شوپن ہاور اور فلسفہ قنوطیت

آرتھر شوپن ہاؤر (Arthur Schopenhauer) (1788–1860) انیسویں صدی کے ایک ممتاز مگر قنوطی (Pessimistic) جرمن فلسفی تھے، جن کے افکار پر یورپ کے سیاسی اور سماجی انتشار کے گہرے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ انقلابِ فرانس اور نپولین کی جنگوں نے پورے یورپ کو بے یقینی، قتل و غارت اور مایوسی کی فضا میں دھکیل دیا تھا۔ نوجوان نسل کے خواب بکھر چکے تھے؛ کہیں فنکار اور ادیب ناامیدی کا شکار تھے، کہیں مفکرین فطرت، ماضی یا تخیلات میں پناہ تلاش کر رہے تھے۔ اسی ماحول نے شوپن ہاؤر کے اس فلسفے کو جنم دیا جس میں زندگی ایک ایسی جدوجہد نظر آتی ہے جو دکھ، بے معنویت اور مسلسل خواہشات سے عبارت ہے۔
شوپن ہاؤر

شوپن ہاؤر نے اپنے بنیادی نظریات شہرۂ آفاق کتاب “The World as Will and Idea” (جسے عموماً “The World as Will and Representation” بھی کہا جاتا ہے) میں پیش کیے۔ ان کے نزدیک کائنات کی اصل حقیقت “ارادہ” ہے—ایک اندھی قوت جو انسان کو مسلسل خواہشات میں مبتلا رکھتی ہے اور یوں مکمل سکون کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ اسی سبب وہ زندگی کو بنیادی طور پر تکلیف دہ اور غیر مطمئن سمجھتے تھے۔

ان کی ولادت 22 فروری 1788ء کو جرمن شہر ڈانزگ میں ہوئی۔ ان کے والد ایک مالدار تاجر تھے، جو تیز مزاج مگر آزادی پسند انسان کے طور پر معروف تھے۔ جب ڈانزگ پر غیر ملکی تسلط قائم ہوا تو اس خوددار خاندان نے شہر چھوڑ دیا۔ کچھ عرصے بعد ان کے والد کا انتقال ہوگیا، جس نے شوپن ہاؤر کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس مزید گہرا کر دیا۔ ان کی والدہ ایک معروف ناول نگار تھیں، مگر ماں بیٹے کے تعلقات خوشگوار نہ رہے اور بالآخر دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ روایت ہے کہ جدائی کے وقت شوپن ہاؤر نے کہا کہ “آنے والا زمانہ تمہیں میری وجہ سے پہچانے گا”، اور جرمن شاعر و مفکر گوئٹے نے بھی اس بات کی تائید کی۔

شوپن ہاؤر کی ذاتی زندگی میں تنہائی ایک مستقل سایے کی طرح موجود رہی۔ نہ ان کے سر پر باپ کا سایہ رہا، نہ ماں سے قلبی تعلق قائم ہو سکا، اور نہ ہی انہوں نے شادی کی یا اولاد ہوئی۔ یہی شدید تنہائی اور باطنی کرب ان کے فلسفے میں جھلکتا ہے، جہاں انسان ایک ایسے مسافر کے طور پر دکھائی دیتا ہے جو خواہشات کے صحرا میں بھٹکتا رہتا ہے۔

عظیم سرمایہ کاروں کا فلسفہ: دولت کی تخلیق اور مارکیٹ کی نفسیات

 


دنیا کے عظیم ترین سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں اور ان کے مالیاتی فلسفے پر مبنی ایک جامع مضمون درج ذیل ہے:

اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں جن سرمایہ کاروں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی، ان کے پیچھے محض اتفاق یا خوش قسمتی نہیں، بلکہ ایک گہرا مالیاتی فلسفہ اور نظم و ضبط کارفرما تھا۔ اگر ہم دنیا کے دس مشہور سرمایہ کاروں، جیسے وارن بفٹ، بینجمن گراہم، پیٹر لنچ اور جان بوگل کی حکمت عملیوں کا مجموعی جائزہ لیں، تو چند بنیادی اصول ابھر کر سامنے آتے ہیں جو کسی بھی دور میں سرمایہ کاری کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
1. قدر کی تلاش (Value Investing) اور تحفظ کا مارجن
اسٹاک مارکیٹ کے فلسفے کی سب سے مضبوط بنیاد "ویلیو انویسٹنگ" ہے، جس کے بانی بینجمن گراہم تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اسٹاک محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک زندہ کاروبار کا حصہ ہے۔ ان کا مشہور فلسفہ "Margin of Safety" یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی حصص کو اس کی اصل قیمت (Intrinsic Value) سے بہت کم قیمت پر خریدنا چاہیے تاکہ نقصان کا خطرہ کم سے کم ہو۔ وارن بفٹ نے اسی نظریے کو اپنایا اور یہ ثابت کیا کہ "قیمت وہ ہے جو آپ ادا کرتے ہیں، اور قدر وہ ہے جو آپ حاصل کرتے ہیں۔"

آبنائے ہرمز: طاقت کا مظاہرہ یا عالمی توازن کا امتحان


آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور بین الاقوامی کشیدگی کے مرکز میں آ کھڑی ہوئی ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حساس سمندری گزرگاہ میں جنگی مشقیں کی جائیں گی۔ اسی تناظر میں عالمی خبر رساں اداروں نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ایران نے شپنگ کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کر کے آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیاں متوقع ہیں۔ اگرچہ بعض غیر مصدقہ ذرائع روس اور چین کی ممکنہ شمولیت کا ذکر کر رہے ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس خاموشی نے خود اس اعلان کو مزید معنی خیز بنا دیا ہے۔

یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک بار پھر شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ جوہری معاہدے کے تعطل، امریکی پابندیوں، خطے میں امریکی بحری موجودگی اور اسرائیل-غزہ جنگ کے اثرات نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نازک مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے خلیج اور اس کے اطراف میں بحری بیڑوں کی موجودگی ایران کے لیے محض ایک عسکری چیلنج نہیں بلکہ ایک مسلسل سیاسی دباؤ بھی ہے۔ ایسے ماحول میں آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا اعلان دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے تیار ہے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو آمادہ نہیں۔

نئے عالمی اتحاد اور امریکی پسپائی


بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے فیصلے محض وقتی ردِعمل نہیں ہوتے، بلکہ وہ ماضی کے تجربات اور مستقبل کے خدشات کے امتزاج سے جنم لیتے ہیں۔ آج عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ، جو کبھی واحد سپر پاور کے طور پر دنیا کی سمت متعین کرتا تھا، اب اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ دوسری جانب چین، روس، یورپی یونین، ہندوستان اور متعدد علاقائی قوتیں ایک نئے کثیر قطبی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔

یہ کہنا سادہ لوحی ہوگا کہ امریکہ عالمی سیاست سے مکمل طور پر دستبردار ہو رہا ہے۔ درحقیقت ماہرین کے مطابق یہ ایک اسٹریٹجک ری ایڈجسٹمنٹ ہے، نہ کہ مکمل انخلا۔

معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ امریکہ کو چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے صنعتی اور تکنیکی اثر و رسوخ کا سامنا ہے۔ اس چیلنج کے پیشِ نظر امریکی پالیسی ساز اب بیرونی مداخلت کے بجائے انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مینوفیکچرنگ کی بحالی کو قومی سلامتی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

عالمی نظام کی نئی کروٹ: کیا امریکی بالادستی کا دور ختم ہو چکا ہے؟

اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں کے اختتام اور تیسرے عشرے کے نصف میں داخل ہونے کے ساتھ ہی، بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اور دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ نے "واحد سپر پاور" کے طور پر جو حیثیت حاصل کی تھی، اب وہ بتدریج کمزور پڑ رہی ہے اور دنیا ایک زیادہ پیچیدہ، کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

 اس تبدیلی کی کئی واضح نشانیاں موجود ہیں، یورپی ممالک، خاص طور پر یورپی یونین (EU)، اب امریکی پالیسیوں کی آنکھ بند کر کے پیروی کرنے کے بجائے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری (strategic autonomy) پر زور دے رہے ہیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ہونے والا تاریخی آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) ہے، جسے "تمام معاہدوں کی ماں" قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ سابق صدر ٹرمپ کی "امریکہ سب سے پہلے" پالیسی کے تحت بھارت پر ٹیرف بڑھا رہا تھا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ یورپ اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے واشنگٹن سے ہٹ کر فیصلے کرنے پر آمادہ ہے۔

چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ: کینیڈا اور کئی دیگر یورپی ممالک نے چین کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سیاسی روابط کو مضبوط کیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم کی جانب سے حال ہی میں چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں پیش رفت کو "زیادہ پیش قیاسی کے قابل" قرار دینا، امریکی دباؤ کے باوجود اقتصادی حقیقت پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور اس کے عالمی تجارتی حجم نے دنیا کے دیگر ممالک کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ امریکی دائرہ اثر سے باہر نکل کر بھی اہم شراکت داریاں قائم کر سکتے ہیں۔

نیکی کا معیار اور مسلم دنیا کی گمشدہ روح

سورۃ البقرہ کی آیت 177 قرآن مجید کی اُن جامع ترین آیات میں سے ہے جو دین کو محض عبادات، ظاہری علامات اور سمتوں تک محدود کرنے کے بجائے ایک مکمل فکری، اخلاقی، سماجی اور معاشی نظام کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ آیت اُس پس منظر میں نازل ہوئی جب قبلہ کی تبدیلی کو بنیاد بنا کر دین کی اصل روح کو پس منظر میں دھکیلا جا رہا تھا۔ قرآن نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ نیکی مشرق و مغرب کی طرف رخ کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ، آخرت، وحی اور نبوت پر ایمان، اس ایمان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سماجی احساس، مالی ایثار، اخلاقی دیانت اور مشکل حالات میں ثابت قدمی کا نام ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے آج کی مسلم دنیا کا بحران سمجھ میں آتا ہے۔

آج کی مسلم ریاستیں کاغذوں میں اسلامی ہیں، آئین میں اسلام درج ہے، جمعے کی تعطیل ہے، مساجد آباد ہیں، مگر ریاستی سطح پر عدل ناپید، امانت مفقود اور جواب دہی کا تصور کمزور ہے۔ اقتدار کو غنیمت، وسائل کو ذاتی ملکیت اور عوام کو محض رعایا سمجھا جاتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان محض عقیدہ نہیں بلکہ وہ اخلاقی قوت ہے جو حکمران کو ظالم بننے سے روکتی ہے، اداروں کو دیانت سکھاتی ہے اور ریاست کو عوام کی خدمت پر مجبور کرتی ہے۔ جہاں عدل نہ ہو وہاں قبلہ درست ہونے کے باوجود نیکی کا دعویٰ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔

اسی آیت میں نیکی کا دوسرا بڑا معیار مال کا درست مصرف ہے۔ قرآن رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور محروم طبقات کا ذکر کر کے دراصل ایک معاشی فلسفہ پیش کرتا ہے، جس کی بنیاد دولت کی گردش اور سماجی توازن پر ہے۔ مگر آج مسلم معاشروں میں دولت چند خاندانوں اور طبقوں میں سمٹ چکی ہے، جبکہ اکثریت مہنگائی، بے روزگاری اور قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ زکوٰۃ موجود ہے مگر نظام نہیں، صدقات ہیں مگر ریاستی سطح پر سماجی انصاف کا کوئی مضبوط ڈھانچہ نظر نہیں آتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ عبادت گاہوں کے سائے میں بھوک، افلاس اور محرومی پل رہی ہے، جو قرآن کے تصورِ نیکی سے صریح انحراف ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم (WEF) 2026: مکالمے کی روح یا عالمی تضادات کی نمائش؟

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں 19 سے 23 جنوری 2026 تک منعقد ہونے والا ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کا 56 واں سالانہ اجلاس بظاہر ایک نہایت خوش آئند نعرے—“مکالمے کی روح” (A Spirit of Dialogue)—کے ساتھ عالمی رہنماؤں، کارپوریٹ ایگزیکٹوز اور پالیسی سازوں کو ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ عالمی حالات میں یہ روح واقعی سانس لے سکتی ہے، یا یہ محض ایک خوش نما تصور بن کر رہ گئی ہے؟

دنیا اس وقت جس شدت کے سیاسی، عسکری اور معاشی خلفشار سے گزر رہی ہے، اس کے تناظر میں ڈیووس کے بلند بانگ مقاصد حقیقت سے زیادہ خواہشات کا عکس دکھائی دیتے ہیں۔

فورم کے پروگرام کو پانچ بڑے عالمی چیلنجوں کے گرد ترتیب دیا گیا، جن میں بلاشبہ انسانی مستقبل سے جڑے بنیادی سوالات شامل تھے۔

جغرافیائی کشیدگی کے باوجود تعاون، معاشی ترقی کے نئے ذرائع، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز کا ذمہ دارانہ استعمال، اور ماحولیاتی حدود کے اندر خوشحالی—یہ سب ایسے موضوعات ہیں جن پر عالمی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔

پردے کے اُس پار۔۔۔۔

وہ دروازہ جسے کھولا نہیں گیا— بس دکھا دیا گیا۔ فضا رک سی گئی۔ آگ نظر نہ آتی تھی، مگر اس کی موجودگی روح پر وزن بن کر اتر رہی تھی۔

یہاں کوئی اعلان نہ تھا، کوئی شور نہیں— صرف انجام اپنی پوری سچائی کے ساتھ موجود تھا۔

پہلے وہ لوگ دکھائی دیے جن کی زبانیں ان کے وجود سے الگ ہو کر لٹک رہی تھیں۔

وہ بول نہیں رہے تھے، کیونکہ ان کے لفظ اب ان کے خلاف گواہی بن چکے تھے۔

ان کے چہرے مانوس تھے— جیسے وہ زمین پر ہر روز ملتے ہوں۔

پھر ایک اور گروہ نظر آیا— پیٹوں میں بوجھ بھرے، ہاتھوں میں وہی کچھ اٹھائے جو وہ دنیا میں جمع کرتے رہے تھے۔

وہ کھا رہے تھے، اور وہی اندر آگ بن جاتا تھا۔
کوئی ان پر ظلم نہ کر رہا تھا—وہ خود اپنے عمل میں قید تھے۔

ذرا آگےایک اور منظر تھا— جہاں آگ نہیں، شرمندگی جل رہی تھی۔

نگاہیں جھکی ہوئی، جسم بے ترتیب، قربت بھی عذاب بن چکی تھی۔

یہ وہ تھے جنہوں نے حد کو بوجھ سمجھا، اور خواہش کو قانون۔

پھر چند اور چہرے اجمال میں دکھائے گئے—کسی کے سرپتھروں سے کچلے جا رہے تھے
کیونکہ سجدہ ان پر بھاری تھا۔

کسی کے ہونٹوں میں انگارے ڈالے جا رہے تھے کیونکہ وہ کمزور کا حق نگل گئے تھے۔

کسی کے سامنے پاک گوشت رکھا تھا، مگر وہ سڑا ہوا چن رہے تھے— کیونکہ عادت ذوق بن چکی تھی۔

یہ سب ناموں کے بغیر تھا، کیونکہ یہاں نام نہیں کردار بولتے تھے۔

اور اس سب کے سامنے نبی ﷺ کھڑے تھے— نہ فیصلے سناتے ہوئے، نہ سوال اٹھاتے ہوئے—صرف گواہ۔

یہ سب اندر جانے کے لیے نہیں تھا، بلکہ زمین پر رک جانے کے لیے تھا۔

دروازہ بند رہا، مگر پیغام کھل چکا تھا— کہ جہنم اچانک نہیں آتی، وہ انسان کے ساتھ آہستہ آہستہ تیار ہوتی ہے۔

اور جو وقت پر رک جائے— اس کے لیے یہ سب صرف ایک منظر رہتا ہے۔

زندگی کیوں؟ — قرآنی فلسفۂ حیات اور جدید نوجوان کا فکری بحران

آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں آنکھ کھولتا ہے جہاں سب کچھ ہے، مگر زندگی کا جواب نہیں۔ اس کے ہاتھ میں موبائل ہے، ذہن میں معلومات کا سمندر ہے، مگر دل میں یہ سوال مستقل سر اٹھائے کھڑا ہے کہ آخر یہ سب کس لیے ہے؟ تعلیم، نوکری، کامیابی، محبت، آزادی — سب ہیں، مگر ان سب کے پیچھے کوئی واضح مقصد دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وہ فکری بحران ہے جس نے جدید انسان، خصوصاً نوجوان نسل کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔

جدید مادی اور الحادی فلسفۂ حیات نوجوان کو یہ بتاتا ہے کہ کائنات کسی منصوبے کا نتیجہ نہیں، زندگی ایک حادثہ ہے، اور انسان محض ارتقائی عمل کی پیداوار ہے۔ ایسے میں زندگی کا مقصد خود انسان کو گھڑنا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جو وجود خود بے مقصد ہو، وہ مقصد کہاں سے تراشے؟ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے نام پر بے سمتی، اور خود اختیاری کے نام پر ذہنی انتشار بڑھتا جا رہا ہے۔

قرآن اس فکری تاریکی میں زندگی کی ایک بالکل مختلف تعبیر پیش کرتا ہے۔ وہ انسان کو یہ نہیں کہتا کہ تم خود ساختہ وجود ہو، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ تم ارادۂ الٰہی کے تحت وجود میں آئے ہو۔ تمہاری زندگی کھیل یا اتفاق نہیں، بلکہ ایک امتحان ہے۔ یہاں ہر قدم، ہر نیت اور ہر جدوجہد معنی رکھتی ہے۔ یہی تصور انسان کے وجود کو وزن، وقار اور سمت عطا کرتا ہے۔

سورۂ الاسراء کی آیات (18 تا 21) میں قرآن نہایت سادہ مگر فیصلہ کن انداز میں دو طرزِ حیات سامنے رکھتا ہے۔ ایک وہ جو صرف العاجلہ کا طالب ہے، یعنی فوری فائدہ، فوری لذت اور فوری کامیابی۔ ایسا انسان بھی دنیا میں کچھ حاصل کر لیتا ہے، مگر قرآن واضح کر دیتا ہے کہ یہ عطا نہ مکمل ہے، نہ مستقل، اور نہ ہی کسی قدر و قیمت کی ضمانت۔ دوسری طرف وہ شخص ہے جو آخرت کو مقصد بنا کر جیتا ہے، ایمان کے ساتھ جدوجہد کرتا ہے، اور جس کی محنت کو خود اللہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہاں کامیابی کا معیار بدل جاتا ہے۔

"طاقت کے بل پر" چلنے والی دنیا اور امریکہ، چین اور روس کے درمیان غلبہ حاصل کرنے کی دوڑ

انتھنی زرچر، لورا بکر اور واٹیلی شوچنکو
عہدہ,بی بی سی 17 جنوری 2026


امریکی فورسز کی جانب سے کاراکس میں وینزویلا کے معزول صدر مادورو کو پکڑنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ’آج کے بعد مغربی کرہ میں امریکی برتری پر کوئی بھی سوال نہیں اٹھائے گا۔‘

اور ایسے میں جب ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن کی طاقت کا دعویٰ کر رہے ہیں، روس اور چین بھی اپنا حلقہ اثر پھیلانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کئی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تینوں ممالک ایک نیا عالمی نظام (گلوبل آرڈر) لانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا یورپ اور دیگر عالمی طاقتوں پر گہرا اثر پڑے گا۔

اس مضمون میں ہم یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیسے امریکہ، چین اور روس نہ صرف اپنے ہمسایوں بلکہ اپنی سرحدوں سے کہیں دور واقع ممالک پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے فوجی، معاشی اور سیاسی ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔

امریکہ دنیا کو ’اپنی طاقت کے بل پر چلانا چاہتا ہے‘


ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی حکمت عملیوں کو ایک نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے جس کا محور مغربی کرہ ہے۔

ٹرمپ کی یہ حکمتِ عملی ڈیموکریٹ اور ریپبلکن دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے حالیہ امریکی صدور سے یکسر مختلف ہے، جنھوں نے امریکی طاقت اور اختیار کے بارے میں زیادہ عالمی نظریہ اپنایا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کے مطابق یہ ایسی خارجہ پالیسی ہے جو ’سب سے پہلے امریکہ‘ کے نظریے کے گرد گھومتی ہے اور یہ ایسے مسائل پر زیادہ توجہ دیتی ہے جن سے امریکی عوام براہِ راست متاثر ہوتے ہیں، جیسے کہ امیگریشن، جرائم اور منشیات کی سمگلنگ۔

حال ہی میں ٹرمپ کے سینیئر مشیر سٹیفن ملر نے کہا ہے کہ یہ ایک ایسی دنیا ہے جو کہ طاقت کے بل پر چلتی ہے۔ ان کے اِس بیان کا موازنہ ہنری کسنجر اور رچرڈ نکسن کی 1960 اور 1970 کی دہائی کی عملی، غیر نظریاتی خارجہ پالیسی سے کی جا سکتا ہے۔

کیا معاشی ترقی دین کے خلاف ہے؟

ہمارے معاشرے میں خصوصاً بعض دیندار حلقوں میں یہ تصور جڑ پکڑ چکا ہے کہ مالی آزادی، معاشی ترقی اور دنیاوی جدوجہد شاید دین کے منافی ہیں، یا کم از کم یہ کہ ان امور میں حد سے زیادہ دلچسپی روحانیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ سوچ بظاہر تقویٰ کے غلبے کا تاثر دیتی ہے، لیکن اگر قرآنِ حکیم کی تعلیمات کو سنجیدگی سے پڑھا جائے تو یہ تصور نہ صرف کمزور بلکہ صریحاً غلط ثابت ہوتا ہے۔

قرآن انسان کو محض عبادت گاہوں تک محدود مخلوق نہیں بناتا، بلکہ اسے زمین پر خلیفہ قرار دیتا ہے۔ خلافت کا مفہوم صرف اخلاقی یا روحانی نہیں بلکہ معاشی، تمدنی اور عملی ذمہ داریوں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے:

“هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ”
(الملک: 15)

“وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے تابع بنا دیا، پس اس کے راستوں میں چلو پھرو اور اللہ کا رزق کھاؤ۔”

یہ آیت اس بنیادی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رزق کے حصول کے لیے حرکت، جدوجہد اور اسباب اختیار کرنا عین مطلوبِ الٰہی ہے۔ قرآن کسی ایسے تصوف یا دینداری کی تائید نہیں کرتا جو انسان کو دنیا سے کاٹ دے، محنت سے روک دے یا معاشی ذمہ داریوں سے فرار کی ترغیب دے۔

درحقیقت، مالی جدوجہد انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ قرآن کہتا ہے:

“أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ”
(الملک: 22)

یعنی زندگی سیدھے راستے پر توازن کے ساتھ چلنے کا نام ہے، نہ کہ ایک پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کر دینا۔ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ اسباب کے بغیر زندگی گزار سکتا ہے، وہ دراصل اللہ کے بنائے ہوئے نظامِ اسباب سے بغاوت کرتا ہے۔ دنیا دارالاسباب ہے، اور اس حقیقت کو جھٹلانا تقدس نہیں بلکہ فطرت سے انکار ہے۔

نبی کریم ﷺ کی عملی زندگی بھی اس حقیقت کی سب سے روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ نے تجارت کی، صحابہؓ کو محنت کی ترغیب دی، اور یہ اصول دیا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ حضرت عمرؓ کا وہ مشہور قول بھی اسی ذہنیت کی اصلاح کرتا ہے کہ “میں اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں جو دین یا دنیا کے کام میں سست ہو۔”

اصل مسئلہ دولت نہیں، بلکہ دولت کا مقصد ہے۔ اسلام دولت جمع کرنے سے نہیں روکتا، بلکہ اسے ظلم، استحصال، غرور اور غفلت کا ذریعہ بنانے سے روکتا ہے۔ قرآن توازن سکھاتا ہے:

“وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا”
(القصص: 77)

یعنی آخرت کو مقصد بناؤ، مگر دنیا کے حصے کو مت بھولو۔ یہی اسلامی معاشی فکر کا خلاصہ ہے۔

آج امتِ مسلمہ جن بحرانوں سے دوچار ہے، ان میں ایک بڑی وجہ معاشی کمزوری بھی ہے۔ غربت، محتاجی اور مالی انحصار نہ صرف فرد کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں بلکہ اجتماعی سطح پر امت کو دوسروں کا محتاج بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں مالی خود کفالت اور ترقی کو دین کے خلاف سمجھنا ایک فکری خودکشی کے مترادف ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ دیندار ذہن یہ سمجھے کہ حلال ذرائع سے معاشی جدوجہد عبادت کے منافی نہیں بلکہ اس کا تسلسل ہے۔ مضبوط معیشت کے بغیر مضبوط اخلاق، آزاد فکر اور باوقار دین داری کا تصور ادھورا ہے۔

اسلام ہمیں ترکِ دنیا نہیں، تعمیرِ دنیا مع الآخرة سکھاتا ہے۔ یہی توازن اگر دوبارہ زندہ ہو جائے تو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی ایک باوقار، خودمختار اور باعمل مسلم معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔

ارادہ و مشیتِ الٰہی — قرآنی تصور اور ملحدانہ اعتراضات

جدید انسان کا سب سے بڑا فکری بحران یہ ہے کہ وہ ایک طرف سائنسی قوانین کی سختی میں جکڑا ہوا ہے اور دوسری طرف اخلاقی آزادی کا دعویٰ بھی رکھتا ہے۔ یہی کشمکش اسے اس سوال تک لے آتی ہے: اگر سب کچھ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے تو انسان کا اختیار محض ایک فریب کیوں نہ سمجھا جائے؟
ملحدانہ فکر اسی نکتے کو بنیاد بنا کر مذہب، خصوصاً اسلامی تصورِ تقدیر پر یہ اعتراض اٹھاتی ہے کہ یہ انسان کو جبری مخلوق بنا دیتا ہے۔

قرآن اس اشکال کو سرسری نہیں لیتا بلکہ اسے فکری گہرائی کے ساتھ حل کرتا ہے—اور یہ حل ارادہ اور مشیت کے فرق میں پوشیدہ ہے۔

مشیت: کائناتی قانون یا خدائی جبر؟ 
 
ملحدین کا پہلا اعتراض یہ ہے کہ اگر کوئی عمل اللہ کی مشیت کے بغیر ممکن نہیں تو پھر گناہ پر سزا اور نیکی پر جزا غیر منصفانہ ہے۔
قرآن اس اعتراض کا جواب یہ دے کر دیتا ہے کہ مشیت کا تعلق وقوع سے ہے، انتخاب سے نہیں۔

کوانٹم کمپیوٹنگ: سہولت، طاقت اور خدشات کا نیا دور

انسانی تاریخ میں ہر بڑی ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بھی بنایا اور خطرناک بھی۔ بھاپ کے انجن سے لے کر ایٹمی توانائی تک، ہر ایجاد نے ترقی کے ساتھ تباہی کے امکانات بھی پیدا کیے۔ آج کوانٹم کمپیوٹنگ اسی سلسلے کی ایک نئی اور کہیں زیادہ طاقتور کڑی کے طور پر ابھر رہی ہے۔ بظاہر یہ ٹیکنالوجی بیماریوں کے علاج، موسم کی پیش گوئی اور معاشی منصوبہ بندی میں انقلاب لا سکتی ہے، مگر اس کے سائے میں کچھ ایسے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں جو مستقبل کے نظامِ زندگی، بالخصوص مالیاتی نظام اور انسانی پرائیویسی کے لیے سنجیدہ خطرات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹر کی اصل طاقت اس کی غیر معمولی حسابی رفتار ہے۔ جو کام آج کے سپر کمپیوٹرز کو ہزاروں سال میں ممکن ہیں، وہ کوانٹم مشینیں چند منٹوں یا گھنٹوں میں انجام دے سکتی ہیں۔ یہی طاقت مالیاتی نظام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ دنیا کا موجودہ بینکاری اور ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام خفیہ کاری (Encryption) پر قائم ہے۔ یہ خفیہ کاری اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ بعض ریاضیاتی مسائل کو حل کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ لیکن کوانٹم الگورتھمز، خصوصاً بڑے نمبرز کو توڑنے کی صلاحیت، اس مفروضے کو متزلزل کر رہے ہیں۔ اگر کوانٹم کمپیوٹرز عام ہو گئے تو بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز اور حتیٰ کہ ریاستی مالیاتی خزانے بھی غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔

کوانٹم فزکس اور قرآن مجید : یقین، امکان اور حقیقت کے نئے افق

جدید سائنس نے جب مادّے کی تہہ میں جھانکنا شروع کیا تو وہاں کوئی ٹھوس یقین نہیں، بلکہ امکانات، احتمالات اور غیر یقینی کی ایک حیرت انگیز دنیا آباد ملی۔ کوانٹم فزکس نے انسان کے اس قدیم تصور کو چیلنج کر دیا کہ کائنات ایک سیدھی، سادہ اور مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی مشین ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ ذرّہ کہاں ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کہاں کہاں ہو سکتا ہے۔ یہی نکتہ وہ دروازہ ہے جہاں سے سائنس، فلسفہ اور قرآنی فکر کے درمیان ایک بامعنی مکالمہ شروع ہوتا ہے۔

قرآن انسان کو بار بار اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ حقیقت محض وہ نہیں جو آنکھ دیکھ لے یا ہاتھ چھو لے۔ “وما أوتيتم من العلم إلا قليلا”—تمہیں علم میں سے بہت ہی تھوڑا دیا گیا ہے۔ یہ آیت محض تواضعِ علم کی تلقین نہیں، بلکہ انسانی شعور کی حد بندی کا اعلان ہے۔ کوانٹم فزکس بھی اپنے تمام سائنسی جلال کے باوجود اسی نتیجے پر پہنچتی ہے کہ مشاہدہ کرنے والا خود حقیقت کا حصہ بن جاتا ہے، اور مکمل یقین محض ایک وہم ہے۔

کوانٹم نظریہ کہتا ہے کہ کسی ذرّے کی پوزیشن اور رفتار کو بیک وقت قطعی طور پر نہیں جانا جا سکتا۔ یہ غیر یقینی کوئی تکنیکی کمزوری نہیں، بلکہ فطرت کا بنیادی اصول ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنی تصورِ تقدیر اور انسانی اختیار ایک نئے مفہوم کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ قرآن انسان کو اختیار دیتا ہے، مگر اس اختیار کو خدا کی مشیت کے دائرے میں رکھتا ہے۔ یوں نہ تو انسان مکمل مجبور ہے اور نہ ہی مکمل مختار—بالکل اسی طرح جیسے کوانٹم ذرّہ نہ مکمل متعین ہے نہ مکمل آزاد۔
کوانٹم فزکس کا ایک اور حیران کن تصور سپرپوزیشن ہے، جس کے مطابق ایک ذرّہ بیک وقت کئی حالتوں میں موجود ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ مشاہدہ اسے ایک حالت پر “منجمد” کر دے۔ قرآن اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے کہ اللہ “کل یومٍ هو في شأن” ہے—ہر آن ایک نئی شان میں ہے۔ کائنات جامد نہیں، مسلسل تخلیق کے عمل میں ہے۔ گویا حقیقت کوئی ایک جامد تصویر نہیں، بلکہ ایک زندہ، متحرک داستان ہے جو ہر لمحہ نئے معنی اختیار کر رہی ہے۔

پاکستان کی معاشی صورتِ حال 2025–2026: استحکام سے پائیدار ترقی تک

( اصلاحات، سرمایہ کاری کے مواقع اور مضبوط معیشت کی جانب سفر)

کسی بھی ملک کی معیشت کی نبض اس کے کاروباری سیکٹرز اور کمپنیوں کی کارکردگی میں دھڑکتی ہے۔ کمپنیاں محض منافع کمانے والے ادارے نہیں ہوتیں؛ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں، ٹیکس ادا کرتی ہیں، اور قومی پیداوار (GDP) میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کی تشکیل، آپریشنل حکمت عملی، اور سرمایہ حاصل کرنے کے طریقے (جیسے شیئرز جاری کرنا اور شیئر ہولڈرز سے سرمایہ حاصل کرنا) معاشی ترقی کے پہیے کو متحرک رکھتے ہیں۔
تاہم، انفرادی کمپنیوں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ، ایک مضبوط معیشت کے لیے حکومت کی جانب سے مؤثر مالیاتی نظم و نسق ضروری ہے۔
مالیاتی پالیسیوں کا کردار
حکومتیں اپنی معیشت کو مالیاتی پالیسی (Fiscal Policy) اور زرِ مالیاتی پالیسی (Monetary Policy) کے ذریعے منظم کرتی ہیں۔ مالیاتی پالیسی حکومت کے محصولات (ٹیکس) اور اخراجات کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ زرِ مالیاتی پالیسی (جس کا انتظام مرکزی بینک کرتا ہے) شرح سود اور پیسوں کی رسد کو سنبھالتی ہے۔ یہ پالیسیاں معیشت میں استحکام لانے، مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

قرآن مجید : جدید معیشت اورتجارت

قرآن کی نظر میں دولت: صرف فتنہ نہیں، بلکہ خیر و فضل بھی ہے ۔

عام مذہبی بیانیے میں دولت کو اکثر روحانیت کے مقابل لا کھڑا کیا جاتا ہے، گویا غربت تقویٰ کی علامت اور خوشحالی دین کے منافی ہو۔ مگر جب ہم قرآن کو براہِ راست پڑھتے ہیں تو ایک بالکل مختلف، متوازن اور حقیقت پسندانہ تصور سامنے آتا ہے۔ قرآن دولت کو نہ صرف انسانی زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت مانتا ہے بلکہ کئی مقامات پر اسے خیر، فضل اور نعمت کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے۔
قرآن مجید اور جدید معیشت وتجارت 

سورۂ جمعہ میں نمازِ جمعہ کے بعد فرمایا جاتا ہے:
“جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو”۔
یہاں “فضل” سے مراد واضح طور پر رزق، تجارت اور معاشی جدوجہد ہے۔ غور کیجیے، قرآن عبادت اور معیشت کو آمنے سامنے نہیں بلکہ ایک ہی نظمِ زندگی کے دو پہلو قرار دیتا ہے۔

اسی طرح سورۂ عادیات میں انسان کی ایک نفسیاتی کمزوری بیان کی گئی ہے:
“اور بے شک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے”۔
یہاں بھی مال کو گناہ نہیں کہا گیا، بلکہ مال کی محبت میں شدت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گویا مسئلہ دولت نہیں، بلکہ اس کا دل پر قابض ہو جانا ہے۔

قرآن جگہ جگہ مال کو “خیر” کہتا ہے، جیسا کہ وراثت کے احکام میں:
“اگر وہ کچھ مال (خیر) چھوڑے”۔
یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ قرآن کی نظر میں مال بذاتِ خود شر نہیں بلکہ خیر ہے، بشرطیکہ وہ صحیح طریقے سے حاصل کیا جائے اور درست مصرف میں لایا جائے۔

معاشی جدوجہد کے حوالے سے قرآن کا لہجہ غیر معمولی طور پر مثبت ہے۔ وہ انسان کو زمین میں محنت کرنے، وسائل کو بروئے کار لانے اور رزق تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تجارت کو ناپسندیدہ مشغلہ نہیں بلکہ ایک فطری اور جائز سرگرمی قرار دیتا ہے، حتیٰ کہ حج جیسے عظیم روحانی عمل کے دوران بھی تجارت کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ دین، زندگی سے فرار نہیں بلکہ زندگی کی تنظیم ہے۔

وارن بفٹ: اپنے شیئر ہولڈز کو 61 لاکھ فیصد منافع دلانے والے ’دنیا کے بڑے سرمایہ کار‘ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

وارن بفٹ
فنانس کی دنیا کے ’لیجنڈ‘ وارن بفٹ 95 سال کی عمر میں ریٹائر ہو گئے ہیں۔

یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس نے صرف 11 سال کی عمر میں پہلی بار سرمایہ کاری کی اور 13 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے تھے۔

وارن بفٹ گذشتہ چھ دہائیوں تک اپنی کمپنی ’برکشائر ہیتھاوے‘ کے سی ای او رہے۔ اور اس دورانیے میں اُن کی اِس کمپنی کے شیئر ہولڈرز نے لگ بھگ 61 لاکھ فیصد منافع کمایا ہے۔

ریاست ’اوماہا‘ میں قائم اپنی کمپنی کے ذریعے انھوں نے امریکہ سمیت دنیا بھر کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی اور آج کی تاریخ میں اس کمپنی کی قدر 10 کھرب ڈالر ہے جبکہ بفٹ کو دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔
فاربز میگزین کی فہرست کے مطابق وہ سنہ 2025 میں دنیا کے چھٹے امیر ترین شخص ہیں جن کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 154 ارب ڈالر بنتی ہے۔

دنیا کے مشہور سرمایہ کاروں کے تجربات اور تجاویز مالیاتی کامیابی کا درست راستہ

سرمایہ کاری محض اعداد و شمار، گراف یا وقتی منافع کا کھیل نہیں بلکہ یہ دراصل سوچ، صبر، نظم و ضبط اور طویل المدتی وژن کا امتحان ہے۔ دنیا کے عظیم سرمایہ کاروں کی زندگیوں اور تجربات کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی مالیاتی کامیابی کسی خفیہ نسخے یا پیچیدہ ریاضیاتی فارمولے کا نتیجہ نہیں، بلکہ چند سادہ مگر مضبوط اصولوں پر مستقل مزاجی سے عمل کرنے کا ثمر ہے۔

وارن بفیٹ (Warren Buffett)، رے ڈالیو (Ray Dalio) اور جان بوگل (John Bogle) جیسے عالمی شہرت یافتہ سرمایہ کار مختلف پس منظر اور حکمتِ عملی کے حامل ہونے کے باوجود کچھ بنیادی اصولوں پر متفق نظر آتے ہیں۔ ان کے تجربات نئے سرمایہ کاروں کے لیے رہنمائی کا چراغ اور تجربہ کار سرمایہ کاروں کے لیے فکری تجدید کا ذریعہ ہیں۔

وارن بفیٹ: قدر، صبر اور فہمِ کاروبار کا امتزاج

وارن بفیٹ، جنہیں دنیا “Oracle of Omaha” کے نام سے جانتی ہے، قدر کی سرمایہ کاری (Value Investing) کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ ان کا فلسفہ اس تصور پر قائم ہے کہ اسٹاک دراصل کسی کاروبار میں شراکت داری ہے، محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں۔
1. طویل مدتی سوچ (Long-Term Vision)

بفیٹ کا مشہور قول ہے:

ٹیکنالوجی کی بلندی اور دولت کا ارتکاز: 2025 کی عالمی معیشت پر چند افراد اور خاندان کا راج

2025 میں عالمی معیشت پر نظر ڈالیں تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے: دولت کا ایک بڑا حصہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہو چکا ہے۔ بلومبرگ اور فوربز کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، دنیا کے دس امیر ترین افراد کی مجموعی دولت کھربوں ڈالرز میں ہے، اور ان میں سے اکثریت کا تعلق ٹیکنالوجی کی صنعت سے ہے۔ ان افراد کی دولت میں اکثر ان کی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے روزانہ نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

ٹیکنالوجی کا غلبہ:

2025 کی فہرست میں سرفہرست شخصیات میں ٹیکنالوجی سیکٹر کا غلبہ ہے۔ ایلون مسک، جیف بیزوس، مارک زکربرگ، لیری پیج، اور سرگے برن جیسی شخصیات نے اپنی اختراعات اور کاروباری سلطنتوں کے ذریعے بے پناہ دولت کمائی ہے۔ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک ایک بار پھر دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز رکھتے ہیں، جن کی دولت کا تخمینہ لگ بھگ 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ ان کی دولت میں اضافہ ٹیسلا کی روبوٹیکسی لانچ کی خبروں اور اسپیس ایکس کی قدر میں اضافے کا نتیجہ ہے۔

پاکستان کے امیر ترین خاندان: 2025 کا معاشی منظرنامہ اور طبقاتی خلیج

پاکستان میں معاشی منظرنامہ 2025 ء کو دیکھتے ہوئے، ایک اہم پہلو جو مسلسل زیر بحث ہے وہ دولت کی تقسیم اور طبقاتی خلیج ہے۔ مختلف معاشی رپورٹس اور تجزیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کی معاشی ترقی کے ثمرات تمام طبقات تک یکساں طور پر نہیں پہنچ رہے، بلکہ دولت کا ارتکاز چند مخصوص، طاقتور کاروباری خاندانوں کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔
2025  کے معاشی اشاریوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معیشت کے کچھ شعبوں میں نمو دیکھنے میں آئی ہے، لیکن اس نمو کا فائدہ معاشرے کے ایک محدود حصے تک ہی پہنچا ہے۔ اس وقت ملک کی معاشی نبض پر جن افراد اور گروہوں کا کنٹرول نمایاں ہے، ان میں سر انور پرویز (بیسٹ وے گروپ)، میاں محمد منشا (نشاط گروپ)، اور یونس برادرز جیسے نام سرفہرست ہیں۔ یہ گروہ ٹیکسٹائل، سیمنٹ، بینکنگ، اور توانائی جیسے بنیادی شعبوں پر حاوی ہیں۔

دولت کا ارتکاز اور استحکام:

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 2025 کی فہرستوں میں کوئی خاص "نئے" نام شامل نہیں ہوئے ہیں۔ جو لوگ امیر تھے، وہ مزید امیر ہوئے ہیں۔ پرانے اور مسلسل نمایاں رہنے والے خاندانوں میں حبیب فیملی، داؤد فیملی اور سید بابر علی (پیکجز گروپ) شامل ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی نژاد ارب پتی، جیسے شاہد خان (فلیکس-این-گیٹ)، بھی عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مستحکم کیے ہوئے ہیں۔