویراتی دباؤ اسی "میکسیمم پریشر" پالیسی کا تسلسل ہیں، لیکن بین الاقوامی تعلقات میں یہ بھول جانا کہ قومیں اپنی خود مختاری اور غیرت پر سودا نہیں کرتیں، ایک بڑی سفارتی غلطی ہے۔ کاروبار میں اگر کوئی ڈیل ناکام ہو جائے تو صرف بینک بیلنس کم ہوتا ہے، لیکن عالمی سیاست میں ایک غلط قدم یا غلط فہمی پورے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے، جس کی قیمت معصوم انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔

مائیتھوس: مصنوعی ذہانت کا نیا جن جو بوتل سے باہر آ چکا ہے!


تکنیکی دنیا میں جب بھی کوئی نئی ایجاد سامنے آتی ہے، وہ اپنے ساتھ سہولت اور خوف کے دو متضاد پہلو لے کر آتی ہے، لیکن امریکی کمپنی 'اینتھروپک' کی جانب سے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل 'مائیتھوس' نے اس بحث کو ایک نئی اور خطرناک نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں مائیتھوس کو محض ایک سافٹ ویئر نہیں بلکہ ایک "ڈیجیٹل ایٹم بم" کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ مصنوعی ذہانت کی وہ نسل ہے جو خود سیکھنے اور عمل کرنے کی ایسی صلاحیت رکھتی ہے جو اس سے پہلے ناممکن سمجھی جاتی تھی۔ اسے دنیا کے پیچیدہ ترین ڈیٹا، کوڈنگ اور دفاعی نظاموں کو سمجھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، لیکن اصل تشویش مائیتھوس کے ان کاموں سے ہے جو وہ انسانی مداخلت کے بغیر کر گزرتا ہے۔

دفاعی اور تکنیکی ماہرین مائیتھوس کو ایک سنگین خطرہ اس لیے قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ پلک جھپکتے ہی سافٹ ویئر کی وہ خامیاں ڈھونڈ نکالتا ہے جن کا علم خود اس کے خالقوں کو بھی نہیں ہوتا، اور یہی صلاحیت اسے دنیا کے کسی بھی ملک کے پاور گرڈ، بینکنگ سسٹم یا دفاعی نیٹ ورک کو مفلوج کرنے کی طاقت دیتی ہے۔ اس کی ایک حیرت انگیز صلاحیت سمندروں میں ان "خفیہ جہازوں" کو ٹریس کرنا ہے جو اپنا لوکیشن سسٹم بند کر کے غیر قانونی نقل و حمل کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ اسمگلنگ روکنے کے لیے مثبت ہے، لیکن جنگی حالات میں یہ کسی بھی ملک کی بحری برتری کو سیکنڈوں میں ختم کر سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے جغرافیائی سیاست میں آبنائے ہرمز سے بھی بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔

جب انسان سب کچھ جان لے گا… !


انسان ہمیشہ سے تلاش میں رہا ہے، مگر اس کی تلاش کی نوعیت بدلتی رہی ہے۔ کبھی وہ ستاروں کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا، کبھی سمندر کی گہرائیوں میں جھانکتا تھا، اور کبھی اپنے وجود کے بھید کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ مگر اب وہ ایک ایسے دور کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں اس کی تلاش ایک عجیب موڑ لے چکی ہے۔ اس نے اپنی عقل کو وسعت دی ہے، اپنی نگاہ کو دور تک پہنچایا ہے، اور Artificial Intelligence کے ذریعے گویا اپنی فکر کو مشینوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب علم اس کے لیے محض ایک کوشش نہیں رہا، بلکہ ایک لمحے میں حاصل ہونے والی شے بن چکا ہے۔

وہ زمانہ دور نہیں جب انسان Brain-Computer Interface کے ذریعے اپنے ذہن اور مشین کے درمیان فاصلہ ختم کر دے گا، جب Virtual Reality اس کے لیے ایک نئی “حقیقت” تخلیق کرے گی، اور Genetic Engineering اسے اپنی ہی تخلیق میں تبدیلی کا اختیار دے گی۔ بظاہر یہ سب انسان کی فتح کی داستان معلوم ہوتی ہے—ایک ایسی کامیابی جس میں اس نے فطرت کے رازوں کو کھول دیا ہے اور اپنے گرد ایک نئی دنیا تعمیر کر لی ہے۔ مگر اس چمکتی ہوئی سطح کے نیچے ایک خاموش خلا پیدا ہو رہا ہے، ایک ایسا خلا جسے نہ کوئی الگورتھم بھر سکتا ہے اور نہ کوئی ڈیٹا۔

اسلام آباد مذاکرات: قرآن مجید کا زریں اصول "وَالصُّلْحُ خَيْرٌ" اور پاکستان کا کردار

 

تحریر: ڈاکٹر ابو البشر احمد طیب

اس وقت پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں، جہاں دو بڑے حریف، امریکہ اور ایران، ایک میز پر بیٹھے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سیاسی اور سفارتی بیٹھک ہے، لیکن اگر ہم اسے اسلامی تعلیمات اور قرآنِ حکیم کے آئینے میں دیکھیں تو یہ پاکستان کی جانب سے ایک عظیم دینی فریضے کی ادائیگی ہے۔
قرآن مجید کا زریں اصول ہے: "وَالصُّلْحُ خَيْرٌ" (اور صلح بہترین چیز ہے)۔ سورۃ النساء کی یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جنگ اور تصادم کے مقابلے میں تصفیہ اور مفاہمت ہمیشہ برتر راستہ ہے۔ پاکستان نے اسی قرآنی فلسفے کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد بناتے ہوئے دو متحارب گروہوں کے درمیان "خیر" کی راہ نکالی ہے۔
اسلامی ریاست کی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآنِ کریم سورۃ الحجرات میں واضح حکم دیتا ہے:
"اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو... پھر اگر وہ رجوع کریں تو عدل کے ساتھ ان کے درمیان اصلاح کر دو۔"
اگرچہ اس تنازع میں ایک فریق غیر مسلم ہے، مگر اسلام کا "اصولِ امن" آفاقی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے "میثاقِ مدینہ" اور "صلحِ حدیبیہ" کے ذریعے دنیا کو دکھایا کہ امن کے قیام کے لیے دشمن سے بات چیت کرنا اور بظاہر مشکل شرائط پر بھی صلح کرنا کتنا بڑا اہم ہے۔ پاکستان آج اسی سنتِ نبوی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک "پل" کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض سیاسی نمبر گیم نہیں ہیں، بلکہ:
  1. امت کی بقا: ایران ایک برادر اسلامی ملک ہے، اس کی سلامتی خطے کے استحکام سے جڑی ہے۔
  2. انسانیت کی خدمت: جنگ کی صورت میں کروڑوں معصوم انسان لقمہ اجل بن سکتے ہیں، اور قرآن کہتا ہے کہ "جس نے ایک انسان کی جان بچائی، اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔"
  3. ثالث کا عدل: اسلام مطالبہ کرتا ہے کہ ثالث (Mediator) غیر جانبدار اور عادل ہو۔ پاکستان اس وقت دونوں فریقین کا اعتماد جیت کر اسی "عدل" کے منصب پر فائز ہے۔
عالمی دانشور اسے ایک سیاسی کامیابی کہہ رہے ہیں، لیکن ایک مسلمان کی نظر میں یہ "اصلاح بین الناس" کی وہ کوشش ہے جس کا اجر اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے۔ اگر پاکستان ان مذاکرات کے ذریعے خطے کو جنگ کی آگ سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف سفارتی فتح ہوگی بلکہ قرآن کے حکم "والصلح خیر" کی عملی تفسیر بھی ثابت ہوگی۔
آج اسلام آباد سے اٹھنے والی امن کی یہ آواز دراصل اس قرآنی پیغام کی گونج ہے کہ انسانیت کی بقا جنگ میں نہیں، بلکہ مکالمے اور صلح میں ہے۔

تعلیمِ دین کا نیا افق — قرآن، سیرت اور عربی پر مبنی بارہ سالہ جامع نصاب کی ضرورت

مسلم معاشروں کا ایک بنیادی المیہ یہ ہے کہ دینِ اسلام، جو اپنی اصل میں ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، تعلیمی میدان میں ایک مربوط اور جامع نظام کی صورت میں موجود نہیں۔ ہم نے دین کو یا تو چند رسومات تک محدود کر دیا ہے یا اسے جزوی علوم میں تقسیم کر کے اس کی وحدت کو کھو دیا ہے۔ نتیجتاً نئی نسل قرآن سے بھی پوری طرح وابستہ نہیں، سیرتِ نبوی ﷺ سے بھی گہرا تعلق نہیں رکھتی، اور عربی زبان—جو دین کی اصل کلید ہے—سے بھی ناواقف ہے۔

یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے ایک بارہ سالہ جامع نصاب کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے—ایسا نصاب جو کلاس 1 سے کلاس 12 تک طلبہ کو تدریج، تسلسل اور فکری ارتقاء کے ساتھ دین کے اصل مصادر یعنی قرآن اور سنت و حدیث سے جوڑ دے، اور ساتھ ہی انہیں عربی زبان میں اس درجہ مہارت دے کہ وہ دین کو براہِ راست سمجھ سکیں۔

دین کا اصل ماخذ: نصاب کی بنیاد

یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ دین اسلام کے دو ہی بنیادی مصادر ہیں:

  1. قرآن مجید — اللہ کی آخری وحی
  2. سنتِ رسول ﷺ — قرآن کی عملی تفسیر

لیکن ہمارے موجودہ تعلیمی ڈھانچے میں ان دونوں کو الگ الگ، جزوی اور غیر مربوط انداز میں پڑھایا جاتا ہے۔ کہیں صرف ناظرہ قرآن ہے، کہیں ترجمہ، کہیں چند احادیث، اور کہیں سیرت کے واقعات—مگر ایک مربوط فکری نظام مفقود ہے۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ نصاب کی بنیاد ہی ان دو مصادر پر رکھی جائے، اور ہر مضمون، ہر سبق اور ہر مرحلہ انہی کے گرد گھومے۔

بارہ سالہ نصاب: ایک تدریجی فکری سفر

یہ نصاب محض معلومات کی فراہمی نہیں ہوگا بلکہ ایک فکری و روحانی تربیت کا مکمل نظام ہوگا، جسے تین بڑے مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: